- کتاب فہرست 180336
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
بیگ احساس کے افسانے
دخمہ
سامنے سہرا ب کی نعش تھی اور اس کے پیچھے دو دو پارسی سفید لباس پہنے ہاتھ میں پیوند کا کنارہ پکڑے خاموشی سے چل رہے تھے۔ ان کے پیچھے ہم لوگ تھے۔ ’’دخمہ‘‘ کی گیٹ پر ہم لوگ رک گیے۔ ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ میں نے ماحول کا جائزہ لیا۔ سب کچھ ویسا
رنگ کا سایہ
ہم اسی جگہ جا رہے تھے جہاں سے ہمیں راتوں رات افرا تفری کے عالم میں بھاگنا پڑا تھا۔ امّی کا تو صرف جسم ساتھ آیا تھا روح شاید وہیں بھٹک رہی تھی۔ پھر جسم بھی اس قابل نہیں رہا کہ ان کے وجود کا بار اٹھا سکتا۔ آج اس جسم کو اسی زمین کے سپرد کرنا تھا۔ ویان
چکرویو
دھرت راشٹر نے پوچھا۔ ’’اے سنجے مجھے بتاؤ اتنے سارے لوگ اپنے اپنے ہاتھوں میں ہتھیار اٹھائے اس سرزمین پر کیا کر رہے ہیں؟‘‘ سنجے جواب دیا۔ ’’اے دھرت راشٹر۔ وہ لوگ ایک جاتی کو نشٹ کر دینا چاہتے ہیں۔ انھیں صفحۂ ہستی سے مٹادینا چاہتے ہیں‘‘۔ ’’کیا
اجنبی اجنبی
جہاں زمین سے قریب ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے وجود میں اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ بس چند لمحے۔ چند لمحوں بعد اجنبیت کا بوجھ جو پچھلے چاربرسوں سے وہ اپنے کندھوں پراٹھائے پھر رہا ہے، اتار پھینکے گا۔ چار برس پہلے اس نے اپنی شناخت کھودی تھی اورپیسہ ڈھالنے کی
کرفیو
خوفناک عفریت نے پھر زندگی کے بدن میں اپنے ناخن گاڑ دیئے۔ زخموں سے خون ابلنے لگا۔ وہ سب وحشت زدہ جانوروں کی طرح سڑک پر نکل آئے۔ عمارتوں اور انسانوں کے اس جنگل میں غراتی پھرنے والی دیوہیکل جانوروں جیسی بسیں آگ اور پتھراؤ کے خوف سے جیسے غاروں میں جا چھپی
شکستہ پر
دس برس بعد سمیر اور سشما کی ملاقات ہوئی تو دونوں نے شادی کا فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی اور ایک روز چپکے سے شادی بھی کر لی۔ ان برسوں میں دور رہ کر دونوں کافی کچھ کھو چکے تھے۔ سشما نے جب اپنی ممی کو شادی کی بات بتائی تو انھوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ
خس آتش سوار
سورج نکلنے میں دیر تھی۔ گرودیو نے آنکھیں موندے موندے سوچا وہ سب اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوں گے۔ دو گھنٹے بعد وہ میڈٹیشن ہال میں جمع ہو جائیں گے۔ آج انھیں لکچر دینا تھا۔ انھیں اس بات کا اچھی طرح احساس تھا کہ ان کے پاس ایسے الفاظ ہیں جو سننے والوں
سانسوں کے درمیان
وہ عجیب سی ذہنی حالت میں جی رہا تھا۔ ایسی حالت جس میں وہ معمول کے مطابق ہر عمل کررہا تھا لیکن وہ عمل اس کی یادداشت کا حصہ نہیں بن رہا تھا۔ خواب خواب کیفیت، جیسے بہت زیادہ نشے میں ہو سب کچھ یاد رہتا ہے لیکن کہیں کہیں درمیانی کڑیاں غائب ہوجاتی ہیں۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
