- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
بلراج ساہنی کا تعارف
بلراج ساہنی نے فلموں میں جو کردار ادا کیے، وہ ہیرو سے لے کر کریکٹر ایکٹر تک تھے اور ان کا ہر کردار اپنے آپ میں منفرد تھا۔ فلم سے بلراج ساہنی کا اوّلین تعارف زمانۂ طالبِ علمی میں ہوا تھا۔ کون جانتا تھا کہ آگے چل کر یہ بچّہ اسٹیج اور پھر بمبئی کی فلمی دنیا کا باکمال اداکار اور مصنّف بھی بنے گا۔ بلراج ساہنی ایک دردمند اور سماجی شعور رکھنے والے انسان مشہور تھے اور فن کی دنیا میں انھیں استاد کا درجہ حاصل تھا۔ بالی ووڈکےاس اداکار نے لگ بھگ ۱۳۰؍ فلموں میں اداکاری کےجوہر دکھائے۔ ۱۹۴۰ءسے لےکر ۱۹۷۰ءتک ۳؍ دہائیوں پر محیط فلمی سفر میں بلراج ساہنی کو سدا بہار اداکار کے طور پہچانا گیا۔ انہیں دھرتی کے لال(۱۹۴۶ء)، دو بیگھہ زمین(۱۹۵۳ء)، چھوٹی بہن (۱۹۵۹ء)، کابلی والا (۱۹۶۱ء)، وقت (۱۹۶۵ء) اور گرم ہوا(۱۹۷۳ء) جیسی فلموں کیلئے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
ایک روز بلراج کے اسکول میں اعلان ہوا کہ شہر میں بائی سکوپ آئی ہے۔ طالبِ علموں کے لیے ٹکٹ کی قیمت آدھی ہے۔ بچّوں کو والدین اجازت دیں تو تفریح کا شوق پورا کرسکتے ہیں۔ بلراج اور ان کا بھائی ایک ہی اسکول میں زیرِ تعلیم تھے۔ وہ اسکول سے گھر لوٹےتو بلراج نے اپنی ماں سے خواہش کا اظہار کیا اوربات بن گئی۔ انھیں نہ صرف اجازت ملی بلکہ ماں نے ٹکٹ کے پیسے بھی دے دیے۔ وہ خاموش فلموں کا زمانہ تھا۔ اسکرین پر نظریں جمائے شائقین کے کانوں میں اس شخص کی آواز حسبِ موقع پڑتی رہتی تھی جو فلم کے سین کے مطابق اوراداکاروں کے پردے پر نمودار ہونےپرکمنٹری کرتا رہتاتھا۔ یوں فلم کی کہانی اور آرٹسٹوں کے تاثرات شائقین پر کھلتے جاتے اور وہ محظوظ ہوتے تھے۔
بلراج ساہنی کا جنم یکم مئی۱۹۱۳ءکوراولپنڈی میں ہواتھا، جو تقسیم وطن کے بعد اب پاکستان میں ہے۔ انہوں نےلاہور کے گورنمنٹ کالج اور گورڈن کالج سے تعلیم حاصل کی۔ بلراج ساہنی کی تعلیم ایم۔ اے انگریزی تک ہونے کے بعد ان کے والد ہربنس لال ساہنی نے ان کو اپنے کپڑے کے کاروبار میں شامل کر لیا۔ شادی کے بعد۱۹۳۷ءمیں بلراج ساہنی نے والد اور چھوٹے بھائی بھیشم ساہنی کو کاروبار اور دفتر کی ذمے داریاں سونپ کر گھر والوں سے الوداع کہا اور اپنی بیوی دمینتی کے ساتھ کولکاتہ میں رابندر ناتھ ٹیگور کے شانتی نکیتن چلے گئے، جہاں انھوں نےہندی اور انگریزی کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ۱۹۳۸ء میں ایک سال تک وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ بھی رہے اور پھر بی بی سی کی ہندی خدمات میں انائونسرکے طور پر کام کرنے کیلئے لندن چلے گئے۔ وہ ۱۹۴۳ء میں ہندوستان لوٹے اور ۱۹۴۷ء میں ان کی بیوی کا ۲۶؍سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ۱۹۵۱ء میں انہوں نے سنتوش چنڈوک سے شادی کی جو ۱۹۷۳ء میں ان کے انتقال تک ان کے ساتھ رہیں۔
انہوں نے اداکاری کا آغاز انڈین پیوپلز تھیٹر اسوسی ایشن (اپٹا) سےکیا۔ جبکہ ان کی پہلی فلم انصاف (۱۹۴۶ء) تھی جبکہ دوسری فلم دھرتی کے لال تھی جس کے ہدایت کار خواجہ احمد عباس تھے۔ ۱۹۵۳ءمیں ریلیز ہونے والی فلم دو بیگھہ زمین زیادہ مقبول ہوئی جس نے کانز فلم فیسٹیول میں عالمی ایوارڈ جیتا تھا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
