- کتاب فہرست 180681
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1652 صحت108 تاریخ3342طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1143
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6696افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
بلراج ساہنی کا تعارف
بلراج ساہنی نے فلموں میں جو کردار ادا کیے، وہ ہیرو سے لے کر کریکٹر ایکٹر تک تھے اور ان کا ہر کردار اپنے آپ میں منفرد تھا۔ فلم سے بلراج ساہنی کا اوّلین تعارف زمانۂ طالبِ علمی میں ہوا تھا۔ کون جانتا تھا کہ آگے چل کر یہ بچّہ اسٹیج اور پھر بمبئی کی فلمی دنیا کا باکمال اداکار اور مصنّف بھی بنے گا۔ بلراج ساہنی ایک دردمند اور سماجی شعور رکھنے والے انسان مشہور تھے اور فن کی دنیا میں انھیں استاد کا درجہ حاصل تھا۔ بالی ووڈکےاس اداکار نے لگ بھگ ۱۳۰؍ فلموں میں اداکاری کےجوہر دکھائے۔ ۱۹۴۰ءسے لےکر ۱۹۷۰ءتک ۳؍ دہائیوں پر محیط فلمی سفر میں بلراج ساہنی کو سدا بہار اداکار کے طور پہچانا گیا۔ انہیں دھرتی کے لال(۱۹۴۶ء)، دو بیگھہ زمین(۱۹۵۳ء)، چھوٹی بہن (۱۹۵۹ء)، کابلی والا (۱۹۶۱ء)، وقت (۱۹۶۵ء) اور گرم ہوا(۱۹۷۳ء) جیسی فلموں کیلئے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
ایک روز بلراج کے اسکول میں اعلان ہوا کہ شہر میں بائی سکوپ آئی ہے۔ طالبِ علموں کے لیے ٹکٹ کی قیمت آدھی ہے۔ بچّوں کو والدین اجازت دیں تو تفریح کا شوق پورا کرسکتے ہیں۔ بلراج اور ان کا بھائی ایک ہی اسکول میں زیرِ تعلیم تھے۔ وہ اسکول سے گھر لوٹےتو بلراج نے اپنی ماں سے خواہش کا اظہار کیا اوربات بن گئی۔ انھیں نہ صرف اجازت ملی بلکہ ماں نے ٹکٹ کے پیسے بھی دے دیے۔ وہ خاموش فلموں کا زمانہ تھا۔ اسکرین پر نظریں جمائے شائقین کے کانوں میں اس شخص کی آواز حسبِ موقع پڑتی رہتی تھی جو فلم کے سین کے مطابق اوراداکاروں کے پردے پر نمودار ہونےپرکمنٹری کرتا رہتاتھا۔ یوں فلم کی کہانی اور آرٹسٹوں کے تاثرات شائقین پر کھلتے جاتے اور وہ محظوظ ہوتے تھے۔
بلراج ساہنی کا جنم یکم مئی۱۹۱۳ءکوراولپنڈی میں ہواتھا، جو تقسیم وطن کے بعد اب پاکستان میں ہے۔ انہوں نےلاہور کے گورنمنٹ کالج اور گورڈن کالج سے تعلیم حاصل کی۔ بلراج ساہنی کی تعلیم ایم۔ اے انگریزی تک ہونے کے بعد ان کے والد ہربنس لال ساہنی نے ان کو اپنے کپڑے کے کاروبار میں شامل کر لیا۔ شادی کے بعد۱۹۳۷ءمیں بلراج ساہنی نے والد اور چھوٹے بھائی بھیشم ساہنی کو کاروبار اور دفتر کی ذمے داریاں سونپ کر گھر والوں سے الوداع کہا اور اپنی بیوی دمینتی کے ساتھ کولکاتہ میں رابندر ناتھ ٹیگور کے شانتی نکیتن چلے گئے، جہاں انھوں نےہندی اور انگریزی کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ۱۹۳۸ء میں ایک سال تک وہ مہاتما گاندھی کے ساتھ بھی رہے اور پھر بی بی سی کی ہندی خدمات میں انائونسرکے طور پر کام کرنے کیلئے لندن چلے گئے۔ وہ ۱۹۴۳ء میں ہندوستان لوٹے اور ۱۹۴۷ء میں ان کی بیوی کا ۲۶؍سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ ۱۹۵۱ء میں انہوں نے سنتوش چنڈوک سے شادی کی جو ۱۹۷۳ء میں ان کے انتقال تک ان کے ساتھ رہیں۔
انہوں نے اداکاری کا آغاز انڈین پیوپلز تھیٹر اسوسی ایشن (اپٹا) سےکیا۔ جبکہ ان کی پہلی فلم انصاف (۱۹۴۶ء) تھی جبکہ دوسری فلم دھرتی کے لال تھی جس کے ہدایت کار خواجہ احمد عباس تھے۔ ۱۹۵۳ءمیں ریلیز ہونے والی فلم دو بیگھہ زمین زیادہ مقبول ہوئی جس نے کانز فلم فیسٹیول میں عالمی ایوارڈ جیتا تھا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
-
