- کتاب فہرست 178116
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
بانو قدسیہ کا تعارف
تخلص : 'بانو قدسیہ'
اصلی نام : قدسیہ چٹھہ
پیدائش : 28 Nov 1928 | فیروز پور, پنجاب
وفات : 04 Feb 2017 | لاہور, پنجاب
رشتہ داروں : اشفاق احمد (شوہر)
شناخت: ممتاز فکشن نگار، ڈراما نویس، روحانی مفکرہ اور ’’راجہ گدھ‘‘ کی مصنفہ
بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو برطانوی ہندوستان کے شہر فیروزپور میں ایک تعلیم یافتہ مسلم جٹ خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام قدسیہ چٹھہ تھا۔ اُن کے والد چوہدری بدرالزماں چٹھہ زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ جبکہ والدہ برطانوی ہندوستان میں انسپکٹر آف اسکولز تھیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور منتقل ہوگئیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے 1951ء میں اردو ادب میں ایم اے کیا۔
گورنمنٹ کالج ہی میں ان کی ملاقات ممتاز ادیب اشفاق احمد سے ہوئی، جن سے بعد میں ان کی شادی ہوئی۔ یہ جوڑا ادبی دنیا میں ایک مثالی اور روحانی وابستگی رکھنے والے جوڑے کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
بانو قدسیہ کا شمار اردو ادب کی اُن ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے ناول، افسانہ، ڈراما اور فکری نثر کے ذریعے اردو ادب کو نئی معنویت عطا کی۔ ان کا شہرۂ آفاق ناول ’’راجہ گدھ‘‘ اردو ادب کا ایک کلاسیکی ناول سمجھا جاتا ہے، جس میں حلال و حرام، انسانی نفسیات، روحانی بحران اور معاشرتی اقدار جیسے موضوعات کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان میں بھی ڈرامے تحریر کیے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ’’آدھی بات‘‘، ’’ہوا کے نام‘‘، ’’صحرا‘‘ اور ’’خلیج‘‘ شامل ہیں۔ ’’آدھی بات‘‘ کو اردو ٹیلی وژن ڈرامے کی کلاسیکی تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے۔
بانو قدسیہ کی دیگر اہم تصانیف میں ’’حاصل گھاٹ‘‘، ’’ایک دن‘‘، ’’چہار چمن‘‘، ’’فٹ پاتھ کی گھاس‘‘، ’’آتشِ زیرِ پا‘‘ اور ’’چھوٹا شہر بڑے لوگ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر اشفاق احمد کی نامکمل سوانح ’’بابا صاحبا‘‘ کو مکمل کرتے ہوئے ’’راہِ رواں‘‘ تحریر کی، جس میں اشفاق احمد کی فکری اور روحانی شخصیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے قدرت اللہ شہاب پر ’’مردِ ابریشم‘‘ بھی لکھی، جو ادبی اور روحانی حلقوں میں خاصی مقبول ہوئی۔
بانو قدسیہ کی تحریروں میں روحانیت، اخلاقی اقدار، انسانی نفسیات، مشرقی تہذیب اور باطنی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کا اسلوب سادہ مگر فکری گہرائی سے بھرپور ہے، جس نے انہیں عوام اور خواص دونوں میں بے حد مقبول بنایا۔
ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ’’ستارۂ امتیاز‘‘، ’’ہلالِ امتیاز‘‘، ’’پی ٹی وی بیسٹ رائٹر ایوارڈ‘‘ اور ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
وفات: بانو قدسیہ کا انتقال 4 فروری 2017ء کو لاہور میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Bano_Qudsia
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
