- کتاب فہرست 189056
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1036 تعلیم393 مضامين و خاكه1557 قصہ / داستان1794 صحت109 تاریخ3630طنز و مزاح757 صحافت220 زبان و ادب1975 خطوط825
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات299 ناول5066 سیاسی377 مذہبیات5061 تحقیق و تنقید7445افسانہ3036 خاکے/ قلمی چہرے291 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب569 ترجمہ4624خواتین کی تحریریں6308-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1414
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1682
- کہہ مکرنی7
- کلیات693
- ماہیہ21
- مجموعہ5427
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1325
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
برکت اللہ پیمی کا تعارف
تخلص : 'عشقی'
اصلی نام : برکت اللہ
آپ کا نام برکت اللہ اور لقب صاحب البرکات تھا۔ 1660ء میں قصبہ بلگرام، ہردوئی میں پیدائش ہوئی۔ اپنے والد سید اویس اور دیگر اصحابب کے زیر سایہ تربیت پائی۔ صوفی مزاج ان کو اپنے اجداد سے وراثت میں ملا، والد نے اپنے وصال سے پہلے ہی ان کو سجادہ نشینی اور سلسلۂ آبائی کی اجازت عطا فرمائی تھی اور خلافت بھی بخشی تھی۔ ان کا تعلق چشتیہ، سہروردیہ اور قادریہ سلسلۂ تصوف سے تھا۔ برکت اللہ پیمی کے دادا نے مارہرہ کو اپنا وطن بنایا اور وہاں ایک خانقاہ بھی تعمیر کرائی۔ اپنے والد کے وصال کے بعد برکت اللہ نے مارہرہ کو اپنا مسکن بنایا اور اپنے دادا کی خانقاہ میں قیام پذیر ہوئے لیکن کچھ شرارت پسند اور شدت پسند لوگوں کی ہم سائیگی ان کو پسند نہ آئی اور قصبہ سے باہر ایک جدید آبادی کی بنیاد ڈالی اور مسجد و خانقاہ کی تعمیر کرائی۔ اس جدید آبادی کا نام پیم نگر برکات نگری رکھا۔ حالاں کہ اب میاں کی بستی کے نام سے موسوم ہے۔ سید شاہ لطف اللہ سے ان کو بے حد عقیدت تھی۔ یہ اپنے دور کے مشہور و معروف عالم اور مفکر تھے ۔ ان کا بھی تعلق بلگرام سے ہی تھا۔ جب وہ مارہرہ تشریف لے گئے تو کالپی کے مشائخ سے غائبانہ عقیدت کی وجہ سے کالپی کا سفر کیا اور شاہ فضل اللہ کالپوی سے خلافت حاصل کی اور صاحب البرکات کا خطاب پایا۔ شاہ برکت اللہ تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، ریاضی، منطق، فلسفہ اور تاریخ و سیر میں اپنے زمانہ کے ایک جید عالم تھے۔ ادب، انشا اور شعرو سخن میں ایک بلند مرتبہ رکھتے تھے۔ بے مثل شاعر تھے۔ فارسی اور ہندوی دونوں زبانوں پر مہارت حاصل تھی ۔ دونوں زبان میں ان کے کلام موجود ہیں۔ فارسی میں عشقیؔ اور ہندوی میں پیمیؔ تخلص کیا کرتے تھے۔ ان کا ایک دیوان "پیم پرکاش" کے نام سے موجود ہے ۔اس کے علاوہ فارسی میں دیوان عشقی، چہار انواع، رسالۂ جواب و سوال، ریاض العاشقین، عوارف ہندی، بیاض باطن، بیاض ظاہر، وصیت نامہ، رسالۂ تکبیر اور تفسیر سورۃ ان کی دیگر تالیف ہیں۔ شاہ برکت اللہ کا وصال شب عاشورہ 10 محرم 1729ء کو مارہرہ میں ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
