- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ913 تعلیم341 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3270طنز و مزاح596 صحافت200 زبان و ادب1685 خطوط730
طرز زندگی30 طب972 تحریکات269 ناول4268 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6493افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب427 ترجمہ4210خواتین کی تحریریں5762-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1252
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1577
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ387
- مثنوی738
- مسدس44
- نعت586
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
بھیشم ساہنی کا تعارف
بھیشم ساہنی 8 0اگست 1915ء کو غیرمنقسم پنجاب کے راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ وہ ہندی فلم کے مشہور اداکار بلراج ساہنی کے چھوٹے بھائی تھے۔ انھوں نے لاہور کے گورنمنٹ کالج سے انگریزی ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی۔ بعد از اں وہ ذاکر حسین کالج، دلی اور دلی یونیورسٹی کے انگریزی شعبہ میں استاد بھی رہے۔
بھیشم ساہنی مصنف، کہانی نویس، ڈراما نگار اور اداکار تھے اور اپنے ناول اور ٹیلی ویژن اسکرین پلے ”تمس“ کے لیے مشہور تھے۔ یہ ناول تقسیمِ ہند کا ایک زبردست اور پرجوش بیانیہ تھا۔ انھیں 1969ء میں پدم شری اعزاز، 1981ء میں لوٹس انعام برائے ادب اور 1998ء میں پدم بھوشن سے نوازا گیا۔
بھیشم ساہنی کی کل بیس تصنیفات ہیں جن میں خاص خاص اس طرح ہیں۔ ”جھروکے“ یہ بھشم ساہنی کا پہلا اور انتہائی اہم ناول ہے جو 1967میں شائع ہوا۔ ”تمس“ (ناول) 1974ء اس ناول پر ساہتیہ اکاڈمی ایوار ڈ دیا گیا۔ ”بھاگیہ ریکھا“ 1953ء، ”بھٹکتی راکھ“ 1965ء، ”کہانیاں ہانوش“ 1977ء (ناٹک، مدھیہ پردیش ساہتیہ پریشد کا انعام)، ”بلراج میرا بھائی“1981 (انگریزی میں سوانح)، پچیس روسی کلاسک کا ہندی میں ترجمہ، کئی فن پاروں کا پنجابی اور انگریزی میں ترجمہ، ان کی مرتب کردہ تصنیفات میں ”ہندی کہانیاں“ اور ”کتنے ٹوبہ ٹیک سنگھ“(تقسیم وطن کی کہانیاں) معروف ہیں۔ بھیشم ساہنی ایک ممتاز ترقی پسند ادیب اور ہندی کہانی میں ترقی جحان کے معروف افسانہ نگار تھے۔
بھیشم ساہنی بنیادی طور پر کہانی کار تھے، اسی لئے ہندی کہانی کے میدان میں اُن دنوں کیا ہو رہا تھا، اِس پر اُن کی کافی گہری نظر تھی۔ اسی دوران اُن کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ ”بھٹکتی رات“ اور دو ناول ”جھروکھے“ اور ”کڑیاں“ شائع ہوئے۔ اُن کے تمام تخلیقی ادب پر منشی پریم چند اور یشپال جی کا گہرا اثر ہے۔ اُسی زمانے میں ایک خاص بات یہ ہوئی کہ بھیشم ساہنی کو’نئی کہانیاں‘ نام کے رسالے میں مدیر بنا دیا گیا۔ یہ رسالہ دہلی کے راج کمل پرکاشن سے شائع ہوتا تھا۔ اُس زمانے میں اِس ادارے کا کچھ تعلق ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی سے بھی تھا، جس کے نیتا پی سی جوشی ادب اور ثقافت کے معاملوں میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ بھیشم ساہنی نے ادارتی کام سنبھال لینے کے بعد یہ طے کیا کہ وہ کسی خاص گروپ کے ساتھ اپنی وابستگی نہیں رکھیں گے اور صرف کہانی کو ہی کہانی کا درجہ دیں گے۔ انہوں نے لگ بھگ ڈھائی برس تک ’نئی کہانیاں‘ کی ادارت کی۔
11؍جولائی 2003ء کو دہلی میں بھیشم ساہنی کی آتما نے جسم خاکی سے نجات حاصل کی اور وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
