- کتاب فہرست 180312
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1359 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1628 خطوط726
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4263 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6508افسانہ2664 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4193خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1247
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4861
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
بشری رحمن کا تعارف
شناخت: مقبول ناول نگار، افسانہ نگار، کالم نویس، سیاست دان اور ستارۂ امتیاز یافتہ ادیبہ
بشریٰ رحمن 29 اگست 1944ء کو بہاولپور، پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ وہ پاکستان کی اُن مقبول ادیباؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے ناول، افسانہ، کالم نگاری، شاعری، سفرنامہ اور ڈراما نویسی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے جامعہ پنجاب سے ایم اے صحافت کی ڈگری حاصل کی۔ 1960ء میں ان کی شادی صنعت کار میاں عبد الرحمٰن سے ہوئی۔
بشریٰ رحمن نے ادبی سفر کا آغاز افسانہ نگاری اور کالم نویسی سے کیا۔ ان کے مضامین اور افسانے جلد ہی عوامی اور ادبی حلقوں میں مقبول ہونے لگے۔ ان کا مشہور کالم ’’چادر، چار دیواری اور چاندنی‘‘ روزنامہ جنگ میں طویل عرصے تک شائع ہوتا رہا اور پاکستانی خواتین میں بے حد مقبول ہوا۔ اس کالم میں انہوں نے مشرقی معاشرت، خاندانی زندگی، خواتین کے مسائل، تہذیبی اقدار اور سماجی رویّوں پر نہایت سادہ، دلنشیں اور اثر انگیز انداز میں اظہارِ خیال کیا۔
وہ ایک مقبول ناول نگار اور افسانہ نویس بھی تھیں۔ ان کے ناولوں اور افسانوں میں پاکستانی معاشرے، بالخصوص خواتین کی زندگی، جذبات، محرومیوں اور سماجی مسائل کی عکاسی ملتی ہے۔ ان کی تحریروں میں روانی، برجستگی، طنز کی ہلکی کاٹ اور اصلاحی پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے معروف ناولوں اور کتابوں میں ’’اللہ میاں جی‘‘، ’’چاند سے نہ کھیلو‘‘، ’’بت شکن‘‘، ’’چارہ گر‘‘، ’’کس موڑ پر ملے ہو‘‘، ’’پارسا‘‘، ’’پیاسی‘‘، ’’لازوال‘‘، ’’شرمیلی‘‘، ’’لگن‘‘، ’’باؤلی بھکارن‘‘ اور ’’تیرے سنگ در کی تلاش میں‘‘ شامل ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’چپ‘‘، ’’بہشت‘‘، ’’عشق عشق‘‘ اور ’’پشیمان‘‘ خاص طور پر مقبول ہوئے۔ ان کا سفرنامہ ’’ٹک ٹک دیدم ٹوکیو‘‘ بھی قارئین میں بے حد پسند کیا گیا۔
بشریٰ رحمن نے پی ٹی وی اور نجی اداروں کے لیے ڈرامے بھی تحریر کیے، جن میں ان کے کئی ناولوں کو ڈرامائی شکل دے کر پیش کیا گیا۔ ان کی تحریروں میں خواتین کے حقوق، خود اعتمادی اور سماجی انصاف کا احساس نمایاں طور پر موجود ہے۔ وہ رسم و رواج کی اُن پابندیوں پر تنقید کرتی تھیں جو عورتوں کی آزادی اور شخصیت کی تعمیر میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
ادب کے ساتھ ساتھ وہ سیاست میں بھی سرگرم رہیں۔ انہوں نے 1983ء میں سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ 1985ء اور 1988ء میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، جبکہ 2002ء اور 2008ء میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کی نمائندگی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی رکن رہیں۔ سیاسی زندگی میں وہ شائستگی، برداشت اور باوقار طرزِ سیاست کے لیے جانی جاتی تھیں۔
ان کی ادبی و صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 2007ء میں انہیں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ سے نوازا۔
وفات: بشریٰ رحمن کا انتقال 7 فروری 2022ء کو لاہور میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Bushra_Rahman
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
