- کتاب فہرست 189012
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1796 صحت110 تاریخ3626طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5047 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2300نصابی کتاب562 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6300-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1683
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5417
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ72
- واسوخت29
کرنل محمد خان کا تعارف
کرنل محمد خان کا شمار اردو ادب کے اُن گنے چنے مزاحیہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کو ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے زندگی کے پیش نظر رکھا ہے۔ وہ نامور مزاح نگار اور پاک فوج کے شعبۂ تعلیم کے ڈائریکٹر تھے۔ اردو مزاح نگاری کی تاریخ میں کرنل محمد خان کا فن سنجیدہ توجہ کا حامل ہے کیونکہ ان کا فن محض وقت گزاری کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عمل ہے۔ انہوں نے ’’بجنگ آمد‘‘، ’’بسلامت روی‘‘ اور ’’بزم آرائیاں‘‘ کی صورت میں اردو ادب کو سنجیدہ مزاح کے بہترین نمونوں سے مالا مال کیا ہے۔ کرنل محمد خان کے اسلوب کی خصوصیات اس کی خیال آفرینی، فکر انگیزی اور لطافت وشگفتگی ہے جو انہیں دوسرے مزاح نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ کرنل محمدخان، مشتاق احمد یوسفی، ضمیر جعفری اور شفیق الرحمن کے ہم عصر تھے۔ ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کرنل محمد خان کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں:”اردو مزاح کو کرنل محمد خان نے ایک نیا بانکپن اور اندازِ دلبری بخشا ہے، جو صرف انہی کا حصہ ہے۔
کرنل محمد خان ضلع چکوال کے قصبہ بلکسر، صوبہ پنجاب میں 5 اگست، 1910ء کو چودھری امیر خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ 1927میں دسویں جماعت فرسٹ ڈویژن میں پاس کی اور رول آف آنر حاصل کیا۔1929میں ایف ایس سی میڈیکل گروپ میں درجہ اول میں کیا۔ 1931ء میں بی اے بھی نمایاں نمبروں سے پاس کر لیا۔ اس کے بعد فارسی میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ غالباً یہ وہ مقام اور وقت تھا جب ان کی زبان دانی کو جِلا ملی اور اردو، فارسی کے اشعار معانی مطالب اور برمحل استعمال پر عبور حاصل ہوا۔ لیکن ابھی قسمت نے ان کے لیے تعلیمی میدان کی حدود کا تعین نہیں کیا تھا کیوں کہ فوج میں کمیشن اور آئی سی ایس کے امتحان کے لیے عمر کی قید آڑے آ رہی تھی۔ پھر انھوں نے سوچا کہ اپنی طلبِ علم کی پیاس کو بجھائیں۔ سو انہوں نے پنجاب یونیوسٹی میں ایم اے (اقتصادیات) میں داخلہ لے لیا جس کی ڈگری انہوں نے1934ء میں حاصل کی۔1940میں فوج میں تعینات ہوئے اور1957 میں ڈارئریکٹر آرمی ایجوکیشن کے عہدے پر فائز ہوئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے1969میں سبکدوش ہوئے۔
ان کی اہم تصانیف میں بجنگ آمد (1966)، بسلامت روی (1975)، بزم آرائیاں (1980) اور بدیسی مزاح شامل ہیں۔ ان کا انتقال23 اکتوبر1999 کو ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Khan_(Pakistan_Army_officer)
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
