- کتاب فہرست 179416
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4317 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
کرنل محمد خان کا تعارف
کرنل محمد خان کا شمار اردو ادب کے اُن گنے چنے مزاحیہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کو ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے زندگی کے پیش نظر رکھا ہے۔ وہ نامور مزاح نگار اور پاک فوج کے شعبۂ تعلیم کے ڈائریکٹر تھے۔ اردو مزاح نگاری کی تاریخ میں کرنل محمد خان کا فن سنجیدہ توجہ کا حامل ہے کیونکہ ان کا فن محض وقت گزاری کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عمل ہے۔ انہوں نے ’’بجنگ آمد‘‘، ’’بسلامت روی‘‘ اور ’’بزم آرائیاں‘‘ کی صورت میں اردو ادب کو سنجیدہ مزاح کے بہترین نمونوں سے مالا مال کیا ہے۔ کرنل محمد خان کے اسلوب کی خصوصیات اس کی خیال آفرینی، فکر انگیزی اور لطافت وشگفتگی ہے جو انہیں دوسرے مزاح نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ کرنل محمدخان، مشتاق احمد یوسفی، ضمیر جعفری اور شفیق الرحمن کے ہم عصر تھے۔ ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کرنل محمد خان کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں:”اردو مزاح کو کرنل محمد خان نے ایک نیا بانکپن اور اندازِ دلبری بخشا ہے، جو صرف انہی کا حصہ ہے۔
کرنل محمد خان ضلع چکوال کے قصبہ بلکسر، صوبہ پنجاب میں 5 اگست، 1910ء کو چودھری امیر خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ 1927میں دسویں جماعت فرسٹ ڈویژن میں پاس کی اور رول آف آنر حاصل کیا۔1929میں ایف ایس سی میڈیکل گروپ میں درجہ اول میں کیا۔ 1931ء میں بی اے بھی نمایاں نمبروں سے پاس کر لیا۔ اس کے بعد فارسی میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ غالباً یہ وہ مقام اور وقت تھا جب ان کی زبان دانی کو جِلا ملی اور اردو، فارسی کے اشعار معانی مطالب اور برمحل استعمال پر عبور حاصل ہوا۔ لیکن ابھی قسمت نے ان کے لیے تعلیمی میدان کی حدود کا تعین نہیں کیا تھا کیوں کہ فوج میں کمیشن اور آئی سی ایس کے امتحان کے لیے عمر کی قید آڑے آ رہی تھی۔ پھر انھوں نے سوچا کہ اپنی طلبِ علم کی پیاس کو بجھائیں۔ سو انہوں نے پنجاب یونیوسٹی میں ایم اے (اقتصادیات) میں داخلہ لے لیا جس کی ڈگری انہوں نے1934ء میں حاصل کی۔1940میں فوج میں تعینات ہوئے اور1957 میں ڈارئریکٹر آرمی ایجوکیشن کے عہدے پر فائز ہوئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے1969میں سبکدوش ہوئے۔
ان کی اہم تصانیف میں بجنگ آمد (1966)، بسلامت روی (1975)، بزم آرائیاں (1980) اور بدیسی مزاح شامل ہیں۔ ان کا انتقال23 اکتوبر1999 کو ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Khan_(Pakistan_Army_officer)
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
