- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1365 قصہ / داستان1567 صحت104 تاریخ3274طنز و مزاح596 صحافت200 زبان و ادب1688 خطوط731
طرز زندگی30 طب972 تحریکات269 ناول4268 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6499افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب428 ترجمہ4210خواتین کی تحریریں5764-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1252
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1580
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ387
- مثنوی738
- مسدس44
- نعت586
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
دیبا خانم کا تعارف
شناخت: ایک پراسرار قلمی نام (فرضی شناخت) جس کے پسِ پردہ متعدد مصنفین کارفرما رہے
دیبا خانم اردو ادب، خصوصاً عوامی اور رومانی فکشن کی دنیا کا ایک معروف مگر پراسرار نام ہے، جس کی اصل شناخت کے بارے میں ادبی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ "دیبا خانم" کوئی ایک حقیقی شخصیت نہیں بلکہ ایک قلمی نام ہے، جس کے تحت ایک سے زائد مصنفین نے تحریریں پیش کیں۔
ادبی روایات اور بعض اہلِ قلم کے بیانات کے مطابق، اس نام کے پسِ پردہ معروف ناول نگار محی الدین نواب کا بھی کردار رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ لاہور میں ایم اے زاہد کے ساتھ وابستہ تھے تو اس دوران انہوں نے "دیبا خانم" کے نام سے کئی ناول، بچوں کی کہانیاں اور دیگر تخلیقات تحریر کیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ ادبی سرمایہ ایک مدت تک محفوظ رہا، مگر بعد میں ایک آتشزدگی کے واقعے میں ضائع ہو گیا۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "دیبا خانم" کے نام سے دیگر مصنفین نے بھی لکھا، جن میں ڈاکٹر بلیغ الدین جاوید اور ضیاء ساجد کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ضیاء ساجد نے "سمرن چودھری" کے نام سے بھی رومانی ناول تحریر کیے، جبکہ ڈاکٹر بلیغ الدین جاوید نے بعض اوقات دیگر معروف قلمی ناموں کے تحت بھی لکھا اور اس حوالے سے قانونی معاملات کا سامنا بھی کیا۔
بعض عینی شواہد اور ادبی حلقوں میں گردش کرنے والی روایات کے مطابق، محی الدین نواب نے ذاتی گفتگو میں اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وہ "دیبا خانم" کے نام سے لکھتے رہے ہیں، اور اس کی شناخت کا اندازہ ان کے مخصوص اسلوبِ تحریر سے لگایا جا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ بعد کے زمانے میں جب ایک خاتون فنکارہ "دیبا خانم" کے نام سے سامنے آئیں، تو ان سے بھی اس حوالے سے سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے بھی اسی نوعیت کی کہانی بیان کی جو پہلے سے ادبی حلقوں میں معروف تھی۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
-
