- کتاب فہرست 180801
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ919 تعلیم343 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1588 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6592افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب449 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
دیبا خانم کا تعارف
شناخت: ایک پراسرار قلمی نام (فرضی شناخت) جس کے پسِ پردہ متعدد مصنفین کارفرما رہے
دیبا خانم اردو ادب، خصوصاً عوامی اور رومانی فکشن کی دنیا کا ایک معروف مگر پراسرار نام ہے، جس کی اصل شناخت کے بارے میں ادبی حلقوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ "دیبا خانم" کوئی ایک حقیقی شخصیت نہیں بلکہ ایک قلمی نام ہے، جس کے تحت ایک سے زائد مصنفین نے تحریریں پیش کیں۔
ادبی روایات اور بعض اہلِ قلم کے بیانات کے مطابق، اس نام کے پسِ پردہ معروف ناول نگار محی الدین نواب کا بھی کردار رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ لاہور میں ایم اے زاہد کے ساتھ وابستہ تھے تو اس دوران انہوں نے "دیبا خانم" کے نام سے کئی ناول، بچوں کی کہانیاں اور دیگر تخلیقات تحریر کیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ ادبی سرمایہ ایک مدت تک محفوظ رہا، مگر بعد میں ایک آتشزدگی کے واقعے میں ضائع ہو گیا۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "دیبا خانم" کے نام سے دیگر مصنفین نے بھی لکھا، جن میں ڈاکٹر بلیغ الدین جاوید اور ضیاء ساجد کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ضیاء ساجد نے "سمرن چودھری" کے نام سے بھی رومانی ناول تحریر کیے، جبکہ ڈاکٹر بلیغ الدین جاوید نے بعض اوقات دیگر معروف قلمی ناموں کے تحت بھی لکھا اور اس حوالے سے قانونی معاملات کا سامنا بھی کیا۔
بعض عینی شواہد اور ادبی حلقوں میں گردش کرنے والی روایات کے مطابق، محی الدین نواب نے ذاتی گفتگو میں اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وہ "دیبا خانم" کے نام سے لکھتے رہے ہیں، اور اس کی شناخت کا اندازہ ان کے مخصوص اسلوبِ تحریر سے لگایا جا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ بعد کے زمانے میں جب ایک خاتون فنکارہ "دیبا خانم" کے نام سے سامنے آئیں، تو ان سے بھی اس حوالے سے سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے بھی اسی نوعیت کی کہانی بیان کی جو پہلے سے ادبی حلقوں میں معروف تھی۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
