- کتاب فہرست 180586
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1600 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ڈاکٹر محمد حفظ الرحمن کا تعارف
شناخت:محقق، مصنف، صوفی تاریخ و تہذیب کے ماہر اور تصوف و اولیائے کرام کی تاریخ پر متعدد کتابوں کے مصنف
ڈاکٹر حفظ الرحمن کا تعلق بہار کے تاریخی ضلع بکسر سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور تدریس و تحقیق کو اپنی عملی زندگی کا بنیادی مشن بنایا۔ اس وقت وہ بہار کے شہر آرہ کے ایک کالج میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں مسلسل مصروف ہیں۔
ڈاکٹر حفظ الرحمن کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے تصوف، صوفیاء کی تاریخ، اسلامی تہذیب اور ہندوستان میں موجود خانقاہی روایت پر سنجیدہ اور مسلسل تحقیقی کام کیا ہے۔ ان کی علمی دلچسپیوں کا دائرہ خاص طور پر تصوف، اولیائے کرام کی سوانح، درگاہوں اور مزارات کی تاریخ اور اسلامی فنِ تعمیر کے مطالعے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی بعض تصانیف کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL)، نئی دہلی کی جانب سے اشاعتی منظوری اور گرانٹ بھی حاصل ہوئی۔
انہوں نے نہ صرف تصوف کی فکری روایت بلکہ ہندوستان میں صوفی تحریک کے اثرات، صوفیاء کے مراکز، درگاہوں اور خانقاہوں کی تاریخی و تہذیبی اہمیت پر بھی تحقیقی کام کیا ہے۔ اسی سلسلے میں ان کی اہم تصنیف “تصوف اور صوفیاء کی تاریخ عرب سے ہندوستان تک” خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جسے علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
ڈاکٹر حفظ الرحمن کی تصنیفات کی تعداد خاصی زیادہ ہے جن میں اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں لکھی گئی متعدد کتابیں شامل ہیں۔ ان کی نمایاں کتابوں میں تصوف اور شیخ ابوبکر طوسی حیدری قلندر، مزاراتِ اولیاء، تصوف اور خواتین اولیاء، تصوف اور شیخ شرف الدین احمد منیری، اولیائے دہلی کی درگاہیں، سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ اور اجمیر کے آثار قدیمہ اور تصوف کے دو بڑے ستون: شیخ علی ہجویری اور شیخ شرف الدین احمد منیری جیسی اہم تصانیف شامل ہیں۔
تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی انہوں نے متعدد کتابیں تحریر کی ہیں، جن میں History of Inclusive Education in India، Key Issues in Teacher Education اور Teaching of English جیسی تصانیف قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی تاریخ، ثقافت اور علاقائی تہذیب کے موضوعات پر بھی ان کی کئی تحقیقی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔
تصنیف و تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر حفظ الرحمن تصوف کے فروغ اور اخلاقی و روحانی تعلیم کو عام کرنے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے نئی دہلی کے شاہین باغ، جامعہ نگر میں Universal Sufi Saint Study and Research Foundation (رجسٹرڈ) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جس کا مقصد صوفیاء کی تعلیمات کو عام کرنا، ان سے متعلق کتابوں کا ذخیرہ جمع کرنا اور نئی نسل میں اخلاقی و روحانی اقدار کو فروغ دینا ہے۔
ڈاکٹر حفظ الرحمن کی تحقیقی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں موجود درگاہوں، مزارات اور صوفی مراکز پر تحقیق کر کے ان سے متعلق تاریخی مواد کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مضامین ملک کے مختلف تحقیقی جرائد میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔
اپنی علمی سرگرمیوں، تحقیقی کاوشوں اور تصنیفی خدمات کے ذریعے ڈاکٹر حفظ الرحمن نے تصوف اور صوفی روایت کے مطالعے کو ایک نئے انداز میں پیش کیا ہے اور اس میدان میں اپنی ایک الگ اور معتبر شناخت قائم کی ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
