Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Dr  Mohammad Hifzur Rahman's Photo'

ڈاکٹر محمد حفظ الرحمن

آرہ, انڈیا

محقق، مصنف، مورخِ تصوف، استاد

محقق، مصنف، مورخِ تصوف، استاد

ڈاکٹر محمد حفظ الرحمن کا تعارف

تخلص : 'ڈاکٹر حفظ الرحمن'

اصلی نام : حفظ الرحمن

پیدائش :بکسر, بہار

شناخت:محقق، مصنف، صوفی تاریخ و تہذیب کے ماہر اور تصوف و اولیائے کرام کی تاریخ پر متعدد کتابوں کے مصنف

ڈاکٹر حفظ الرحمن کا تعلق بہار کے تاریخی ضلع بکسر سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور تدریس و تحقیق کو اپنی عملی زندگی کا بنیادی مشن بنایا۔ اس وقت وہ بہار کے شہر آرہ کے ایک کالج میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں مسلسل مصروف ہیں۔

ڈاکٹر حفظ الرحمن کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے تصوف، صوفیاء کی تاریخ، اسلامی تہذیب اور ہندوستان میں موجود خانقاہی روایت پر سنجیدہ اور مسلسل تحقیقی کام کیا ہے۔ ان کی علمی دلچسپیوں کا دائرہ خاص طور پر تصوف، اولیائے کرام کی سوانح، درگاہوں اور مزارات کی تاریخ اور اسلامی فنِ تعمیر کے مطالعے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی بعض تصانیف کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL)، نئی دہلی کی جانب سے اشاعتی منظوری اور گرانٹ بھی حاصل ہوئی۔

انہوں نے نہ صرف تصوف کی فکری روایت بلکہ ہندوستان میں صوفی تحریک کے اثرات، صوفیاء کے مراکز، درگاہوں اور خانقاہوں کی تاریخی و تہذیبی اہمیت پر بھی تحقیقی کام کیا ہے۔ اسی سلسلے میں ان کی اہم تصنیف “تصوف اور صوفیاء کی تاریخ عرب سے ہندوستان تک” خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جسے علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

ڈاکٹر حفظ الرحمن کی تصنیفات کی تعداد خاصی زیادہ ہے جن میں اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں لکھی گئی متعدد کتابیں شامل ہیں۔ ان کی نمایاں کتابوں میں تصوف اور شیخ ابوبکر طوسی حیدری قلندر، مزاراتِ اولیاء، تصوف اور خواتین اولیاء، تصوف اور شیخ شرف الدین احمد منیری، اولیائے دہلی کی درگاہیں، سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ اور اجمیر کے آثار قدیمہ اور تصوف کے دو بڑے ستون: شیخ علی ہجویری اور شیخ شرف الدین احمد منیری جیسی اہم تصانیف شامل ہیں۔

تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی انہوں نے متعدد کتابیں تحریر کی ہیں، جن میں History of Inclusive Education in India، Key Issues in Teacher Education اور Teaching of English جیسی تصانیف قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی تاریخ، ثقافت اور علاقائی تہذیب کے موضوعات پر بھی ان کی کئی تحقیقی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔

تصنیف و تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر حفظ الرحمن تصوف کے فروغ اور اخلاقی و روحانی تعلیم کو عام کرنے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے نئی دہلی کے شاہین باغ، جامعہ نگر میں Universal Sufi Saint Study and Research Foundation (رجسٹرڈ) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جس کا مقصد صوفیاء کی تعلیمات کو عام کرنا، ان سے متعلق کتابوں کا ذخیرہ جمع کرنا اور نئی نسل میں اخلاقی و روحانی اقدار کو فروغ دینا ہے۔

ڈاکٹر حفظ الرحمن کی تحقیقی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں موجود درگاہوں، مزارات اور صوفی مراکز پر تحقیق کر کے ان سے متعلق تاریخی مواد کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مضامین ملک کے مختلف تحقیقی جرائد میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔

اپنی علمی سرگرمیوں، تحقیقی کاوشوں اور تصنیفی خدمات کے ذریعے ڈاکٹر حفظ الرحمن نے تصوف اور صوفی روایت کے مطالعے کو ایک نئے انداز میں پیش کیا ہے اور اس میدان میں اپنی ایک الگ اور معتبر شناخت قائم کی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے