- کتاب فہرست 179398
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4306خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
ڈاکٹر نورالامین کا تعارف
ڈاکٹر سید نورالامین سیّد امیر علی ،قلمی نام نورالامین کا تعلق انتہائی ادبی اعتبار سے زرخیز علاقے ضلع پربھنی،مہاراشٹرا ،انڈیا سے ہے .ضلع پربھنی ادبی ثقافتی اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل ہے. نظام شاہی دور میں ضلع پربھنی کا علاقہ ،علاقے دکن ،حیدر آباد سے تعلق رکھتا تھا. آزادیِ ہند کے بعد یکم مئی 1960ء میں جب اُس وقت کی بمبئی اسٹیٹ سے الگ ہو کر مہاراشٹرا اسٹیٹ کا قیام عمل میں آیا تو ضلع پر اسی مہاراشٹرا کے علاقے مراٹھواڑہ میں شامل کیا گیا. مراٹھواڑہ کو ادبی اعتبار سے ولی اور سراج کی سر زمین کہا جاتا ہے . پربھنی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ حضرت سید شاہ تراب الحق رحمت اللہ علیہ نے اس شہر کو اپنی رشد و ہدایت کا مرکز بنایا ان کی درگاہ اج مرجع خلائق ہے اور بلال لحاظ مذہب و ملت عوام ان کے دربار میں حاضری لگاتے ہیں اپ کی تعلیمات نے اس دھرتی میں ایکجہتی کے بیج بوئے مشہور ہے کہ اپ کی مقبول عام تصنیف "من سمجھاون " معروف مراٹھی سنت کوی رام داس کی "مناچے شلوک" کا منظوم ترجمہ ہے پربھنی ہی کے اکناف میں سنت نام دیو جیسا عظیم سنت اور اردو کا اولین شاعر پیداء ہوا اور اپنی تعلیمات کی روشنی سے برصغیر کو منور کر دیا. نام دیو کے ہندی "پد" گرو گرنتھ میں شامل ہیں . ملک بھر میں عقیدت کی نظر سے دیکھے جانے والے شرڈی کے سائے بابا کی جنم بھومی اسی پر پربھنی ضلع کا تعلقہ پاتھری ہے ماضی قریب میں یہ سرزمین حضرت خلیل اللہ حسینی جیسی برگزیدہ مذہبی شخصیت کی سرگرمیوں کا محور و مرکز رہی ہے . پربھنی کے ادبی تاریخ میں کچھ ایسے روشن اور درخشاں نام بھی ہیں جو اردو دنیا میں اپنا بلند مقام و مرتبہ رکھتے ہیں. پربھنی کے استاد شاعر مولوی کرم بخش سالم وہ شخص ہیں جن کی تحریک پر اسد علی خان تمنا اورنگا ابادی نے "گل عجائب " لکھی جس کا شمار اردو کے اولین تذکروں میں ہوتا ہے ماضی میں یہاں اردو غزل کو اظہار کا ذریعہ بنانے والے شعراء میں سب سے نمایا نام منیر الدین منیر کا ہے جن کا انتقال 1920ء میں ہوا اردو شعر و ادب کی تاریخ کے دو لازوال شعرائے شعراء یاس یگانہ چنگیزی اور اور فانی بدایونی بھی ایک عرصے تک اسی سرزمین کی آغوش میں رہے . یاس یگانہ چنگیزی گانا چنگزی کے غالب شکن مضامین پربھنی کے دوران قیام ہی میں مکمل ہوئے فانی بدایونی کے شعری سفر کے ایک طویل دور کی آماجگاہ بھی یہی سرزمین ہے میر ہاشم کی جمالیاتی شاعری کا خمیر بھی اسی شہر کی مٹی سے اٹھا ہے نسائی اردو شاعری میں بھی پربھنی نے اپنی نمائندگی میمونہ غزل کے ذریعے درج کرائی ہے. اقبالیات کے ماہر معروف ادیب اور معروف فرزند جامعہ عثمانیہ اشفاق حسین کا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے ریاست حیدرآباد میں حیدرآباد کے بعد جب اورنگ اباد میں دکن ریڈیو اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا تھا تو اس کے اولین اناؤنسر اشفا حسین ہی تھے گیسوئے اردو کو سنوارنے والوں میں امام الدین یقین جیسے بے خوف وہ بے لاک کمیونسٹ لیڈر کی مساعی جمیلہ بھی شامل ہے اختر حسین اختر، سلطان ثالب، سہیل احمد رضوی نے بھی پربھنی کو اردو شاعری کے نقشہ پر اہم مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ عرفان پربھنوی ،امداد اللہ بیگ اشعر کے نغموں سے آج بھی پربھنی کی سرزمین شعر بار ہے قافلہ نثر میں ابراہیم اختر، ڈاکٹر معین شاکر ،ڈاکٹر مظہر محی الدین، شاہ رخ صحرائی یوسف حامد، ڈاکٹر ثاقب انور اور ڈاکٹر نور الامین وغیرہ شامل ہیں . ڈاکٹر نورالامین کی پیدائش ضلع پربھنی میں ہوئی . ان کی پرائمری اور ہائی اسکول و جونیئر کالج کی تعلیم شہر کے معروف تعلیمی ادارے ڈاکٹر ذاکر حسین پرائمری اسکول اور ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی اسکول و جونیئر کالج پربھنی سے ہی ہوئی . ڈاکٹر نورالامین کا تعلق سید السعادات گھرانے سے ہیں ان کے آبا و اجداد بخارا،سمرقند ،اجبکستان اور افغانستان ہوتے ہوئے علاقے برابر میں تشریف لائے اور ہندوستان میں صنعت و حرفت سے وابستہ ہوئے .ڈاکٹر نورالامین کے دادا سید بشارت علی سید امیر علی اور دیگر بزرگ حمل ونقل اور زراعت کے پیشہ سے وابستہ تھے .ان کے والد سید امیر علی سید بشارت علی اور چاچا سید عبدالحمید علی سید بشارت علی اسٹیٹ بینک آف حیدر آباد جو اب اسٹیٹ بینک آف انڈیا ہے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور ونہی سے حسن سبکدوش ہوئے .ان کی والدہ محترمہ ریحانہ بیگم بنت شبیر احمد خان انتہائی وضعدار،مذہبی اور امور خانہ داری میں یکتا خاتون ہے. ان ہی کی توجہ خاص اور دعاؤں نے ڈاکٹر نورالامین کو تعلیمی ،سماجی اور ادبی دوام عطاء کیا ہے. ڈاکٹر نورالامین کے جملہ تین بھائیوں اور تین بہنوں میں ڈاکٹر نورالامین سب سے بڑے ہیں دیگر بھائی اور بہنیں بھی تعلیم یافتہ اور باعزت شہری ہیں. ڈاکٹر نورالامین نے ایم اے (اردو ،انگریزی ،تاریخ ،نفسیات )بی .ایڈ ،ایم .ایڈ ،ایم فل ان ایجوکیشن ،نیٹ اردو اور پی ایچ ڈی کیا ہے . ڈاکٹر نورالامین نابغہ روزگار شاعر جاوید اختر کی شخصیت اور شاعری پر تحقیقی کام کیا ہے. جاوید اختر نہ اردو ادب اور نہ ہندوستانی فلموں کے لیے غیر مانوس شخص ہیں . ان دونوں ڈاکٹر نورالامین صاحب شہر پربھنی کے قدیم تعلیمی ادارے ماڈل انگلش ایجوکیشن سوسائٹی ،پربھنی کے زیر انصرام شاردا مہا ودیالیہ پربھنی میں شعبہ اردو سے وابستہ ہیں .اس سے قبل ڈاکٹر صاحب آر بی ایم کالج آف ایجوکیشن میں بحیثیت پرنسپل نو سال سے زائد عرصہ تک زمہ داری نبھا چکے ہیں . مندرجہ ذیل کتابیں شائع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں 1 . بند آنکھوں کے سپنے افسانوی مجموعہ 2. بہت مشکل ہے شجاع ہونا مختلف مضامین کا مجموعہ 3. جاوید اختر کی غزل گوئی 4. جاوید اختر کی نظم نگاری 5. جاوید اختر کی نغمہ نگاری 6. اردو تنقید 7. دانش ورانِ ہند 8. نورادب 9. نگارشاتِ ادب حصّہ سوم مثنوی اور رُباعی 10. نگارشاتِ ادب حصّہ سوم قصیدہ اور مرثیہ 11. تاریخِ اردو ادب 12. افسانہ اور ناول 13. اردو ڈرامہ اور انشائیہ 14. اردو صحافت 15. غزل اور نظم 16. مکتوب نگاری اور خاکہ نگاری 17. مولانا آزاد ایک خصوصی مطالعہ 18. اردو ڈرامہ کا مطالعہ 19. مراٹھواڑہ میں اردو ادب پربھنی ضلع کے حوالے سے 20. اردو تحقیق 21. شعر کے پردے میں (تنقیدی مباحث، تجزیہ اور خطوط) شائع ہو چکے ہیں .ڈاکٹر نورالامین تصنیف ،تالیف ،تحقیق اور تنقید پر یکساں دسترس رکھتے ہیں . ڈاکٹر نورالامین سوامی راما نند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی ناندیڑ ،مہاراشٹرا انڈیا اور اہلیہ دیوی ہولکر شولاپور کے بورڈ آف اسٹڈیس کے ممبر ہیں اور ریسرچ سپروائزر بھی ہیں . ڈاکٹر نورالامین نے نثری ادب کی مختلف اصناف میں ندرت کمال سے خدمات انجام دی ہیں .جن میں افسانہ نگاری،افسانچہ نگاری،ڈرامہ نگاری ،تحقیق اور تنقید ان کی الچسپی کے میدان ہیں .اس لیے ضروری ہے کہ ان کی نثری خدمات پر تحقیق و تنقید کر کے قارئین ادب کو ان سے متعارف کرایا جائے اور اس کے حاصلات سے اردو ادب کی متعالمین استفادہ کریں .
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
