- کتاب فہرست 182701
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1609 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1724 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4338 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6644افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4275خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1291
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ڈاکٹر صبیحہ ناہید کا تعارف
۲۱ویں صدی کے چوتھائی حصے میں ادبی دنیا میں چند نام ابھر کر سامنے آئے ہیں جن میں سے ایک نام ڈاکٹر صبیحہ ناہید کا بھی ہے۔ اپنا ادبی سفر دیر سے شروع کرنے کے باجود انہوں نے اہل علم و دانش کی توجہ اپنے اچھوتے انداز و موضوعات کے سبب اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔اس دوران اخبارات و رسائل کے ذریعے ان کی نثری و منظوم تخلیقات منظرعام پر آتی رہیں نیز سمپوزیم سیمینار اور مشاعروں میں بھی ان کی شرکت ہوتی رہی۔ان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے ایک عرصہ سے ادبی دنیا کی عدم توجہی کی شکار منظر نگاری جیسے اہم و فطری موضوع کو ایک بار پھر زندہ کر نے کی کوشش کی ہے اور اسے موضوع بحث بھی بنا دیا۔اس تعلق سے ان کی انوکھی کتاب’’ اردو نظم میں مناظر فطرت: قطب شاہی دور سے گلوبل وارمنگ تک ‘ ‘ آئی مگر کورونا کے کٹھن دور کے سبب اس وقت توجہ نہ پا سکی ۔یہ اس موضوع پر معروف دانشور ڈاکٹر سلام سندیلوی کی معرکتہ الاراتصنیف ’’ اردو شاعری میں منظر نگاری‘‘ کے ۷۵ سال بعد ایک بھر پور تحقیقی کاوش ہے جس میں تفصیل سے اردو نظم میں منظر نگاری کے گذشتہ چار ادوار کا جائزہ لیا گیا ہے۔تصنیف و تالیف کے علاوہ ڈاکٹر صبیحہ ناہید کی دلچسپی شاعری‘ افسانچہ نویسی ‘ خاکہ نویسی اور کالم نویسی میں بھی بدرجئہ اتم ہے ۔کتابوں کے تبصروں میں بھی انہیں مہارت حاصل ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ ناہیدکا تعلق درگاہ بیلا ضلع ویشالی‘ بہار کے ایک متوسط گھرانے سے ہے۔انھوں نے ابتدائی زندگی اسی گائوں میں بسر کی ۔اسکول کی تعلیم قریب کے شہر مظفر پور ‘ ً میں ہوئی۔ بعد ازاں متھلا یونیورسٹی دربھنگہ سے اردو میں ایم اے اور بی ایڈ کیا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو سے ایک وقفے کے بعد ایک نادر موضوع پر ڈاکٹر کوثر مظہری کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ۔
صبیحہ ناہید کو لکھنے پڑھنے کا شوق ابتدائی دنوں سے ہی تھا۔اسکول کے زمانے میں بھی اکثر آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس پر ان کے خطوط و مضامین شامل ہوتے تھے اور اب ادبی ‘ ماحولیاتی‘ معاشرتی ‘ سماجی اور اصلاحی موضوعات پر ان کے مضامین ملک کے مختلف معروف رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ اہم اخباروں اور رسالوں میں کئی درجن بک ریویو ز بھی انہوں نے کئے ہیں ۔
گائوں کے فطری مناظر سے بھرے پر فضا ماحول میں ابتدائی زندگی گذارنے کی وجہ سے ماحولیات اور منظر نگاری ان کی خاص توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منظر نگاری اور گلوبل وارمنگ پر ان کی پہلی کتاب منظر عام پر آئی ۔اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کے مختلف ابواب میں بھی ان کے مضامین کی شمولیت ہوتی رہتی ہے ۔ شعرو شاعری ‘ خاکہ نویسی کے علاوہ متعدد نایاب و نادر اور معیاری کتابوں کے ریویو ز بھی انہوں نے کئے ہیں۔جن میں ’روداد انجمن‘اقبال کا شعلئہ نوا‘ کن فیکون‘ پل دو پل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔شعرو شاسعری کا شوق ہے خاص طور پرموضوعاتی شاعری سے انھیں خا ص
شغف ہے۔ مشاعروں میں بھی شرکت کرتی رہتی ہیں۔
دہلی میں مقیم صبیحہ ناہید اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اردو ادب کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتی ہیں۔شروع سے ہی مقبول عام ریختہ فیسٹیول کی ریگولر ویزیٹر رہی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح کے فیسٹیولز کے ذریعے اردو پھر سے صرف اپنا کھویا ہوا مقام ہی حاصل نہیں کر سکتی ہے بلکہ عام لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بھی بن سکتی ہے۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
