- کتاب فہرست 179742
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6671افسانہ2702 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4860
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
عبادت بریلوی کا تعارف
عبادت بریلوی کی پیدائش 14؍اگست 1920ء میں ہوئی۔ حصول تعلیم کے بعد تدریسی زندگی اختیار کی۔ پہلے اینگلوعربک کالج دہلی میں مدرس ہوئے لیکن تقسیم ملک کے بعد ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے۔ لاہور میں اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے شعبہ اردو کے صدر بن گئے۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس بھی ہوئے۔ اورینٹل کالج کے پرنسپل بھی رہے۔ 1980ء میں اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔ عبادت بریلوی نے انقرہ یونیورسٹی، ٹرکی اور اسکول آف افریقن اورینٹل اسٹڈیز لندن میں استاد کی خدمات انجام دیں۔
عبادت بریلوی اردو کے نامور نقاد اور محقق ہیں۔ ان کی بعض کتابیں ہندوپاک کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں رہی ہیں۔ ان کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ ویسے انہوں نے اردو تنقید میں اپنی ایک مخصوص جگہ بنا لی ہے۔ اس حد تک کہ یہ نام فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی تصنیف و تالیف کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ چند کے نام ہیں: ’’اردو تنقید کا ارتقا‘‘، ’’تنقیدی زاویے‘‘، ’’غزل اور مطالعہ غزل‘‘، ’’غالب کا فن‘‘، ’’روایت کی اہمیت‘‘، ’’جدید شاعری‘‘، ’’جدید اردو ادب‘‘ اور ’’میرتقی میر‘‘۔ یہ ساری کتابیں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ طلبا کے لیے یہ مفید تو ہیں ہی اردو شعروادب کے مزاج کی تفہیم میں ذہین لوگوں کے لئے بھی راہیں متعین کرتی ہیں۔
عبادت بریلوی تنقید کی کوئی بوطیقا مرتب نہیں کرتے۔ نہ ہی کسی شعریات کی کنہہ میں داخل ہوتے ہیں۔ دراصل ان کا سروکار وضاحتی تجزیے سے ہے۔ ایسے تجزیے میں کسی صنف کے ابتدائی احوال سے لے کر ارتقائی مرحلے سبھی زیر بحث آجاتے ہیں۔ ان کا تجزیہ عام طور سے ہمدردانہ ہوتا ہے۔ وہ ادبی مسائل کی تہہ در تہہ پیچیدگی سے اپنا رشتہ قائم نہیں رکھتے بلکہ معنوی سطح پر ایسا سروکار رکھتے ہیں کہ ادب پارہ کے وہ احوال روشن ہوجائیں جو عام طور سے سطح پر ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تنقیدی روش کو بوجھل نیں بناتے بلکہ تجزیے کے مقبول طریقہ کار کو اپناتے ہیں۔
عام طور سے نقاد اپنے علم کا بوجھ اپنے تجزیے میں اس طرح بھردیتا ہے کہ پڑھنے والا سراسیمہ ہوجاتا ہے اور علمیت کے اظہار کی پیچیدہ نفسیات اس کے لئے تفریح کا کوئی سامان بہم نہیں پہنچاتی لیکن عبادت بریلوی ایسے علمی بوجھ سے اپنی نگارشات کو گراں بار نہیں بناتے۔ کبھی کبھی ان کے یہاں تکرار لفظی و معنوی کا احساس ہوتا ہے اور یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ کہ اگر وہ اختصار اور جامعیت سے کام لیتے تو ان کی تحریریں اور بھی مفید ہوتیں۔ لیکن ان امور کو منہا کیجئے تو پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موصوف کی غایت دراصل کسی ادب پارے کی ایسی ترسیل ہے جہاں کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ طوالت کی شاید یہی وجہ ہے لیکن ذہین پڑھنے والے گاہے گاہے تکرار میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔
میر اور غالب پر ان کے مطالعات وقیع سمجھے جاتے ہیں۔ ان موضوعات کو انہوں نے کچھ مختلف طریقے سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی تنقید نگاری کو وہ ایک واضح سمت دینا چاہ رہے ہیں اوریہ بھی کہ وہ اپنے موضوعات کے داخلی امور پر نگاہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ایسی تحریریں ان کے آخری وقتوں کی نشانی ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ اردو تنقید میں عبادت بریلوی کا ایک خاص رول ہے اور یہ رول اہم بھی ہے۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
