- کتاب فہرست 180372
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5757-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
احتشام الدین فریدی کا تعارف
حضرت مولانا سید احتشام الدین فریدی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی ولادت ہندوستان کے مشہور شہر شیر شاہ سوری کی نگریا سہسرام کی معروف خانقاہ فریدیہ میں 1930 کو ہوئی۔ آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا سید ظہیرالدین فریدی کے صاحبزادے اور حضرت فرید ثانی سہسرامی کے پوتے تھے۔ آپ نے دارالعلوم خانقاہ کبیریہ میں اپنے وقت کے اہم اساتذہ خلیفہ فاضل بریلوی ملک العلما حضرت مولاناشاہ ظفرالدین بہاری، جماعت اسلامی کی مشہور شخصیت مولانا سید احمد عروج قادری اور اپنے والد سے خصوصی طور پر تعلیم حاصل کی۔ ان حضرات کے علاوہ ان کے ایک اہم استاذ معروف اسلامی اسکالر مولاناسید ریاست علی ندوی بھی تھے۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی نے حصول تعلیم کے بعد اپنی خصوصی توجہ بلا تفریق مذہب وملت پسماندہ طبقات کی تعلیم اور تعلیمی بیداری پر مرکوز کی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ان کے قائم کردہ درجنوں مدارس اور عصری تعلیم گاہیں آج بھی انسانی قلوب کو گرما رہی ہیں۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے بھلائی شہر میں بلڈ بینک قائم کیا۔ ان کے قائم کردہ کئی مدارس آج بہار، جھارکھنڈ اور بنگال کے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے ملحق ہیں اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی کے پیش نظر ہمیشہ انسانیت اور آدمیت کی بقا اور اس کا فروغ رہا۔ وہ مسلکی اور ذات پات کی بنیادوں پر تفریق کے قائل نہیں تھے۔
انہوں نے ملک کے طول وعرض میں ہزاروں جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ اپنے افکار ونظریات کو پیش کیا۔ ان کا انداز خطابت صوفیانہ تھا۔ کسی پر زبانی حملہ کسی کی پگڑی اچھالنا ان کا کام نہیں تھا۔ وہ اپنے معاصرین میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔
ان کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں چند معروف کتابیں یہ ہیں۔
تاریخ ابلاغ چشت
احکام اسلام)اول(
احکام اسلام)دوم (
احکام اسلام)سوم(
احکام اسلام)چہارم (
احکام اسلام)پنجم (
سیدہ فاطمہ
حسین کی امامت یزید کی بغاوت
مسلم پرسنل لاءگزارا اورقرآن
ہزار آنسو
مولانا سید احتشام الدین فریدی کا انتقال 15محرم الحرام 25جنوری 2008ءکو جھارکھنڈ کے شہرجھمری تلیا، کوڈرما میں ہوا۔ آپ وہیں مدفون بھی ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
