- کتاب فہرست 179347
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4306خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
احتشام الدین فریدی کا تعارف
حضرت مولانا سید احتشام الدین فریدی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی ولادت ہندوستان کے مشہور شہر شیر شاہ سوری کی نگریا سہسرام کی معروف خانقاہ فریدیہ میں 1930 کو ہوئی۔ آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا سید ظہیرالدین فریدی کے صاحبزادے اور حضرت فرید ثانی سہسرامی کے پوتے تھے۔ آپ نے دارالعلوم خانقاہ کبیریہ میں اپنے وقت کے اہم اساتذہ خلیفہ فاضل بریلوی ملک العلما حضرت مولاناشاہ ظفرالدین بہاری، جماعت اسلامی کی مشہور شخصیت مولانا سید احمد عروج قادری اور اپنے والد سے خصوصی طور پر تعلیم حاصل کی۔ ان حضرات کے علاوہ ان کے ایک اہم استاذ معروف اسلامی اسکالر مولاناسید ریاست علی ندوی بھی تھے۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی نے حصول تعلیم کے بعد اپنی خصوصی توجہ بلا تفریق مذہب وملت پسماندہ طبقات کی تعلیم اور تعلیمی بیداری پر مرکوز کی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ان کے قائم کردہ درجنوں مدارس اور عصری تعلیم گاہیں آج بھی انسانی قلوب کو گرما رہی ہیں۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے بھلائی شہر میں بلڈ بینک قائم کیا۔ ان کے قائم کردہ کئی مدارس آج بہار، جھارکھنڈ اور بنگال کے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے ملحق ہیں اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی کے پیش نظر ہمیشہ انسانیت اور آدمیت کی بقا اور اس کا فروغ رہا۔ وہ مسلکی اور ذات پات کی بنیادوں پر تفریق کے قائل نہیں تھے۔
انہوں نے ملک کے طول وعرض میں ہزاروں جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ اپنے افکار ونظریات کو پیش کیا۔ ان کا انداز خطابت صوفیانہ تھا۔ کسی پر زبانی حملہ کسی کی پگڑی اچھالنا ان کا کام نہیں تھا۔ وہ اپنے معاصرین میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔
ان کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں چند معروف کتابیں یہ ہیں۔
تاریخ ابلاغ چشت
احکام اسلام)اول(
احکام اسلام)دوم (
احکام اسلام)سوم(
احکام اسلام)چہارم (
احکام اسلام)پنجم (
سیدہ فاطمہ
حسین کی امامت یزید کی بغاوت
مسلم پرسنل لاءگزارا اورقرآن
ہزار آنسو
مولانا سید احتشام الدین فریدی کا انتقال 15محرم الحرام 25جنوری 2008ءکو جھارکھنڈ کے شہرجھمری تلیا، کوڈرما میں ہوا۔ آپ وہیں مدفون بھی ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
