- کتاب فہرست 188762
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں68
ادب اطفال2076
ڈرامہ1031 تعلیم376 مضامين و خاكه1551 قصہ / داستان1766 صحت109 تاریخ3603طنز و مزاح754 صحافت216 زبان و ادب1992 خطوط820
طرز زندگی27 طب1042 تحریکات299 ناول5035 سیاسی374 مذہبیات4984 تحقیق و تنقید7406افسانہ3057 خاکے/ قلمی چہرے292 سماجی مسائل120 تصوف2284نصابی کتاب572 ترجمہ4595خواتین کی تحریریں6352-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1499
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت66
- غزل1349
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1666
- کہہ مکرنی7
- کلیات719
- ماہیہ21
- مجموعہ5389
- مرثیہ403
- مثنوی889
- مسدس62
- نعت604
- نظم1324
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام35
- سہرا11
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی30
- ترجمہ74
- واسوخت28
احتشام الدین فریدی کا تعارف
حضرت مولانا سید احتشام الدین فریدی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی ولادت ہندوستان کے مشہور شہر شیر شاہ سوری کی نگریا سہسرام کی معروف خانقاہ فریدیہ میں 1930 کو ہوئی۔ آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا سید ظہیرالدین فریدی کے صاحبزادے اور حضرت فرید ثانی سہسرامی کے پوتے تھے۔ آپ نے دارالعلوم خانقاہ کبیریہ میں اپنے وقت کے اہم اساتذہ خلیفہ فاضل بریلوی ملک العلما حضرت مولاناشاہ ظفرالدین بہاری، جماعت اسلامی کی مشہور شخصیت مولانا سید احمد عروج قادری اور اپنے والد سے خصوصی طور پر تعلیم حاصل کی۔ ان حضرات کے علاوہ ان کے ایک اہم استاذ معروف اسلامی اسکالر مولاناسید ریاست علی ندوی بھی تھے۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی نے حصول تعلیم کے بعد اپنی خصوصی توجہ بلا تفریق مذہب وملت پسماندہ طبقات کی تعلیم اور تعلیمی بیداری پر مرکوز کی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ان کے قائم کردہ درجنوں مدارس اور عصری تعلیم گاہیں آج بھی انسانی قلوب کو گرما رہی ہیں۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے بھلائی شہر میں بلڈ بینک قائم کیا۔ ان کے قائم کردہ کئی مدارس آج بہار، جھارکھنڈ اور بنگال کے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے ملحق ہیں اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی کے پیش نظر ہمیشہ انسانیت اور آدمیت کی بقا اور اس کا فروغ رہا۔ وہ مسلکی اور ذات پات کی بنیادوں پر تفریق کے قائل نہیں تھے۔
انہوں نے ملک کے طول وعرض میں ہزاروں جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ اپنے افکار ونظریات کو پیش کیا۔ ان کا انداز خطابت صوفیانہ تھا۔ کسی پر زبانی حملہ کسی کی پگڑی اچھالنا ان کا کام نہیں تھا۔ وہ اپنے معاصرین میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔
ان کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں چند معروف کتابیں یہ ہیں۔
تاریخ ابلاغ چشت
احکام اسلام)اول(
احکام اسلام)دوم (
احکام اسلام)سوم(
احکام اسلام)چہارم (
احکام اسلام)پنجم (
سیدہ فاطمہ
حسین کی امامت یزید کی بغاوت
مسلم پرسنل لاءگزارا اورقرآن
ہزار آنسو
مولانا سید احتشام الدین فریدی کا انتقال 15محرم الحرام 25جنوری 2008ءکو جھارکھنڈ کے شہرجھمری تلیا، کوڈرما میں ہوا۔ آپ وہیں مدفون بھی ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں68
ادب اطفال2076
-
