- کتاب فہرست 177110
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1583 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5834-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
احتشام الدین فریدی کا تعارف
حضرت مولانا سید احتشام الدین فریدی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی ولادت ہندوستان کے مشہور شہر شیر شاہ سوری کی نگریا سہسرام کی معروف خانقاہ فریدیہ میں 1930 کو ہوئی۔ آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا سید ظہیرالدین فریدی کے صاحبزادے اور حضرت فرید ثانی سہسرامی کے پوتے تھے۔ آپ نے دارالعلوم خانقاہ کبیریہ میں اپنے وقت کے اہم اساتذہ خلیفہ فاضل بریلوی ملک العلما حضرت مولاناشاہ ظفرالدین بہاری، جماعت اسلامی کی مشہور شخصیت مولانا سید احمد عروج قادری اور اپنے والد سے خصوصی طور پر تعلیم حاصل کی۔ ان حضرات کے علاوہ ان کے ایک اہم استاذ معروف اسلامی اسکالر مولاناسید ریاست علی ندوی بھی تھے۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی نے حصول تعلیم کے بعد اپنی خصوصی توجہ بلا تفریق مذہب وملت پسماندہ طبقات کی تعلیم اور تعلیمی بیداری پر مرکوز کی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ان کے قائم کردہ درجنوں مدارس اور عصری تعلیم گاہیں آج بھی انسانی قلوب کو گرما رہی ہیں۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے بھلائی شہر میں بلڈ بینک قائم کیا۔ ان کے قائم کردہ کئی مدارس آج بہار، جھارکھنڈ اور بنگال کے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے ملحق ہیں اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی کے پیش نظر ہمیشہ انسانیت اور آدمیت کی بقا اور اس کا فروغ رہا۔ وہ مسلکی اور ذات پات کی بنیادوں پر تفریق کے قائل نہیں تھے۔
انہوں نے ملک کے طول وعرض میں ہزاروں جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ اپنے افکار ونظریات کو پیش کیا۔ ان کا انداز خطابت صوفیانہ تھا۔ کسی پر زبانی حملہ کسی کی پگڑی اچھالنا ان کا کام نہیں تھا۔ وہ اپنے معاصرین میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔
ان کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں چند معروف کتابیں یہ ہیں۔
تاریخ ابلاغ چشت
احکام اسلام)اول(
احکام اسلام)دوم (
احکام اسلام)سوم(
احکام اسلام)چہارم (
احکام اسلام)پنجم (
سیدہ فاطمہ
حسین کی امامت یزید کی بغاوت
مسلم پرسنل لاءگزارا اورقرآن
ہزار آنسو
مولانا سید احتشام الدین فریدی کا انتقال 15محرم الحرام 25جنوری 2008ءکو جھارکھنڈ کے شہرجھمری تلیا، کوڈرما میں ہوا۔ آپ وہیں مدفون بھی ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
