- کتاب فہرست 189022
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1793 صحت110 تاریخ3624طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5053 سیاسی377 مذہبیات5059 تحقیق و تنقید7425افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2303نصابی کتاب562 ترجمہ4622خواتین کی تحریریں6303-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح215
- گیت68
- غزل1413
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1685
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5426
- مرثیہ404
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1327
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
احتشام الدین فریدی کا تعارف
حضرت مولانا سید احتشام الدین فریدی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی ولادت ہندوستان کے مشہور شہر شیر شاہ سوری کی نگریا سہسرام کی معروف خانقاہ فریدیہ میں 1930 کو ہوئی۔ آپ شیخ الحدیث حضرت مولانا سید ظہیرالدین فریدی کے صاحبزادے اور حضرت فرید ثانی سہسرامی کے پوتے تھے۔ آپ نے دارالعلوم خانقاہ کبیریہ میں اپنے وقت کے اہم اساتذہ خلیفہ فاضل بریلوی ملک العلما حضرت مولاناشاہ ظفرالدین بہاری، جماعت اسلامی کی مشہور شخصیت مولانا سید احمد عروج قادری اور اپنے والد سے خصوصی طور پر تعلیم حاصل کی۔ ان حضرات کے علاوہ ان کے ایک اہم استاذ معروف اسلامی اسکالر مولاناسید ریاست علی ندوی بھی تھے۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی نے حصول تعلیم کے بعد اپنی خصوصی توجہ بلا تفریق مذہب وملت پسماندہ طبقات کی تعلیم اور تعلیمی بیداری پر مرکوز کی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ ان کے قائم کردہ درجنوں مدارس اور عصری تعلیم گاہیں آج بھی انسانی قلوب کو گرما رہی ہیں۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے بھلائی شہر میں بلڈ بینک قائم کیا۔ ان کے قائم کردہ کئی مدارس آج بہار، جھارکھنڈ اور بنگال کے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے ملحق ہیں اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مولانا سید احتشام الدین فریدی کے پیش نظر ہمیشہ انسانیت اور آدمیت کی بقا اور اس کا فروغ رہا۔ وہ مسلکی اور ذات پات کی بنیادوں پر تفریق کے قائل نہیں تھے۔
انہوں نے ملک کے طول وعرض میں ہزاروں جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ اپنے افکار ونظریات کو پیش کیا۔ ان کا انداز خطابت صوفیانہ تھا۔ کسی پر زبانی حملہ کسی کی پگڑی اچھالنا ان کا کام نہیں تھا۔ وہ اپنے معاصرین میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔
ان کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں چند معروف کتابیں یہ ہیں۔
تاریخ ابلاغ چشت
احکام اسلام)اول(
احکام اسلام)دوم (
احکام اسلام)سوم(
احکام اسلام)چہارم (
احکام اسلام)پنجم (
سیدہ فاطمہ
حسین کی امامت یزید کی بغاوت
مسلم پرسنل لاءگزارا اورقرآن
ہزار آنسو
مولانا سید احتشام الدین فریدی کا انتقال 15محرم الحرام 25جنوری 2008ءکو جھارکھنڈ کے شہرجھمری تلیا، کوڈرما میں ہوا۔ آپ وہیں مدفون بھی ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
-
