- کتاب فہرست 181263
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1383 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1705 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6596افسانہ2679 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
فہیم اعظمی کا تعارف
رشتہ داروں : سجاد باقر رضوی (بھائی)
فہیم اعظمی اردو کی چند ایسے ادبا میں شمار کئے جاتے ہیں جنھوں نے شاعری ، ناول نگاری کو نئی حسیت سے متعارف کروایا۔ وہ ادبی جریدے " صریر" ( کراچی) کے مدیر بھی تھے۔ اس رسالے کو یہ امتیاز اور خلیقہ حاصل ہے کے انھوں نے اردو میں نئے ادبی تنقیدی نظریات کو بڑی ہمت کے ساتھ قلم ھی نہیں اٹھایا بلکہ دوسرے لکھنے والوں کو بھی " صریر" میں جگہ دی۔اوراس پر مباحث کیں۔ کچھ ایسے ادبی نظریات کو اردو میں متعارف کروایا جس کو اردو میں اس سے پہلے موضوع بحث نہیں بنایا گیا تھا۔انھوں نے جدیدیت، مابعد جدیدیت، ساختیات، قاری کی اساس تنقید، تخلیق اور قاری کے رشتے، افارازم، مغرب اور مشرق میں ادب کی اساس،اور اس کے علاوہ اردو کی لسانی تشکیلات اور اس کے عمرانیاتی مسائل پر جم کر لکھا ہے۔ اس نمبر میں میں فہیم اعظمی کے چند ان اراریوں کو بھی شامل کیا گیا ھے۔ جو متنازعہ بھی ہیں اور نئی فکری رویوں کو بھی دریافت کرتے ہیں۔ جتے وہ سچے اور کھرے انسان تھے وہ اتنے ھی کھرے اصولوں کے ساتھ " صریر" نکالتے تھے۔وہ ایک وسیع النظر اور وسیع مطالعہ انسان تھے۔ " صریر کا ڈاکٹر فہیم اعظمی نمبر" ان کی شخصیت کے علاوہ جدید نظریات اور تنقید پر محاکمہ بھی ھے۔
فہیم اعظمی کا اصل نام سید باقر رضوی تھا۔ پیار سے انھیں گھر والے اور قریبی دوست " دلارے میاں‘ کہتے تھے ۔ 1935ء میں ، چماوان، ضلع اعظم گڑھ، اتر پردیش، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اعظم گڑھ، الہ آباد، لاہور اور کراچی میں حاصل کی۔ پاکستانی فصائیہ میں ملازمت کی۔ ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم رہے۔ وہ ممتاز اردو نقاد اور استاد سجاد باقر رضوی (1995ء میں انتقال ہوا) ان کے چھوٹے بھائی تھے۔۔ ہندوستان میں فہیم اعظمی کے چچا زاد بھائی مہدی اعظمی اور بھتیجے شعور اعظمی اردو زبان و ادب کی خدمت میں مشغول ہیں. اللہ اس خانوادے کو مزید عزت و احترام عطا فرمائے. آمین۔ فہیم اعظمی کا انتقال 14 جولائی 2004ء میں کراچی کے محلے انچولی، بلاک 20 فیڈرل بی ایریامیں میں ہوا۔
تصانیف:
"بہت دیر ھوچکی" (ناول)
"ڈسٹی نیشن مین ھول" (ناول)
" آرتمس کے بھول‘ (کہانیاں)
"شوق مفضل" (شاعری)
"رائدیں جدیدیت" (شخصیات، نظریہ اور تنقید)موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
