- کتاب فہرست 180696
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1653 صحت108 تاریخ3344طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6699افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
فہیم اعظمی کا تعارف
رشتہ داروں : سجاد باقر رضوی (بھائی)
فہیم اعظمی اردو کی چند ایسے ادبا میں شمار کئے جاتے ہیں جنھوں نے شاعری ، ناول نگاری کو نئی حسیت سے متعارف کروایا۔ وہ ادبی جریدے " صریر" ( کراچی) کے مدیر بھی تھے۔ اس رسالے کو یہ امتیاز اور خلیقہ حاصل ہے کے انھوں نے اردو میں نئے ادبی تنقیدی نظریات کو بڑی ہمت کے ساتھ قلم ھی نہیں اٹھایا بلکہ دوسرے لکھنے والوں کو بھی " صریر" میں جگہ دی۔اوراس پر مباحث کیں۔ کچھ ایسے ادبی نظریات کو اردو میں متعارف کروایا جس کو اردو میں اس سے پہلے موضوع بحث نہیں بنایا گیا تھا۔انھوں نے جدیدیت، مابعد جدیدیت، ساختیات، قاری کی اساس تنقید، تخلیق اور قاری کے رشتے، افارازم، مغرب اور مشرق میں ادب کی اساس،اور اس کے علاوہ اردو کی لسانی تشکیلات اور اس کے عمرانیاتی مسائل پر جم کر لکھا ہے۔ اس نمبر میں میں فہیم اعظمی کے چند ان اراریوں کو بھی شامل کیا گیا ھے۔ جو متنازعہ بھی ہیں اور نئی فکری رویوں کو بھی دریافت کرتے ہیں۔ جتے وہ سچے اور کھرے انسان تھے وہ اتنے ھی کھرے اصولوں کے ساتھ " صریر" نکالتے تھے۔وہ ایک وسیع النظر اور وسیع مطالعہ انسان تھے۔ " صریر کا ڈاکٹر فہیم اعظمی نمبر" ان کی شخصیت کے علاوہ جدید نظریات اور تنقید پر محاکمہ بھی ھے۔
فہیم اعظمی کا اصل نام سید باقر رضوی تھا۔ پیار سے انھیں گھر والے اور قریبی دوست " دلارے میاں‘ کہتے تھے ۔ 1935ء میں ، چماوان، ضلع اعظم گڑھ، اتر پردیش، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اعظم گڑھ، الہ آباد، لاہور اور کراچی میں حاصل کی۔ پاکستانی فصائیہ میں ملازمت کی۔ ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم رہے۔ وہ ممتاز اردو نقاد اور استاد سجاد باقر رضوی (1995ء میں انتقال ہوا) ان کے چھوٹے بھائی تھے۔۔ ہندوستان میں فہیم اعظمی کے چچا زاد بھائی مہدی اعظمی اور بھتیجے شعور اعظمی اردو زبان و ادب کی خدمت میں مشغول ہیں. اللہ اس خانوادے کو مزید عزت و احترام عطا فرمائے. آمین۔ فہیم اعظمی کا انتقال 14 جولائی 2004ء میں کراچی کے محلے انچولی، بلاک 20 فیڈرل بی ایریامیں میں ہوا۔
تصانیف:
"بہت دیر ھوچکی" (ناول)
"ڈسٹی نیشن مین ھول" (ناول)
" آرتمس کے بھول‘ (کہانیاں)
"شوق مفضل" (شاعری)
"رائدیں جدیدیت" (شخصیات، نظریہ اور تنقید)موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
-
