noImage

فہیم گورکھپوری

1878 | گورکھپور, ہندوستان

غزل 11

اشعار 5

کردار دیکھنا ہے تو صورت نہ دیکھیے

ملتا نہیں زمیں کا پتا آسمان سے

  • شیئر کیجیے

کہہ کے یہ پھیر لیا منہ مرے افسانے سے

فائدہ روز کہیں بات کے دہرانے سے

saying this, from my tale, she turned her face away

what will be gained by repeating this thing every day

  • شیئر کیجیے

رہ گئی ہے کچھ کمی تو کیا شکایت ہے فہیمؔ

اس جہاں میں سب ادھورے ہیں مکمل کون ہے

  • شیئر کیجیے

کتاب 1

یادگار فہیم

 

1983

 

"گورکھپور" کے مزید مصنفین

  • عمر قریشی عمر قریشی