noImage

فہیم گورکھپوری

1878 | گورکھپور, ہندوستان

اشعار 5

کردار دیکھنا ہے تو صورت نہ دیکھیے

ملتا نہیں زمیں کا پتا آسمان سے

  • شیئر کیجیے

کہہ کے یہ پھیر لیا منہ مرے افسانے سے

فائدہ روز کہیں بات کے دہرانے سے

saying this, from my tale, she turned her face away

what will be gained by repeating this thing every day

saying this, from my tale, she turned her face away

what will be gained by repeating this thing every day

  • شیئر کیجیے

رہ گئی ہے کچھ کمی تو کیا شکایت ہے فہیمؔ

اس جہاں میں سب ادھورے ہیں مکمل کون ہے

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 1

یادگار فہیم

 

1983

 

مصنفین کے مزید "گورکھپور"

  • صدیق عالم صدیق عالم
  • حیدر بیابانی حیدر بیابانی
  • صادقہ نواب سحر صادقہ نواب سحر
  • معین الدین جینابڑے معین الدین جینابڑے
  • محمد ہاشم خان محمد ہاشم خان
  • عشرت ناہید عشرت ناہید
  • بانو سرتاج بانو سرتاج
  • ناصرہ شرما ناصرہ شرما
  • انور قمر انور قمر
  • راجہ یوسف راجہ یوسف