Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Faheem Jogapuri's Photo'

فہیم جوگاپوری

سیوان, انڈیا

فہیم جوگاپوری کے اشعار

5.8K
Favorite

باعتبار

نہ بات دل کی سنوں میں نہ دل سنے میری

یہ سرد جنگ ہے اپنے ہی اک مشیر کے ساتھ

ہم اہل غم کو حقارت سے دیکھنے والو

تمہاری ناؤ انہیں آنسوؤں سے چلتی ہے

ملن کے بعد آتی ہے جدائی

نرک بھی سورگ سے کتنا نکٹ ہے

رستے میں فہیمؔ اس کی طبیعت کا بگڑنا

گھر جانے کا اک اور بہانہ تو نہیں ہے

دہن گیسو زباں آنکھیں اشارے

سبھی رستے لب اظہار کے ہیں

تیری یادیں ہو گئیں جیسے مقدس آیتیں

چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر

تمہاری یاد سے یہ رات کتنی روشن ہے

نظر میں اتنے ہیں جگنو کہ ہم گنائیں کیا

بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیں

کھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہے

رہ گئی ہے کچھ کمی تو کیا شکایت ہے فہیمؔ

اس جہاں میں سب ادھورے ہیں مکمل کون ہے

اڑانیں بھرنے والے یہ پرندے

نمائندہ تری رفتار کے ہیں

شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے

لوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے

کسی کے در پہ سجدہ کرتے کرتے

فہیمؔ ایسا نہ ہو سر ٹوٹ جائے

کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیا

پیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کر

مرگھٹ پتھ پر دیکھ کے ہم کو جانے کیا کیا سوچیں وہ

آنکھوں سے کیا پنیہ کمائے ہونٹوں سے کیا دان ہوئے

واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سے

وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے

جائیں گے ایک روز سمندر کی گود میں

دریا کے ساتھ ریت کی تحریر اور ہم

Recitation

بولیے