فہیم جوگاپوری کے اشعار
نہ بات دل کی سنوں میں نہ دل سنے میری
یہ سرد جنگ ہے اپنے ہی اک مشیر کے ساتھ
ہم اہل غم کو حقارت سے دیکھنے والو
تمہاری ناؤ انہیں آنسوؤں سے چلتی ہے
رستے میں فہیمؔ اس کی طبیعت کا بگڑنا
گھر جانے کا اک اور بہانہ تو نہیں ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دہن گیسو زباں آنکھیں اشارے
سبھی رستے لب اظہار کے ہیں
تیری یادیں ہو گئیں جیسے مقدس آیتیں
چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تمہاری یاد سے یہ رات کتنی روشن ہے
نظر میں اتنے ہیں جگنو کہ ہم گنائیں کیا
بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیں
کھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہے
رہ گئی ہے کچھ کمی تو کیا شکایت ہے فہیمؔ
اس جہاں میں سب ادھورے ہیں مکمل کون ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اڑانیں بھرنے والے یہ پرندے
نمائندہ تری رفتار کے ہیں
-
موضوع : پرندہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہے
لوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہے
کسی کے در پہ سجدہ کرتے کرتے
فہیمؔ ایسا نہ ہو سر ٹوٹ جائے
کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیا
پیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کر
مرگھٹ پتھ پر دیکھ کے ہم کو جانے کیا کیا سوچیں وہ
آنکھوں سے کیا پنیہ کمائے ہونٹوں سے کیا دان ہوئے
واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سے
وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے
جائیں گے ایک روز سمندر کی گود میں
دریا کے ساتھ ریت کی تحریر اور ہم
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ