- کتاب فہرست 180576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
ڈرامہ915 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1568 صحت104 تاریخ3280طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1691 خطوط733
طرز زندگی30 طب972 تحریکات269 ناول4268 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6503افسانہ2662 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب433 ترجمہ4211خواتین کی تحریریں5765-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1253
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1572
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1205
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
فارحہ ارشد کے افسانے
آنکھ کی پتلی کا تماشا
’’مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔ اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا۔‘‘ وہ خالی نظروں سے دور کہیں ان دیکھے منظروں میں کھوئی کہہ رہی تھی۔ میں نے کچھ حیرانی اور قدرے دلچسپی سے اسے دیکھا اور بنا ٹوکے اسے کہنے دیا جو نجانے کب سے وہ کہنا
میری ہم رقص
یہ ایک عریاں شام تھی۔ جس کے برہنہ سینے پہ وہ رقصاں تھی اور رقص بھی ایسا کہ نرت نرت پہ وقت ٹھہر کر اس کے نازواندازپہ نچھاور ہونے لگا۔ ڈھولک اور طبلے والےنئی سے نئی گت پیش کر رہے تھے۔ بھدے نقوش مگر سریلی آواز والی مغنیہ نے تان باندھی پریشاں ہوکے
اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا
جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔ پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو۔ من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔
ننگے ہاتھ
اس روزخاندان میں طوفان آ گیا جب اس نے چچا کو اپنے ننگے ہاتھ سے چھو لیا۔ دالانوں اور بالکنیوں سے رنگین کڑھائیوں اور چمکتے ستاروں سے آراستہ دستانوں والے جانے کتنے ہاتھ برآمد ہوئے اور اسے گھسیٹتے ہوئے تاریکی میں گم ہو گئے۔ 'خدایا! مجھے ہمت دے میں
زمیں زادہ
وہ جس کے سر سے جنگلی کبوتروں کی خوشبو آتی تھی، اسے کافور کی بو نے بد حواس کردیا۔ اس بُو کے ادراک نے اسے انکار کا حرف سکھایا اور وہ رات کے اندھیرے میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ کتنی کھائیوں میں گرا، کتنی چوٹیں کھائیں۔ کیسے زخموں نے نڈھال کیا، یہ ایک خوفناک
توبہ سے ذرا پہلے
"مجھے تم سے نفرت ہے‘‘۔۔۔ ایک کردار نے دوسرے سے کہا اور اس نے یوں اسے مڑ کر دیکھا کہ وہ خود بھی ایک لمحے کو ساکت ہو گیا بالکل اس کی نظر کی طرح ٹھنڈا، یخ، ساکت۔ "تو گویا محبت نہ ہوئی کوئی تھیٹر پلے ہو گیا۔ چلیے جی یہ سین ختم۔۔۔ اٹھائیے کرسی، میز اور
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
-
