- کتاب فہرست 181556
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ923 تعلیم343 مضامين و خاكه1385 قصہ / داستان1593 صحت105 تاریخ3280طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1706 خطوط742
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4297 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6595افسانہ2681 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1280
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد54
- مزاحیہ31
- انتخاب1600
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی746
- مسدس43
- نعت582
- نظم1203
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
فارحہ ارشد کے افسانے
آنکھ کی پتلی کا تماشا
’’مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔ اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا۔‘‘ وہ خالی نظروں سے دور کہیں ان دیکھے منظروں میں کھوئی کہہ رہی تھی۔ میں نے کچھ حیرانی اور قدرے دلچسپی سے اسے دیکھا اور بنا ٹوکے اسے کہنے دیا جو نجانے کب سے وہ کہنا
میری ہم رقص
یہ ایک عریاں شام تھی۔ جس کے برہنہ سینے پہ وہ رقصاں تھی اور رقص بھی ایسا کہ نرت نرت پہ وقت ٹھہر کر اس کے نازواندازپہ نچھاور ہونے لگا۔ ڈھولک اور طبلے والےنئی سے نئی گت پیش کر رہے تھے۔ بھدے نقوش مگر سریلی آواز والی مغنیہ نے تان باندھی پریشاں ہوکے
اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا
جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔ پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو۔ من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔
ننگے ہاتھ
اس روزخاندان میں طوفان آ گیا جب اس نے چچا کو اپنے ننگے ہاتھ سے چھو لیا۔ دالانوں اور بالکنیوں سے رنگین کڑھائیوں اور چمکتے ستاروں سے آراستہ دستانوں والے جانے کتنے ہاتھ برآمد ہوئے اور اسے گھسیٹتے ہوئے تاریکی میں گم ہو گئے۔ 'خدایا! مجھے ہمت دے میں
زمیں زادہ
وہ جس کے سر سے جنگلی کبوتروں کی خوشبو آتی تھی، اسے کافور کی بو نے بد حواس کردیا۔ اس بُو کے ادراک نے اسے انکار کا حرف سکھایا اور وہ رات کے اندھیرے میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ کتنی کھائیوں میں گرا، کتنی چوٹیں کھائیں۔ کیسے زخموں نے نڈھال کیا، یہ ایک خوفناک
توبہ سے ذرا پہلے
"مجھے تم سے نفرت ہے‘‘۔۔۔ ایک کردار نے دوسرے سے کہا اور اس نے یوں اسے مڑ کر دیکھا کہ وہ خود بھی ایک لمحے کو ساکت ہو گیا بالکل اس کی نظر کی طرح ٹھنڈا، یخ، ساکت۔ "تو گویا محبت نہ ہوئی کوئی تھیٹر پلے ہو گیا۔ چلیے جی یہ سین ختم۔۔۔ اٹھائیے کرسی، میز اور
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
