غزل 6

اشعار 6

وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے

ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں

ہیں راکھ راکھ مگر آج تک نہیں بکھرے

کہو ہوا سے ہماری مثال لے آئے

جھوٹ سچ میں کوئی پہچان کرے بھی کیسے

جو حقیقت کا ہی معیار فسانہ ٹھہرا

کتاب 1

پیش رو : غزلیں

 

2000

 

تصویری شاعری 1

سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں آج دریا بھی سمندر میں اترتے کب ہیں وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں یوں بھی لگتا ہے تری یاد بہت ہے لیکن زخم یہ دل کے تری یاد سے بھرتے کب ہیں لہر کے سامنے ساحل کی حقیقت کیا ہے جن کو جینا ہے وہ حالات سے ڈرتے کب ہیں یہ الگ بات ہے لہجے میں اداسی ہے شمیمؔ ورنہ ہم درد کا اظہار بھی کرتے کب ہیں

 

"اورنگ آباد" کے مزید مصنفین

  • منہاج نقیب منہاج نقیب