- کتاب فہرست 177688
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6601افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
فوزیہ قریشی کے افسانے
امتل
تالیوں کی گونج نے سمینار کے اختتام کا اعلان کیا تو وہ اپنا بیگ اٹھا کر سست روی سے قدم بڑھاتی ہوئی ھال کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ دروازے سے چند قدم دوری پر تھی کہ کسی نے اسے پیچھے سے پکارا۔ وہ ٹھٹھک کر رکی اور مُڑ کر دیکھا تو پروفیسر فصیح چوہدری
دوسرا مرد
‘‘جب مرد کسی سے محبت کرتا ہے تو کیا سچ مچ واقعی اسی سے محبت کرتا ہے، کیا پھر اس سے شادی بھی کر لیتا ہے؟’‘ ’’وہ مجھ سے آج رو رو کر پوچھ رہی تھی۔ ساون کی کالی گھور گھٹاوں کی طرح اس کی آنکھوں میں آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کی خوبصورت چمکدار
میرے خیالوں کی ہم سفر
آج بھی جب وہ یاد آتی ہے تونجانے کیوں؟ میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ دل کے موسم پر ویرانی کی بدلی سی چھا جاتی ہے۔ مجھے تو اس سے کبھی محبت تھی ہی نہیں۔۔۔ پھر ایسا کیا ہوا؟ کب، کیوں اور کیسے ہو گیا؟ یہی بات میرے لئے حیران کن تھی۔ وہ جب مجھ سے پوچھتی، علی!!
محبت جاوداں میری
محبت کرنے والوں کی شخصیت میں تضاد ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں بھی تضاد تھا۔ گہرا تضاد۔ یوں تو محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی، نہ تو کوئی مذہب اس کے آڑے آتا ہے اور نہ ہی کوئی سرحد۔ لیکن زمانے کے لئے میں اب اس عمر کو پہنچ چکی تھی کہ مجھے محبت کا نہ حق تھا اور
تہذیب کی برزخ
‘’ارے۔۔۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے؟۔ جب دیکھو اور جسے دیکھو بس نصیحت پہ نصیحیت کرنے پر تلا ہے۔۔۔ سب کا بس مجھ ہی پر کیوں چلتا ہے؟’’ جینا، ان وقت ناوقت ملی نصیحتوں کی بھرمار سے بری طرح اکتا چکی تھی۔ امی، دادی اماں اور ابا جان۔۔۔ ارے سب کے سب۔۔۔
گہرے گھاؤ
نومبر کی وہ وحشت نا ک شام اس کے لاشعور میں کائی کی طرح جم چکی تھی۔ اسے اپنے ہاتھ لال اور ہرے رنگ کا ایک شاہکار دکھائی دیتے تھے۔ جیسے کسی آرٹسٹ نے اپنے دل کے رنگین زخم کینوس پر اتار دیئے ھوں۔ جب وہ کھرچ کھرچ کر تھک جاتی تو وارڈ میں موجود سب کرم فرماؤں
حسن نظر
’’ارے رکو، سنو تو کائنات۔۔۔ کائنات‘‘ میری آواز آس پاس کے شور میں کہیں دب کر رہ گئی اور وہ اس کا ہاتھ تھامے بس میں سوار ہو گئی۔ ’’وہ کون تھا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں کیوں تھا؟ کون ہو سکتا ہے؟ جس کے ہونے کا احساس اتنا قوی ہے کہ اسے کچھ سنائی
وجود سے وجود تک
’’اللہ نے اسے پانچ برس بعد اس خوشخبری سے نوازہ تھا۔ جس کے لیے وہ پل پل ترسی تھی۔ اب اس کے بھی اولاد کی مہک آئےگی، اس کا سونا پن بھی اب دور ہو جائےگا۔’’ ‘’وہ عاشر کو اپنی رپورٹ دکھاتے ہوئے بولی،۔ تم اب خوش ہو نا، اب تو تم دوسری شادی نہیں کروگے بولو’’ وہ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
