- کتاب فہرست 179254
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
فوزیہ قریشی کے افسانے
امتل
تالیوں کی گونج نے سمینار کے اختتام کا اعلان کیا تو وہ اپنا بیگ اٹھا کر سست روی سے قدم بڑھاتی ہوئی ھال کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ دروازے سے چند قدم دوری پر تھی کہ کسی نے اسے پیچھے سے پکارا۔ وہ ٹھٹھک کر رکی اور مُڑ کر دیکھا تو پروفیسر فصیح چوہدری
دوسرا مرد
‘‘جب مرد کسی سے محبت کرتا ہے تو کیا سچ مچ واقعی اسی سے محبت کرتا ہے، کیا پھر اس سے شادی بھی کر لیتا ہے؟’‘ ’’وہ مجھ سے آج رو رو کر پوچھ رہی تھی۔ ساون کی کالی گھور گھٹاوں کی طرح اس کی آنکھوں میں آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کی خوبصورت چمکدار
میرے خیالوں کی ہم سفر
آج بھی جب وہ یاد آتی ہے تونجانے کیوں؟ میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ دل کے موسم پر ویرانی کی بدلی سی چھا جاتی ہے۔ مجھے تو اس سے کبھی محبت تھی ہی نہیں۔۔۔ پھر ایسا کیا ہوا؟ کب، کیوں اور کیسے ہو گیا؟ یہی بات میرے لئے حیران کن تھی۔ وہ جب مجھ سے پوچھتی، علی!!
محبت جاوداں میری
محبت کرنے والوں کی شخصیت میں تضاد ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں بھی تضاد تھا۔ گہرا تضاد۔ یوں تو محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی، نہ تو کوئی مذہب اس کے آڑے آتا ہے اور نہ ہی کوئی سرحد۔ لیکن زمانے کے لئے میں اب اس عمر کو پہنچ چکی تھی کہ مجھے محبت کا نہ حق تھا اور
تہذیب کی برزخ
‘’ارے۔۔۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے؟۔ جب دیکھو اور جسے دیکھو بس نصیحت پہ نصیحیت کرنے پر تلا ہے۔۔۔ سب کا بس مجھ ہی پر کیوں چلتا ہے؟’’ جینا، ان وقت ناوقت ملی نصیحتوں کی بھرمار سے بری طرح اکتا چکی تھی۔ امی، دادی اماں اور ابا جان۔۔۔ ارے سب کے سب۔۔۔
گہرے گھاؤ
نومبر کی وہ وحشت نا ک شام اس کے لاشعور میں کائی کی طرح جم چکی تھی۔ اسے اپنے ہاتھ لال اور ہرے رنگ کا ایک شاہکار دکھائی دیتے تھے۔ جیسے کسی آرٹسٹ نے اپنے دل کے رنگین زخم کینوس پر اتار دیئے ھوں۔ جب وہ کھرچ کھرچ کر تھک جاتی تو وارڈ میں موجود سب کرم فرماؤں
حسن نظر
’’ارے رکو، سنو تو کائنات۔۔۔ کائنات‘‘ میری آواز آس پاس کے شور میں کہیں دب کر رہ گئی اور وہ اس کا ہاتھ تھامے بس میں سوار ہو گئی۔ ’’وہ کون تھا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں کیوں تھا؟ کون ہو سکتا ہے؟ جس کے ہونے کا احساس اتنا قوی ہے کہ اسے کچھ سنائی
وجود سے وجود تک
’’اللہ نے اسے پانچ برس بعد اس خوشخبری سے نوازہ تھا۔ جس کے لیے وہ پل پل ترسی تھی۔ اب اس کے بھی اولاد کی مہک آئےگی، اس کا سونا پن بھی اب دور ہو جائےگا۔’’ ‘’وہ عاشر کو اپنی رپورٹ دکھاتے ہوئے بولی،۔ تم اب خوش ہو نا، اب تو تم دوسری شادی نہیں کروگے بولو’’ وہ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
