- کتاب فہرست 179576
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
جی اے کلکرنی کے افسانے
مکتی
سامنے گہرے سبز رنگ کا پہاڑ گویا کسی کے انتظار میں کھڑا تھا۔ پہاڑ سے اوپر کو جاتا راستہ یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے کوئی سفید سانپ لہراتا چلا جا رہا ہو۔ زخموں سے سلگتے ہوئے اپنے جسم کو اس نے ایک چٹان سے ٹکایا اور دل برداشتہ ساوہیں بیٹھ گیا۔ اتنا عرصہ ہوگیا
سوامی
پیڑوں کی پھنگیوں میں اٹکتا ہوا سورج سامنے ٹیکری کے پیچھے چھپ گیا اور اچانک چاروں طرف ایک دھند سی چھا گئی۔ اس کے پیروں کے نیچے وہ پکڈنڈی کسی عظیم الجثہ اژدھے کی مانند بےحس و حرکت پڑی تھی۔ ساتھ ہی اسے احساس بھی ہو گیا کہ اس نے پیدل راستے سے آکر غلطی کی
پرساد
بائیں طرف نیل گری کے اونچے اور گھنے درختوں کے سایوں میں پچھلی شاہراہ سے وہ مندر کی سمت جانے والی پگڈنڈی پر مڑ گیا۔ اس وقت چاروں طرف گہری نیلی دھند پھیلی ہوئی تھی اور جگہ جگہ بکھری خود رو جھاڑیوں کے جھنڈ دھندلی پرچھائیوں کی طرح غیرواضح لگ رہے تھے۔ لیکن
قاصد
شہر کی جانب آنے والی شاہراہ پر ایک رتھ برق رفتاری سے چلا آ رہا تھا۔ رتھ پر سمراٹ کا مخصوص نیلا پرچم لہرا رہا تھا۔ جس پر بڑے سے راج ہنس کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ دوارپال نے دور سے رتھ کو آتے ہوئے دیکھ لیا اور جلدی سے دروازے کا بڑا ساارگل ہٹا دیا۔ ارگل
غلام
اُن تنگ وتاریک گلیوں سے گزرتے ہوئے مسافرکو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی مردہ جانور کی سڑی گلی آنت میں سے آگے کو سرکتا جا رہا ہے۔ چلتے چلتے اس کے پاؤں شل ہو گئے تھے۔ اس نے ایک ایک راستہ ایک ایک گلی چھان ڈالی تھی، جیسے کوئی الجھے ہوئے دھاگوں کو ایک
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
