- کتاب فہرست 180695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4275 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6695افسانہ2671 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4185-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ386
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
غضنفر کا تعارف
عجیب بات ہمارا ہی خوں ہوا پانی
ہمیں نے آگ میں اپنے بدن بھگوئے تھے
شناخت: فکشن نگار، شاعر، نقاد اور اردو کے ہمہ جہت ادیب
غضنفر 9 مارچ 1953ء کو چوراؤں، ضلع گوپال گنج (صوبہ بہار) کے ایک دیہی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام درودن خاتون اور والد کا نام عبد المجیب تھا۔
مسلم روایتی انداز میں ان کی تعلیم کا آغاز مدرسے سے ہوا، اس کے بعد انہوں نے قطب چھپرہ (ضلع سیوان) کے اپر پرائمری مکتب سے پانچویں، پھر سیمرا مڈل اسکول سے مڈل اور وی-ایم-ایم-ایچ-ای اسکول گوپال گنج سے ہائر سیکنڈری کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد گوپال گنج کالج سے بی۔اے کیا۔
بہار یونیورسٹی، مظفر پور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا، تاہم بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی منتقل ہو گئے، جہاں سے 1976ء میں ایم اے اردو امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ 1982ء میں ’’شبلی نعمانی کے تنقیدی نظریات‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
پروفیسر غضنفر نے ملک کے مختلف اہم لسانی اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ وہ اے ایم یو میں عارضی لیکچرر، 'اردوئے معلیٰ' کے سینیئر سکرٹری اور 'علی گڑھ میگزین' کے اداریہ بورڈ کے ممبر رہے۔
یو پی ایس سی (UPSC) کے ذریعے ان کا تقرر 'اردو ٹیچنگ اینڈ ریسرچ سنٹر' سولن (ہماچل پردیش) میں بطور لیکچرر کم جے-آر-او ہوا، جہاں انہوں نے 11-12 سال خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ لکھنؤ سنٹر کے پرنسپل بنے۔
دورانِ ملازمت وہ اے ایم یو کے شعبۂ اردو میں 3 سال تک ریڈر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سندھی اکادمی بڑودرا کے ڈائریکٹر اور ریجنل لینگویجز پٹیالہ (پنجاب) کے انچارج کی حیثیت سے بھی کام کیا۔
2008ء میں ان کا تقرر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کی 'اکادمی برائے فروغِ اردو اساتذہ' میں پروفیسر اور ڈائریکٹر کے عہدے پر ہوا۔ 10 سال کی خدمات کے بعد 2018ء میں یہاں سے سبکدوش ہوئے۔ وہ 'اردو اسٹائل مینوئل' کے ایڈیٹر رہے اور جامعہ سے ایک منفرد تعلیمی رسالہ "تدریس نامہ" بھی جاری کیا۔
غضنفر کا شمار اردو کے معاصر فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ناول، افسانہ، شاعری، تنقید، خاکہ نگاری، مثنوی، ڈراما اور تدریسِ زبان و ادب سمیت مختلف اصناف میں کام کیا۔
ان کے ناولوں میں ’’پانی‘‘، ’’کینچلی‘‘، ’’کہانی انکل‘‘، ’’دویہ بانی‘‘، ’’فسوں‘‘، ’’وش منتھن‘‘، ’’مم‘‘، ’’شوراب‘‘ اور ’’مانجھی‘‘ شامل ہیں۔ "پانی" (1989ء) کا اردو کے بہتر ناولوں میں شمار ہوتا ہے جس میں پانی کی اجارہ داری اور انسانی استعارے کو خوبصورتی سے برتا گیا ہے۔
ان کی دیگر تصانیف میں ’’حیرت فروش‘‘، ’’پارکنگ ایریا‘‘، ’’آنکھ میں لکنت‘‘، ’’سخن غنچہ‘‘، ’’سرخ رو‘‘، ’’روئے خوش رنگ‘‘، ’’فکشن سے الگ‘‘، ’’مشرقی معیارِ نقد‘‘ وغیرہ ہیں، جبکہ ’’دیکھ لی دنیا ہم نے‘‘ خودنوشت ہے۔
غضنفر کو ان کی اردو خدمات کے لیے متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88161416
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
