- کتاب فہرست 180840
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1365 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح598 صحافت200 زبان و ادب1697 خطوط738
طرز زندگی30 طب973 تحریکات271 ناول4269 سیاسی351 مذہبیات4771 تحقیق و تنقید6536افسانہ2669 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2010نصابی کتاب437 ترجمہ4222خواتین کی تحریریں5775-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1258
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1592
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4858
- مرثیہ387
- مثنوی738
- مسدس44
- نعت587
- نظم1206
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
غضنفر کا تعارف
عجیب بات ہمارا ہی خوں ہوا پانی
ہمیں نے آگ میں اپنے بدن بھگوئے تھے
شناخت: فکشن نگار، شاعر، نقاد اور اردو کے ہمہ جہت ادیب
غضنفر 9 مارچ 1953ء کو چوراؤں، ضلع گوپال گنج (صوبہ بہار) کے ایک دیہی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام درودن خاتون اور والد کا نام عبد المجیب تھا۔
مسلم روایتی انداز میں ان کی تعلیم کا آغاز مدرسے سے ہوا، اس کے بعد انہوں نے قطب چھپرہ (ضلع سیوان) کے اپر پرائمری مکتب سے پانچویں، پھر سیمرا مڈل اسکول سے مڈل اور وی-ایم-ایم-ایچ-ای اسکول گوپال گنج سے ہائر سیکنڈری کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد گوپال گنج کالج سے بی۔اے کیا۔
بہار یونیورسٹی، مظفر پور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا، تاہم بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی منتقل ہو گئے، جہاں سے 1976ء میں ایم اے اردو امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ 1982ء میں ’’شبلی نعمانی کے تنقیدی نظریات‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
پروفیسر غضنفر نے ملک کے مختلف اہم لسانی اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ وہ اے ایم یو میں عارضی لیکچرر، 'اردوئے معلیٰ' کے سینیئر سکرٹری اور 'علی گڑھ میگزین' کے اداریہ بورڈ کے ممبر رہے۔
یو پی ایس سی (UPSC) کے ذریعے ان کا تقرر 'اردو ٹیچنگ اینڈ ریسرچ سنٹر' سولن (ہماچل پردیش) میں بطور لیکچرر کم جے-آر-او ہوا، جہاں انہوں نے 11-12 سال خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ لکھنؤ سنٹر کے پرنسپل بنے۔
دورانِ ملازمت وہ اے ایم یو کے شعبۂ اردو میں 3 سال تک ریڈر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سندھی اکادمی بڑودرا کے ڈائریکٹر اور ریجنل لینگویجز پٹیالہ (پنجاب) کے انچارج کی حیثیت سے بھی کام کیا۔
2008ء میں ان کا تقرر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کی 'اکادمی برائے فروغِ اردو اساتذہ' میں پروفیسر اور ڈائریکٹر کے عہدے پر ہوا۔ 10 سال کی خدمات کے بعد 2018ء میں یہاں سے سبکدوش ہوئے۔ وہ 'اردو اسٹائل مینوئل' کے ایڈیٹر رہے اور جامعہ سے ایک منفرد تعلیمی رسالہ "تدریس نامہ" بھی جاری کیا۔
غضنفر کا شمار اردو کے معاصر فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ناول، افسانہ، شاعری، تنقید، خاکہ نگاری، مثنوی، ڈراما اور تدریسِ زبان و ادب سمیت مختلف اصناف میں کام کیا۔
ان کے ناولوں میں ’’پانی‘‘، ’’کینچلی‘‘، ’’کہانی انکل‘‘، ’’دویہ بانی‘‘، ’’فسوں‘‘، ’’وش منتھن‘‘، ’’مم‘‘، ’’شوراب‘‘ اور ’’مانجھی‘‘ شامل ہیں۔ "پانی" (1989ء) کا اردو کے بہتر ناولوں میں شمار ہوتا ہے جس میں پانی کی اجارہ داری اور انسانی استعارے کو خوبصورتی سے برتا گیا ہے۔
ان کی دیگر تصانیف میں ’’حیرت فروش‘‘، ’’پارکنگ ایریا‘‘، ’’آنکھ میں لکنت‘‘، ’’سخن غنچہ‘‘، ’’سرخ رو‘‘، ’’روئے خوش رنگ‘‘، ’’فکشن سے الگ‘‘، ’’مشرقی معیارِ نقد‘‘ وغیرہ ہیں، جبکہ ’’دیکھ لی دنیا ہم نے‘‘ خودنوشت ہے۔
غضنفر کو ان کی اردو خدمات کے لیے متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n88161416
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
