- کتاب فہرست 179527
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1603 صحت105 تاریخ3317طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6654افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب458 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4870
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت579
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
غازی علم الدین کا تعارف
پروفیسر غازی علم الدین پروفیسر غازی علم الدین اورینٹل کالج پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے 1983کے فارغ التحصیل ہیں،35سالہ تدریسی خدمات اور پرنسپل جیسے عہدے سے 2018 کو ریٹائر ہوچکے ہیں۔لسانی مسائل و موضوعات پرلکھنے کی بِنا پر موصوف اُردو دُنیا میں معروف ہیں، تحقیق اور تنقید بھی اُن کے میدان ہیں۔ زمانۂ طالب ِ علمی اور تدریسی دَور میں اِدارت کے وسیع تجربے کے بھی حامل ہیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج( افضل پور۔ میر پور پاکستان) کی پرنسپل شپ کے زمانے میں ان کی ادارت میں شائع ہونے والا کالج کا مجلہ ’سیماب‘ جو چار سَو سے زاید صفحات کا حامل ہے اپنے اکثر مشمولات کے سبب ایک یادگار پیش کش ہے جس میں انہوں نے اپنے طلبہ کو بھی اس کی ادارت میں شامل رکھا ،اس عمل سےان کی تربیت مطلوب تھی۔ موصوف پاکستان میں منعقدہ کئی اُردو کانفرنسوں میں تحقیقی مقالے پیش کر چکے ہیں ۔ متعدد یونی ورسٹیوں میں لسانیات پر توسیعی خطبات اور خصوصی لکچر دے چکے ہیں ۔ ان کے نام مشاہیر ِ زبان و ادب کے خطوط کے دو ضخیم مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی تصانیف پاکستان کے علاوہ ہندستان کے معروف ادارے بھی چھاپ چکے ہیں۔ پاکستان کے اسّی کے لگ بھگ رسائل و جرائد اور اخبارات میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں جبکہ بھارت کے پینتیس (35) کے قریب رسائل و جرائد اوراخبارات میں گاہے گاہے ان کی نگارشات منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ اس وقت وہ تدریسی ملازمت سے ریٹائرڈ ہیں مگر علمی و تحقیقی کاموں میں ان کی مصروفیات حسب ِسابق ہیں۔ اُردو کے ممتاز ادیب اور ماہر لسانیات پروفیسر ڈاکٹر رؤف پاریکھ ان کے بارے میں لکھتے ہیں :’’ غازی علم الدین سے ہم محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ اُردو سے محبت کرتے ہیں، ہم دونوں اسی ظالم پَہ مرتے ہیں جس کا نام اُردو ہے۔ اس لحاظ سے گویا وہ ہمارے حبیب ہی نہیں رقیب بھی ہیں،لیکن اُردو سے محبت ایک ایسا رشتہ ہے کہ جس میں رقیب پر بھی پیار آتا ہے،غازی صاحب جیسے عاشقان ِاُردو سے دل کو تقویت ہوتی ہے،خدا کرے کہ وہ یونہی محبتیں بانٹتے رہیں.
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
