- کتاب فہرست 177354
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1580 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط736
طرز زندگی30 طب977 تحریکات272 ناول4283 سیاسی354 مذہبیات4730 تحقیق و تنقید6591افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4243خواتین کی تحریریں5836-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4843
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1190
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
غازی علم الدین کا تعارف
پروفیسر غازی علم الدین پروفیسر غازی علم الدین اورینٹل کالج پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے 1983کے فارغ التحصیل ہیں،35سالہ تدریسی خدمات اور پرنسپل جیسے عہدے سے 2018 کو ریٹائر ہوچکے ہیں۔لسانی مسائل و موضوعات پرلکھنے کی بِنا پر موصوف اُردو دُنیا میں معروف ہیں، تحقیق اور تنقید بھی اُن کے میدان ہیں۔ زمانۂ طالب ِ علمی اور تدریسی دَور میں اِدارت کے وسیع تجربے کے بھی حامل ہیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج( افضل پور۔ میر پور پاکستان) کی پرنسپل شپ کے زمانے میں ان کی ادارت میں شائع ہونے والا کالج کا مجلہ ’سیماب‘ جو چار سَو سے زاید صفحات کا حامل ہے اپنے اکثر مشمولات کے سبب ایک یادگار پیش کش ہے جس میں انہوں نے اپنے طلبہ کو بھی اس کی ادارت میں شامل رکھا ،اس عمل سےان کی تربیت مطلوب تھی۔ موصوف پاکستان میں منعقدہ کئی اُردو کانفرنسوں میں تحقیقی مقالے پیش کر چکے ہیں ۔ متعدد یونی ورسٹیوں میں لسانیات پر توسیعی خطبات اور خصوصی لکچر دے چکے ہیں ۔ ان کے نام مشاہیر ِ زبان و ادب کے خطوط کے دو ضخیم مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی تصانیف پاکستان کے علاوہ ہندستان کے معروف ادارے بھی چھاپ چکے ہیں۔ پاکستان کے اسّی کے لگ بھگ رسائل و جرائد اور اخبارات میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں جبکہ بھارت کے پینتیس (35) کے قریب رسائل و جرائد اوراخبارات میں گاہے گاہے ان کی نگارشات منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ اس وقت وہ تدریسی ملازمت سے ریٹائرڈ ہیں مگر علمی و تحقیقی کاموں میں ان کی مصروفیات حسب ِسابق ہیں۔ اُردو کے ممتاز ادیب اور ماہر لسانیات پروفیسر ڈاکٹر رؤف پاریکھ ان کے بارے میں لکھتے ہیں :’’ غازی علم الدین سے ہم محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ اُردو سے محبت کرتے ہیں، ہم دونوں اسی ظالم پَہ مرتے ہیں جس کا نام اُردو ہے۔ اس لحاظ سے گویا وہ ہمارے حبیب ہی نہیں رقیب بھی ہیں،لیکن اُردو سے محبت ایک ایسا رشتہ ہے کہ جس میں رقیب پر بھی پیار آتا ہے،غازی صاحب جیسے عاشقان ِاُردو سے دل کو تقویت ہوتی ہے،خدا کرے کہ وہ یونہی محبتیں بانٹتے رہیں.
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1986
-
