- کتاب فہرست 180405
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ918 تعلیم344 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1585 صحت105 تاریخ3273طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4751 تحقیق و تنقید6590افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
غازی علم الدین کا تعارف
پروفیسر غازی علم الدین پروفیسر غازی علم الدین اورینٹل کالج پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے 1983کے فارغ التحصیل ہیں،35سالہ تدریسی خدمات اور پرنسپل جیسے عہدے سے 2018 کو ریٹائر ہوچکے ہیں۔لسانی مسائل و موضوعات پرلکھنے کی بِنا پر موصوف اُردو دُنیا میں معروف ہیں، تحقیق اور تنقید بھی اُن کے میدان ہیں۔ زمانۂ طالب ِ علمی اور تدریسی دَور میں اِدارت کے وسیع تجربے کے بھی حامل ہیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج( افضل پور۔ میر پور پاکستان) کی پرنسپل شپ کے زمانے میں ان کی ادارت میں شائع ہونے والا کالج کا مجلہ ’سیماب‘ جو چار سَو سے زاید صفحات کا حامل ہے اپنے اکثر مشمولات کے سبب ایک یادگار پیش کش ہے جس میں انہوں نے اپنے طلبہ کو بھی اس کی ادارت میں شامل رکھا ،اس عمل سےان کی تربیت مطلوب تھی۔ موصوف پاکستان میں منعقدہ کئی اُردو کانفرنسوں میں تحقیقی مقالے پیش کر چکے ہیں ۔ متعدد یونی ورسٹیوں میں لسانیات پر توسیعی خطبات اور خصوصی لکچر دے چکے ہیں ۔ ان کے نام مشاہیر ِ زبان و ادب کے خطوط کے دو ضخیم مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی تصانیف پاکستان کے علاوہ ہندستان کے معروف ادارے بھی چھاپ چکے ہیں۔ پاکستان کے اسّی کے لگ بھگ رسائل و جرائد اور اخبارات میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں جبکہ بھارت کے پینتیس (35) کے قریب رسائل و جرائد اوراخبارات میں گاہے گاہے ان کی نگارشات منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ اس وقت وہ تدریسی ملازمت سے ریٹائرڈ ہیں مگر علمی و تحقیقی کاموں میں ان کی مصروفیات حسب ِسابق ہیں۔ اُردو کے ممتاز ادیب اور ماہر لسانیات پروفیسر ڈاکٹر رؤف پاریکھ ان کے بارے میں لکھتے ہیں :’’ غازی علم الدین سے ہم محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ اُردو سے محبت کرتے ہیں، ہم دونوں اسی ظالم پَہ مرتے ہیں جس کا نام اُردو ہے۔ اس لحاظ سے گویا وہ ہمارے حبیب ہی نہیں رقیب بھی ہیں،لیکن اُردو سے محبت ایک ایسا رشتہ ہے کہ جس میں رقیب پر بھی پیار آتا ہے،غازی صاحب جیسے عاشقان ِاُردو سے دل کو تقویت ہوتی ہے،خدا کرے کہ وہ یونہی محبتیں بانٹتے رہیں.
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
