- کتاب فہرست 182615
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم347 مضامين و خاكه1397 قصہ / داستان1590 صحت104 تاریخ3326طنز و مزاح610 صحافت203 زبان و ادب1720 خطوط748
طرز زندگی30 طب985 تحریکات273 ناول4344 سیاسی354 مذہبیات4816 تحقیق و تنقید6632افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل110 تصوف2052نصابی کتاب452 ترجمہ4269خواتین کی تحریریں5817-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1270
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4899
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت591
- نظم1219
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
غازی علم الدین کا تعارف
پروفیسر غازی علم الدین پروفیسر غازی علم الدین اورینٹل کالج پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے 1983کے فارغ التحصیل ہیں،35سالہ تدریسی خدمات اور پرنسپل جیسے عہدے سے 2018 کو ریٹائر ہوچکے ہیں۔لسانی مسائل و موضوعات پرلکھنے کی بِنا پر موصوف اُردو دُنیا میں معروف ہیں، تحقیق اور تنقید بھی اُن کے میدان ہیں۔ زمانۂ طالب ِ علمی اور تدریسی دَور میں اِدارت کے وسیع تجربے کے بھی حامل ہیں۔گورنمنٹ ڈگری کالج( افضل پور۔ میر پور پاکستان) کی پرنسپل شپ کے زمانے میں ان کی ادارت میں شائع ہونے والا کالج کا مجلہ ’سیماب‘ جو چار سَو سے زاید صفحات کا حامل ہے اپنے اکثر مشمولات کے سبب ایک یادگار پیش کش ہے جس میں انہوں نے اپنے طلبہ کو بھی اس کی ادارت میں شامل رکھا ،اس عمل سےان کی تربیت مطلوب تھی۔ موصوف پاکستان میں منعقدہ کئی اُردو کانفرنسوں میں تحقیقی مقالے پیش کر چکے ہیں ۔ متعدد یونی ورسٹیوں میں لسانیات پر توسیعی خطبات اور خصوصی لکچر دے چکے ہیں ۔ ان کے نام مشاہیر ِ زبان و ادب کے خطوط کے دو ضخیم مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی تصانیف پاکستان کے علاوہ ہندستان کے معروف ادارے بھی چھاپ چکے ہیں۔ پاکستان کے اسّی کے لگ بھگ رسائل و جرائد اور اخبارات میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں جبکہ بھارت کے پینتیس (35) کے قریب رسائل و جرائد اوراخبارات میں گاہے گاہے ان کی نگارشات منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ اس وقت وہ تدریسی ملازمت سے ریٹائرڈ ہیں مگر علمی و تحقیقی کاموں میں ان کی مصروفیات حسب ِسابق ہیں۔ اُردو کے ممتاز ادیب اور ماہر لسانیات پروفیسر ڈاکٹر رؤف پاریکھ ان کے بارے میں لکھتے ہیں :’’ غازی علم الدین سے ہم محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ اُردو سے محبت کرتے ہیں، ہم دونوں اسی ظالم پَہ مرتے ہیں جس کا نام اُردو ہے۔ اس لحاظ سے گویا وہ ہمارے حبیب ہی نہیں رقیب بھی ہیں،لیکن اُردو سے محبت ایک ایسا رشتہ ہے کہ جس میں رقیب پر بھی پیار آتا ہے،غازی صاحب جیسے عاشقان ِاُردو سے دل کو تقویت ہوتی ہے،خدا کرے کہ وہ یونہی محبتیں بانٹتے رہیں.
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1992
-
