- کتاب فہرست 182527
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ925 تعلیم343 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3287طنز و مزاح610 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط743
طرز زندگی30 طب982 تحریکات272 ناول4308 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6619افسانہ2687 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4247خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1281
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد55
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4875
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت584
- نظم1206
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
غلام حیدر کا تعارف
شناخت: بچوں کے ادیب اور مترجم
سید غلام حیدر یکم جنوری 1937ء کو امروہہ (اتر پردیش) کے ایک علمی و مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم میرٹھ کے معروف مدرسہ منصبیہ میں حاصل کی۔ بعد ازاں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے میٹرک اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کے وزارتِ محنت و روزگار میں ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 1988ء میں رضاکارانہ طور پر سبکدوش ہو کر خود کو مکمل طور پر ادبی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیا۔
غلام حیدر کا شمار اردو کے ممتاز ادیبانِ اطفال میں ہوتا ہے۔ بچوں کے لیے لکھنے کا آغاز انہوں نے 1960ء کی دہائی میں کیا اور ان کی پہلی کتاب ’’پیسے کی کہانی‘‘ 1973ء میں ترقیِ اردو بیورو سے شائع ہوئی۔ انہوں نے ادبِ اطفال پر سترہ سے زائد کتابیں تصنیف کیں، جبکہ دیگر ادبی، تعلیمی اور تاریخی موضوعات پر بھی متعدد کتابیں اور تراجم کیے۔
انہوں نے بچوں کے ادب میں منصوبہ بند اور تحقیقی انداز اختیار کیا۔ تہذیب و تمدن، سماجی و معاشی ارتقا، سائنس، تاریخ اور تحریکِ آزادی جیسے موضوعات کو بچوں کی فہم کے مطابق دلچسپ پیرائے میں پیش کیا۔ ان کی نمایاں تصانیف میں ’’پیسے کی کہانی‘‘، ’’خط کی کہانی‘‘، ’’بینک کی کہانی‘‘، ’’اخبار کی کہانی‘‘، ’’آزادی کی کہانی‘‘، ’’غار سے جھونپڑی تک‘‘، ’’پگڈنڈی: جنگل سے کھیت تک‘‘، ’’پیڑ پیڑ میرا دانا دے‘‘، ’’آخری چوری‘‘، ’’جامعہ کی کہانی جامعہ والوں کی زبانی‘‘، ’’میری دو درسگاہیں‘‘، ’’رو میں ہے رخشِ عمر‘‘ اور خودنوشت ’’اپنی دنیا آپ پیدا کر‘‘ شامل ہیں۔
بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے انہوں نے 1984ء میں ’’بچوں کا ادبی ٹرسٹ‘‘ قائم کیا، جس کے ذریعے معیاری کتابوں کی اشاعت، سیمیناروں، ورکشاپوں اور ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس ادارے نے اردو میں بچوں کی متعدد اہم کتابیں شائع کیں اور تراجم کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
2010ء میں ساہتیہ اکادمی نے ان کے کہانیوں کے مجموعے ’’آخری چوری‘‘ کو ادبِ اطفال کے اعزاز سے نوازا۔ وہ اردو کے پہلے ادیب ہیں جنہیں بچوں کے ادب کے لیے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ انہیں اردو اکادمی دہلی، ہریانہ اردو اکادمی، ایسوسی ایشن آف رائٹرز اینڈ السٹریٹرز کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ (2012ء) اور ’’فخرِ امروہہ‘‘ (2014ء) سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔
اردو، انگریزی، ہندی اور فارسی زبانوں پر عبور رکھنے والے غلام حیدر کی تحریروں کی نمایاں خصوصیت سادہ، دل نشیں اور معلوماتی اسلوب ہے، جس کے ذریعے وہ بچوں میں تجسس، مطالعے کا ذوق، اخلاقی شعور اور حقیقت پسندانہ فکر کو فروغ دیتے ہیں۔ ادبِ اطفال کے میدان میں ان کی خدمات ایک مستقل ادارے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
