- کتاب فہرست 180976
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1370 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح599 صحافت200 زبان و ادب1698 خطوط741
طرز زندگی30 طب972 تحریکات272 ناول4270 سیاسی351 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6544افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2012نصابی کتاب439 ترجمہ4223خواتین کی تحریریں5783-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1263
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1594
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی739
- مسدس44
- نعت586
- نظم1207
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ66
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
غلام سرور کا تعارف
غلام سرور کا شمار بہار کے صف اول کے اردو صحافیوں میں ہوتا ہے مسلمانوں کے سیاسی،سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی مسائل پر ان کی بڑی گہری نگاہ تھی اور وہ ہمیشہ ان کے تدارک کے لئے سرگرداں رہے۔ آزادی ہند سے قبل اور بعد میں مسلمانان ہند عمومی طور پر اور خصوصی طور پر مسلمانان بہار کے ساتھ حکومت وقت کے ظلم و زیادتی اور ان کے استحصال کے خلاف انہوں نے ہمیشہ اپنے قلم کو شمشیر برہنہ کی طرح استعمال کیا۔
تزکرہ نگاروں نے نہ جانے کس مصلحت کی بناء پر غلام سرور کے ابتدائی دنوں میں ان کے مسلم لیگی کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ روز روشن کی طرح یہ امر واضح ہے کہ غلام سروردور جوانی میں مسلم لیگ سے وابستہ تھے، آزادی سے قبل عام طور پر مسلمان مسلم لیگ کے ہمنوا تھے۔ شائد اس کی وجہ کانگریس میں موجودانتہا پسندوں اور متعصب لوگوں کاکردار و عمل تھا، گرچہ آزادی ہند کے بعد مسلم لیگ پاکستان چلی گئی اور کانگریس ہندوستان میں رہ گئی بہر حال، اس وقت ، وقت اور حالات کا تقاضہ تھا، جوش و جنون سے لبریز مسلم نو جوان مسلم لیگ کے حمایتی تھے۔ غلام سرور بھی ۱۹۴۵ کے آس پاس نو جوان تھے، نیا نیا جوش و جذبہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ۱۹۴۵سے پٹنہ سے شائع ہونے والے مسلم لیگ کے ترجمان ’’نو جوان‘‘ کی ادارت میں وہ شامل تھے۔ آزادی کے بعد حالات بدلے تو لوگوں نے اپنے افکار و خیالات بھی بدلے۔ لیکن غلام سرور نہیں بدلے، حکومت (کانگریس) کی مخالفت ان کی سرشت میں شامل تھا۔ وہ دور بہار کے مسلمانوں کے لئے خصوصی طور پر مذہبی، سیاسی، سماجی تعلیمی، اقتصادی اور لسانی طور پر پر آشوب اور نہایت صبر آزما دور تھا۔ غلام سرور ایک ذہین اور حساس نوجوان تھے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم۔ اے۔ کرنے کے بعد ابتدائی دور میں اختر اور نیوی جیسے استاد کی تقلید میں اردو ادب کی جانب متوجہ ہوئے۔ چند ایسے مضامین لکھے، جس نے بہت جلد لوگوں کی توجہ مرکوز کرالی۔ ’’پرکھ‘‘ جیسی کتاب اس امر کا ثبوت ہے لیکن غلام سرور بہت جلد اس میدان سے الگ ہو گئے اور ۱۹۵۱ میں سہیل عظیم آبادی کی ادارت میں شائع ہونے والے روز نامہ ’’ساتھی‘‘ کو خرید لیا، جس کے کئی اہم شمارے آج بھی یاد گار ہیں۔ لیکن یہ اخبار وہ زیادہ دنوں تک نہیں چلا سکے۔ ۱۹۵۳ سے انہوں نے اپنا اخبار ’’سنگم‘‘ہفتہ وار کی شکل میں نکا لنے لگے۔ اتوار کو اس زمانے کے مقبول روز نامے ’’صدائے عام‘ ‘ اور ’’ ساتھی‘‘ بند رہتے تھے اور اسی روز ’’سنگم‘‘ شائع ہوتا تھا۔ اس اخبار کا تیور مختلف تھا۔ انداز تحریر بھی جوش و ولولہ اور جرأتمندی سے بھر پور تھی۔ لوگوں نے اس اخبار کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کی مقبولیت بڑھنے لگی اور عوام الناس کی یہ خواہش تھی کہ اسے روز نامہ کر دیا جائے، چنانچہ ۱۹۶۲’’سنگم‘‘ روز نامہ ہو گیا۔’’سنگم‘‘ میں غلام سرور نے مسلمانوں کے حالات زار کی بھر پور نمائند گی کی۔ شعلہ بار اداریوں سے اس کے قاری نے محسوس کیا کہ یہ اخبار پوری طرح ہمارے احساسات و جذبات کی ترجمانی کر رہا ہے۔غلام سرور نہ صرف اپنی تحریروں میں آگ اگلتے تھے، بلکہ ان کی تقریروں میں بھی شعلہ بیانی تھی۔ یقینا وہ ایک اچھے مقرر تھے اور لوگوں کی دکھتی رگ کو بخوبی پہچانتے تھے۔ غلام سرور کی تحریر وتقریر نے انہیں قانون ساز اسمبلی تک پہچا دیا اور مسلسل کانگریس کی مخالفت کی وجہ کر، جب بہار میں غیر کانگریسی حکومت بنی، تب وہ وزیر تعلیم بنے۔ بعد میں لالو پرساد کی حکومت میں وہ اسپیکر کے عہدہ پر بھی فائز ہوئے۔اس دو ران غلام سرور ایک متنازع شخصیت بھی بن کر ابھرے۔ ان پر کئی طرح کے الزامات عائد کئے گئے۔ اس دور کے کئی اخبارات مثلاً ہفتہ وار ’’پندار‘‘ (پٹنہ) ایک قوم (پٹنہ) عظیم آباد اکسپرس (پٹنہ) اور ’’مورچہ‘ (گیا) وغیرہ مسلسل ان کے خلاف صف آرا ٔہے۔ طرح طرح کی سرخیاں ان کے خلاف لگائی گئیں۔ غلام سرور کے دیر ینہ دوست پروفیسر عبدا لمغنی بھی اردو زبان کا سودا کرنے پر ان سے خفا ہو گئے۔ ان کے ایک اور دوست کلام حیدری نے ’’سنگم کے سات ادارئے‘‘ کے عنوان سے جو کچھ لکھا، وہ سب بہر حال غلام سرور کے حق میں نہیں جاتے ہیں۔ان تمام باتوں کے باو جود غلام سرور کی صحافتی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ غلام سرور نے بہار کی اردو صحافت کے اعلیٰ معیار و مقام کی مثال قائم کی ہے۔ جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
