Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ghulam Yahya Anjum's Photo'

غلام یحیی انجم

دلی, انڈیا

اسلامیات کے اسکالر اور تصوف پر متعدد کتابوں کے مصنف

اسلامیات کے اسکالر اور تصوف پر متعدد کتابوں کے مصنف

غلام یحیی انجم کا تعارف

تخلص : 'انجم'

اصلی نام : غلام یحیی

پیدائش :سدھارتھ نگر, اتر پردیش

شناخت: اسلامیات کے محقق، شاعر اور تصوف کے موضوع پر کئی کتابوں کے مصنف

غلام یحییٰ انجم کا تعلق اتر پردیش کے ضلع سدھارتھ نگر سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم اور درسِ نظامی کی تکمیل جامعہ اشرفیہ، مبارک پور سے کی۔ بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔

وہ عربی و اردو کے ادیب اور جامعہ ہمدرد، نئی دہلی کے شعبۂ اسلامیات سے طویل عرصے تک وابستہ رہے، جہاں بطور پروفیسر اور صدرِ شعبہ خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں شعبۂ الٰہیات (Theology) کی سربراہی بھی ان کے سپرد رہی۔ مدارس کے نصاب میں عصری تقاضوں کے مطابق اصلاحات اور جدید مضامین کی شمولیت کے حوالے سے بھی ان کی خدمات کو اہمیت حاصل ہے۔

غلام یحییٰ انجم نے تصنیف و تحقیق کے میدان میں گراں قدر کام کیا ہے۔ ان کی نمایاں کتابوں میں ’’دینی مدارس اور عہدِ حاضر کے تقاضے‘‘، ’’ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ: آغاز و ارتقا‘‘، ’’سفرنامۂ ایران‘‘، ’’قرآنِ کریم کے ہندوستانی تراجم و تفاسیر کا اجمالی جائزہ‘‘، ’’تذکرۂ علمائے بستی‘‘، ’’انوارِ خیال‘‘، ’’مولانا حشمت علی خاں: ایک تحقیقی مطالعہ‘‘، 'تاریخ مشائخ قادریہ'، اور ’’دارالعلوم دیوبند کا بانی کون؟‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے تصوف، قرآنیات، اسلامی تعلیمات اور برصغیر کی دینی و فکری روایت پر متعدد تحقیقی مقالات قلم بند کیے۔

 

موضوعات

Recitation

بولیے