- کتاب فہرست 180428
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1585 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4296 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6594افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب450 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
حامی گورکھپوری کا تعارف
حامی گورکھپوری کا اصل نام عبدالحئی انصاری تھا۔ ان کی ولادت 06 جون 1936ء کو عبدالرزاق انصاری کے گھر موضع جیراسوں، تحصیل سلیم پور، سابق لار روڈ، ضلع دیوریا، سابق گورکھپور، اترپردیش میں ہوئی تھی۔ مغربی بنگال کے ممتاز شاعر غواص قریشی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ ان کی تین کتابیں ”شاخِ زیتون“، ”شعلے“ اور ”غزل کے پھول“ منظرِ عام پر آئیں۔ بعد ازاں فہیم انور کی ترتیب میں حامی گورکھپوری کی شخصیت اور شاعری پر مشتمل مضامین کا مجموعہ بنام ”شاہِ بلوط“ منظرِ عام پر آیا۔ حامی گورکھپوری کا قیام برسوں شیب پور، ہاؤڑا میں رہا۔ وہ ایک سرگرم ادبی شخصیت تھے اور ان کی ذات سے ہوڑہ کا ادبی منظرنامہ کافی روشن ہوگیا تھا۔ ”بزمِ غواص“ کے قیام کے بعد اس کی سرگرمیوں میں اہم رول حامی گورکھپوری کا ہوتا تھا۔ اس ادارے نے ہوڑہ کے ادبی گلستان کو سرسبز و شاداب کردیا۔ حامی گورکھپوری نظریاتی اعتبار سے کمیونسٹ تھے لیکن اس کے باضابطہ ممبر نہیں تھے مگر ان کی تخلیقات میں ترقی پسندی کے اثرات نمایاں نظر آتے تھے۔
ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی سالک لکھنو ی حامی گورکھپوری کے متعلق فرماتے ہیں۔
”ہم تمھار ے کوچے کی رسم کو نبھائیں گے
پھول پھول آئے تھے زخم زخم جائیں گے
قدیم و جدید غزلیت سے معموریہ شعر حامی گورکھپوری کا ہے ۔ ان کی شاعری میں فن بھی ہے اور فکرو مشاہدہ بھی ۔فکر و فن کے انضمام کے بغیر اچھی شاعری نہیں ہوتی۔ نہ قدیم نہ جدید۔ ادب بذاتِ خود قدیم وجدید ہوتا بھی نہیں ۔ فنکار کا مشاہدہ اور احساس اسے جو انداز ِ فکر و نظر عطا کرتا ہے اسے فنکارانہ طور پر لفظوں کے پُر آہنگ لباس میں پیش کر دینے کا نام ہی شاعری ہے۔ لباس قدیم ہو یا جدید ، دل کی دھڑکنوں کی عمر نہیں ہوا کرتی۔ فن برائے فن اگر شاعری میں صرف الفاظ کی زیبائش کا نام ہے تو مجردفکر یا سائنس ہے یا فلسفہ لیکن فکر و فن جب ایک دوسرے میں جذب ہوجائیں تو ادب و شعر کا جامہ پہن لیتے ہیں ۔ حامیؔ گورکھپوری کی شاعری کا یہی لباس ہے۔“
حامی گورکھپوری اپنے آخری دور میں ممبئی چلے گئے اور وہیں 11 مارچ 1999ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1987
-
