- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
حامی گورکھپوری کا تعارف
حامی گورکھپوری کا اصل نام عبدالحئی انصاری تھا۔ ان کی ولادت 06 جون 1936ء کو عبدالرزاق انصاری کے گھر موضع جیراسوں، تحصیل سلیم پور، سابق لار روڈ، ضلع دیوریا، سابق گورکھپور، اترپردیش میں ہوئی تھی۔ مغربی بنگال کے ممتاز شاعر غواص قریشی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ ان کی تین کتابیں ”شاخِ زیتون“، ”شعلے“ اور ”غزل کے پھول“ منظرِ عام پر آئیں۔ بعد ازاں فہیم انور کی ترتیب میں حامی گورکھپوری کی شخصیت اور شاعری پر مشتمل مضامین کا مجموعہ بنام ”شاہِ بلوط“ منظرِ عام پر آیا۔ حامی گورکھپوری کا قیام برسوں شیب پور، ہاؤڑا میں رہا۔ وہ ایک سرگرم ادبی شخصیت تھے اور ان کی ذات سے ہوڑہ کا ادبی منظرنامہ کافی روشن ہوگیا تھا۔ ”بزمِ غواص“ کے قیام کے بعد اس کی سرگرمیوں میں اہم رول حامی گورکھپوری کا ہوتا تھا۔ اس ادارے نے ہوڑہ کے ادبی گلستان کو سرسبز و شاداب کردیا۔ حامی گورکھپوری نظریاتی اعتبار سے کمیونسٹ تھے لیکن اس کے باضابطہ ممبر نہیں تھے مگر ان کی تخلیقات میں ترقی پسندی کے اثرات نمایاں نظر آتے تھے۔
ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی سالک لکھنو ی حامی گورکھپوری کے متعلق فرماتے ہیں۔
”ہم تمھار ے کوچے کی رسم کو نبھائیں گے
پھول پھول آئے تھے زخم زخم جائیں گے
قدیم و جدید غزلیت سے معموریہ شعر حامی گورکھپوری کا ہے ۔ ان کی شاعری میں فن بھی ہے اور فکرو مشاہدہ بھی ۔فکر و فن کے انضمام کے بغیر اچھی شاعری نہیں ہوتی۔ نہ قدیم نہ جدید۔ ادب بذاتِ خود قدیم وجدید ہوتا بھی نہیں ۔ فنکار کا مشاہدہ اور احساس اسے جو انداز ِ فکر و نظر عطا کرتا ہے اسے فنکارانہ طور پر لفظوں کے پُر آہنگ لباس میں پیش کر دینے کا نام ہی شاعری ہے۔ لباس قدیم ہو یا جدید ، دل کی دھڑکنوں کی عمر نہیں ہوا کرتی۔ فن برائے فن اگر شاعری میں صرف الفاظ کی زیبائش کا نام ہے تو مجردفکر یا سائنس ہے یا فلسفہ لیکن فکر و فن جب ایک دوسرے میں جذب ہوجائیں تو ادب و شعر کا جامہ پہن لیتے ہیں ۔ حامیؔ گورکھپوری کی شاعری کا یہی لباس ہے۔“
حامی گورکھپوری اپنے آخری دور میں ممبئی چلے گئے اور وہیں 11 مارچ 1999ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
