Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Haami Gorakhpuri's Photo'

حامی گورکھپوری

1936 - 1999

اردو کے مشہور و معروف شاعر

اردو کے مشہور و معروف شاعر

حامی گورکھپوری کا تعارف

تخلص : 'حامی'

اصلی نام : عبدالحئی انصاری

پیدائش : 06 Jun 1936 | گورکھپور, اتر پردیش

وفات : 11 Mar 1999 | ممبئی, مہاراشٹر

حامی گورکھپوری کا اصل نام عبدالحئی انصاری تھا۔ ان کی ولادت 06 جون 1936ء کو عبدالرزاق انصاری کے گھر موضع جیراسوں، تحصیل سلیم پور، سابق لار روڈ، ضلع دیوریا، سابق گورکھپور، اترپردیش میں ہوئی تھی۔ مغربی بنگال کے ممتاز شاعر غواص قریشی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ ان کی تین کتابیں ”شاخِ زیتون“، ”شعلے“ اور ”غزل کے پھول“ منظرِ عام پر آئیں۔ بعد ازاں فہیم انور کی ترتیب  میں حامی گورکھپوری کی شخصیت اور شاعری پر مشتمل مضامین کا مجموعہ بنام ”شاہِ بلوط“ منظرِ عام پر آیا۔ حامی گورکھپوری کا قیام برسوں شیب پور، ہاؤڑا میں رہا۔ وہ ایک سرگرم ادبی شخصیت تھے اور ان کی ذات سے ہوڑہ کا ادبی منظرنامہ کافی روشن ہوگیا تھا۔ ”بزمِ غواص“ کے قیام کے بعد اس کی سرگرمیوں میں اہم رول حامی گورکھپوری کا ہوتا تھا۔ اس ادارے نے ہوڑہ کے ادبی گلستان کو سرسبز و شاداب کردیا۔ حامی گورکھپوری نظریاتی اعتبار سے کمیونسٹ تھے لیکن اس کے باضابطہ ممبر نہیں تھے مگر ان کی تخلیقات میں ترقی پسندی کے اثرات نمایاں نظر آتے تھے۔
ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی سالک لکھنو ی حامی گورکھپوری کے متعلق فرماتے ہیں۔
”ہم تمھار ے کوچے کی رسم کو نبھائیں گے 
پھول پھول آئے تھے زخم زخم جائیں گے
قدیم و جدید غزلیت سے معموریہ شعر حامی گورکھپوری کا ہے ۔ ان کی شاعری میں فن بھی ہے اور فکرو مشاہدہ بھی ۔فکر و فن کے انضمام کے بغیر اچھی شاعری نہیں ہوتی۔ نہ قدیم نہ جدید۔ ادب بذاتِ خود قدیم وجدید ہوتا بھی نہیں ۔ فنکار کا مشاہدہ اور احساس اسے جو انداز ِ فکر و نظر عطا کرتا ہے اسے فنکارانہ طور پر لفظوں کے پُر آہنگ لباس میں پیش کر دینے کا نام ہی شاعری ہے۔ لباس قدیم ہو یا جدید ، دل کی دھڑکنوں کی عمر نہیں ہوا کرتی۔ فن برائے فن اگر شاعری میں صرف الفاظ کی زیبائش کا نام ہے تو مجردفکر یا سائنس ہے یا فلسفہ لیکن فکر و فن جب ایک دوسرے میں جذب ہوجائیں تو ادب و شعر کا جامہ پہن لیتے ہیں ۔ حامیؔ گورکھپوری کی شاعری کا یہی لباس ہے۔“
حامی گورکھپوری اپنے آخری دور میں ممبئی چلے گئے اور وہیں 11 مارچ 1999ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے