- کتاب فہرست 180433
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
ڈرامہ917 تعلیم341 مضامين و خاكه1361 قصہ / داستان1568 صحت104 تاریخ3265طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1625 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6518افسانہ2665 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4194خواتین کی تحریریں5755-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1249
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1579
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4866
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
حامی گورکھپوری کا تعارف
حامی گورکھپوری کا اصل نام عبدالحئی انصاری تھا۔ ان کی ولادت 06 جون 1936ء کو عبدالرزاق انصاری کے گھر موضع جیراسوں، تحصیل سلیم پور، سابق لار روڈ، ضلع دیوریا، سابق گورکھپور، اترپردیش میں ہوئی تھی۔ مغربی بنگال کے ممتاز شاعر غواص قریشی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ ان کی تین کتابیں ”شاخِ زیتون“، ”شعلے“ اور ”غزل کے پھول“ منظرِ عام پر آئیں۔ بعد ازاں فہیم انور کی ترتیب میں حامی گورکھپوری کی شخصیت اور شاعری پر مشتمل مضامین کا مجموعہ بنام ”شاہِ بلوط“ منظرِ عام پر آیا۔ حامی گورکھپوری کا قیام برسوں شیب پور، ہاؤڑا میں رہا۔ وہ ایک سرگرم ادبی شخصیت تھے اور ان کی ذات سے ہوڑہ کا ادبی منظرنامہ کافی روشن ہوگیا تھا۔ ”بزمِ غواص“ کے قیام کے بعد اس کی سرگرمیوں میں اہم رول حامی گورکھپوری کا ہوتا تھا۔ اس ادارے نے ہوڑہ کے ادبی گلستان کو سرسبز و شاداب کردیا۔ حامی گورکھپوری نظریاتی اعتبار سے کمیونسٹ تھے لیکن اس کے باضابطہ ممبر نہیں تھے مگر ان کی تخلیقات میں ترقی پسندی کے اثرات نمایاں نظر آتے تھے۔
ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی سالک لکھنو ی حامی گورکھپوری کے متعلق فرماتے ہیں۔
”ہم تمھار ے کوچے کی رسم کو نبھائیں گے
پھول پھول آئے تھے زخم زخم جائیں گے
قدیم و جدید غزلیت سے معموریہ شعر حامی گورکھپوری کا ہے ۔ ان کی شاعری میں فن بھی ہے اور فکرو مشاہدہ بھی ۔فکر و فن کے انضمام کے بغیر اچھی شاعری نہیں ہوتی۔ نہ قدیم نہ جدید۔ ادب بذاتِ خود قدیم وجدید ہوتا بھی نہیں ۔ فنکار کا مشاہدہ اور احساس اسے جو انداز ِ فکر و نظر عطا کرتا ہے اسے فنکارانہ طور پر لفظوں کے پُر آہنگ لباس میں پیش کر دینے کا نام ہی شاعری ہے۔ لباس قدیم ہو یا جدید ، دل کی دھڑکنوں کی عمر نہیں ہوا کرتی۔ فن برائے فن اگر شاعری میں صرف الفاظ کی زیبائش کا نام ہے تو مجردفکر یا سائنس ہے یا فلسفہ لیکن فکر و فن جب ایک دوسرے میں جذب ہوجائیں تو ادب و شعر کا جامہ پہن لیتے ہیں ۔ حامیؔ گورکھپوری کی شاعری کا یہی لباس ہے۔“
حامی گورکھپوری اپنے آخری دور میں ممبئی چلے گئے اور وہیں 11 مارچ 1999ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1979
-
