- کتاب فہرست 179374
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1602 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
ہاجرہ نازلی کا تعارف
ہاجرہ نازلی کا نام اردو ناولوں کے حوالے سے بہت معروف رہا ہے ۔ان کے ناول بہت زوق شوق سے پڑھے جاتے تھے ۔انھوں نے اٹھارہ ناولوں کے علاوہ ستر اسی کے قریب افسانے اور کہانیاں اور مختلف موضوعات پر مضامین اور مکالمے لکھے جو ماہنامہ بانو دہلی، حریم لکھنو، اور مختلف ڈائجسٹوں میں شائع ہوتے رہے ۔بچوں کے لئے بھی کہانیاں لکھیں جو کھلونا، کلیاں اور غنچہ میں شائع ہوئیں_
ہاجرہ نازلی مشہور عالم دین اور دارلعلوم دیوبند کے مہتم حضرت مولانا قاری طیب کی بیٹی تھیں جو امام۔محمد قاسم نانوتی بانیء دیو بند کے پوتے تھے ۔ وہ مشہور مجاہد آزادی مولانامنصور انصاری کی بہو تھیں اور ان کے شوہر ۔مولانا حامد الانصاری غازی ایک جید عالم اور صحافی اور برطانوی آستعمار کے خلاف سینہ سپر ہونے والے مجاہد تھے ۔وہ اخبار " مدینہ" بجنور کے مدیر تھے .1950میں وہ بجنور سے بمبئ آگئے اور ویاں سے " اخبار جمہوریت جاری کیا ۔یاجرہ نازلی بھی اب کے ساتھ بمبئ آگئیں ۔ان کاہہلا ناول " صبیحہ یہیں شائع ہوا۔شوہر کے انتقال کے بعد وہ اپنی بیٹی اور بیٹے کے پاس علی گڑھ منتقل ہوگئ تھیں ۔
بر صغیر جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرے پر ہاجرہ نازلی کی گہری نظر تھی ۔ انھوں ے اپنےافسانوں اور ناولوں میں روایتی مسلم گھرانو ں کے ایسے معاشرتی مسائل کو موضوع بنایا جو محض رسم ورواج اور خاندانی انا کی بدولت وبال جان بن جاتے ہیں۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
