- کتاب فہرست 180335
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
حکیم احمد شجاع کا تعارف
حکیم احمد شجاع ٭ اردو کے مشہور انشا پرداز‘ ڈرامہ نگار‘ افسانہ نگار اور شاعر حکیم احمد شجاع کی تاریخ پیدائش 12 جولائی 1896 ء ہے۔ حکیم احمد شجاع نے لاہور سے میٹرک کرنے کے بعد ایم اے اور کالج علی گڑھ سے ایف اے اور پھر میرٹھ کالج سے بی اے کیا اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوگئے۔ 1920ء میں پنجاب اسمبلی سے منسلک ہوئے اور پھر اس اسمبلی کے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ہی وہ 1948ء سے 1969ء تک مجلس زبان دفتری کے سیکریٹری بھی رہے اور ان کی رہنمائی میں ہزاروں انگریزی اصطلاحات کا اردو ترجمہ ہوا۔ حکیم احمد شجاع اردو کے صف اول کے ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بہت سے افسانے بھی لکھے‘ ناول بھی تحریر کیا اور کئی فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں۔ انہوں نے ایک ادبی رسالہ ہزار داستان اور بچوں کا رسالہ نونہال بھی نکالا۔ اپنی خود نوشت خوں بہا کے نام سے تحریر کی اور لاہور کے اندرون بھاٹی دروازے کی ادبی تاریخ لاہور کا چیلسی کے نام سے رقم کی۔ وہ قرآن پاک کی تفسیر بھی تحریر کررہے تھی جس کا نام افصح البیان رکھا گیا تھا مگر بدقسمتی سے یہ کام مکمل نہ ہوسکا اور صرف پانچ پاروں ہی کی تفسیر لکھی جاسکی۔ حکیم احمد شجاع نے 4 جنوری 1969ء کو لاہور میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
