- کتاب فہرست 180976
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1370 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3290طنز و مزاح599 صحافت200 زبان و ادب1698 خطوط741
طرز زندگی30 طب972 تحریکات272 ناول4270 سیاسی351 مذہبیات4772 تحقیق و تنقید6544افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے234 سماجی مسائل110 تصوف2012نصابی کتاب439 ترجمہ4223خواتین کی تحریریں5783-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1263
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1594
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی739
- مسدس44
- نعت586
- نظم1207
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ66
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
حکیم محمد کبیرالدین کا تعارف
شناخت: نامور طبیب، طبی محقق، مترجم اور طبِ یونانی کے عظیم خادم
حکیم محمد کبیر الدین المعروف بہ مسیحُ الملک برصغیر کے اُن جلیل القدر اطبا میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے طبِ یونانی کی تدریس، تحقیق اور عربی و فارسی طبی متون کے اردو تراجم کے ذریعے اس علم کو نئی زندگی بخشی۔ ان کی علمی خدمات کے باعث اردو زبان طب کی باقاعدہ اور مستند تدریسی زبان کے طور پر مستحکم ہوئی، اور ان کی متعدد کتب آج بھی بیچلر آف ایسٹرن میڈیسن اینڈ سرجری کے نصاب میں شامل ہیں۔
حکیم محمد کبیر الدین 13 اپریل 1894ء، شیخ پورہ، ضلع مونگیر، بہار کے ایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ لکھنؤ کے کیننگ کالج (موجودہ لکھنؤ یونیورسٹی) میں زیرِ تعلیم رہے، پھر کانپور جا کر مولانا احمد حسن کانچوی کی نگرانی میں عربی ادب، معقولات اور منقولات کی تحصیل کی۔ سنہ 1909ء میں دہلی کے مدرسہ طبیہ (گلی قاسم جان) میں داخلہ لیا جہاں حکیم عبدالمجید خاں اور حکیم محمد اجمل خاں جیسے اکابر سے فنِ طب سیکھا۔ 1911ء میں طب کی تکمیل اور 1914ء میں طبیہ کالج لاہور سے “زبدۃ الحکماء” کی سند حاصل کی۔
حکیم اجمل خاں کے مشورے پر حکیم محمد کبیر الدین نے عربی طبی نصاب کو اردو میں منتقل کرنے کا کام اختیار کیا تاکہ طب کی تدریس زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر ہو سکے۔ اسی مقصد سے انھوں نے قرول باغ، دہلی میں دفترُالمسیح قائم کیا اور المسیح کے نام سے طبی مجلہ جاری کیا، جو طبِ یونانی کی ترویج کا مؤثر ذریعہ بنا۔ ان کے تراجم میں مفہوم کی صحت، اسلوب کی سلاست اور متقدمین کی روح کی پاسداری نمایاں ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے تراجم نے اردو اور طب کے رشتے کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
حکیم محمد کبیر الدین نے تقریباً 80 کتب کی تصنیف و تدوین کی، جن میں اہم تراجم جیسے ترجمہ موجز القانون، ترجمہ شرح اسباب و علامات، ترجمہ کلیاتِ قانون (مع عربی متن)، ترجمہ تعلیماتِ نفیسی، ترجمہ حمیاتِ قانون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ افادۂ کبیر (مجمل و مفصل)، کتاب التشخیص، کتاب الادویہ تکملہ، بیاض کبیر، منافع کبیر، رسالہ نبض، تشریح صغیر و کبیر، لغات کبیر، فرہنگِ طبی اور متعدد رسائل نے اردو طبی ادب کو معیار عطا کیا۔
انھوں نے جدید طب کی بعض اہم انگریزی کتب کے اردو تراجم میں بھی حصہ لیا۔ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے شعبۂ تالیف و ترجمہ میں Gray’s Anatomy کے اردو ترجمے میں ڈاکٹر اشرف الحق حیدرآبادی کے ساتھ ان کی شمولیت جدید میڈیکل سائنس کے اردو نصاب سازی میں سنگِ میل ہے۔ ان خدمات کے اعتراف میں نظامِ حیدرآباد نے انھیں “شہنشاہِ تصنیفات” کا خطاب دیا، اور حکومتِ ہند نے 2019ء میں روایتی طب میں ان کے ناقابلِ فراموش کارناموں پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
حکیم محمد کبیر الدین کی علمی میراث نے طبِ یونانی کو عصرِ حاضر سے جوڑا اور اردو کو طبی تعلیم کی مضبوط زبان بنا دیا۔ یہی ان کا پائیدار کارنامہ ہے۔
وفات: 9 جنوری 1976ء، بلّی ماران، دہلی میں ہوئی۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1984
-
