- کتاب فہرست 188990
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1796 صحت110 تاریخ3626طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1973 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5047 سیاسی377 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2300نصابی کتاب562 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6300-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1683
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5417
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ72
- واسوخت29
حکیم محمد کبیرالدین کا تعارف
شناخت: نامور طبیب، طبی محقق، مترجم اور طبِ یونانی کے عظیم خادم
حکیم محمد کبیر الدین المعروف بہ مسیحُ الملک برصغیر کے اُن جلیل القدر اطبا میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے طبِ یونانی کی تدریس، تحقیق اور عربی و فارسی طبی متون کے اردو تراجم کے ذریعے اس علم کو نئی زندگی بخشی۔ ان کی علمی خدمات کے باعث اردو زبان طب کی باقاعدہ اور مستند تدریسی زبان کے طور پر مستحکم ہوئی، اور ان کی متعدد کتب آج بھی بیچلر آف ایسٹرن میڈیسن اینڈ سرجری کے نصاب میں شامل ہیں۔
حکیم محمد کبیر الدین 13 اپریل 1894ء، شیخ پورہ، ضلع مونگیر، بہار کے ایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ لکھنؤ کے کیننگ کالج (موجودہ لکھنؤ یونیورسٹی) میں زیرِ تعلیم رہے، پھر کانپور جا کر مولانا احمد حسن کانچوی کی نگرانی میں عربی ادب، معقولات اور منقولات کی تحصیل کی۔ سنہ 1909ء میں دہلی کے مدرسہ طبیہ (گلی قاسم جان) میں داخلہ لیا جہاں حکیم عبدالمجید خاں اور حکیم محمد اجمل خاں جیسے اکابر سے فنِ طب سیکھا۔ 1911ء میں طب کی تکمیل اور 1914ء میں طبیہ کالج لاہور سے “زبدۃ الحکماء” کی سند حاصل کی۔
حکیم اجمل خاں کے مشورے پر حکیم محمد کبیر الدین نے عربی طبی نصاب کو اردو میں منتقل کرنے کا کام اختیار کیا تاکہ طب کی تدریس زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر ہو سکے۔ اسی مقصد سے انھوں نے قرول باغ، دہلی میں دفترُالمسیح قائم کیا اور المسیح کے نام سے طبی مجلہ جاری کیا، جو طبِ یونانی کی ترویج کا مؤثر ذریعہ بنا۔ ان کے تراجم میں مفہوم کی صحت، اسلوب کی سلاست اور متقدمین کی روح کی پاسداری نمایاں ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے تراجم نے اردو اور طب کے رشتے کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
حکیم محمد کبیر الدین نے تقریباً 80 کتب کی تصنیف و تدوین کی، جن میں اہم تراجم جیسے ترجمہ موجز القانون، ترجمہ شرح اسباب و علامات، ترجمہ کلیاتِ قانون (مع عربی متن)، ترجمہ تعلیماتِ نفیسی، ترجمہ حمیاتِ قانون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ افادۂ کبیر (مجمل و مفصل)، کتاب التشخیص، کتاب الادویہ تکملہ، بیاض کبیر، منافع کبیر، رسالہ نبض، تشریح صغیر و کبیر، لغات کبیر، فرہنگِ طبی اور متعدد رسائل نے اردو طبی ادب کو معیار عطا کیا۔
انھوں نے جدید طب کی بعض اہم انگریزی کتب کے اردو تراجم میں بھی حصہ لیا۔ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے شعبۂ تالیف و ترجمہ میں Gray’s Anatomy کے اردو ترجمے میں ڈاکٹر اشرف الحق حیدرآبادی کے ساتھ ان کی شمولیت جدید میڈیکل سائنس کے اردو نصاب سازی میں سنگِ میل ہے۔ ان خدمات کے اعتراف میں نظامِ حیدرآباد نے انھیں “شہنشاہِ تصنیفات” کا خطاب دیا، اور حکومتِ ہند نے 2019ء میں روایتی طب میں ان کے ناقابلِ فراموش کارناموں پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
حکیم محمد کبیر الدین کی علمی میراث نے طبِ یونانی کو عصرِ حاضر سے جوڑا اور اردو کو طبی تعلیم کی مضبوط زبان بنا دیا۔ یہی ان کا پائیدار کارنامہ ہے۔
وفات: 9 جنوری 1976ء، بلّی ماران، دہلی میں ہوئی۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
