- کتاب فہرست 180679
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1652 صحت108 تاریخ3342طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1143
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6696افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1210
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
حکیم محمد کبیرالدین کا تعارف
شناخت: نامور طبیب، طبی محقق، مترجم اور طبِ یونانی کے عظیم خادم
حکیم محمد کبیر الدین المعروف بہ مسیحُ الملک برصغیر کے اُن جلیل القدر اطبا میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے طبِ یونانی کی تدریس، تحقیق اور عربی و فارسی طبی متون کے اردو تراجم کے ذریعے اس علم کو نئی زندگی بخشی۔ ان کی علمی خدمات کے باعث اردو زبان طب کی باقاعدہ اور مستند تدریسی زبان کے طور پر مستحکم ہوئی، اور ان کی متعدد کتب آج بھی بیچلر آف ایسٹرن میڈیسن اینڈ سرجری کے نصاب میں شامل ہیں۔
حکیم محمد کبیر الدین 13 اپریل 1894ء، شیخ پورہ، ضلع مونگیر، بہار کے ایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ لکھنؤ کے کیننگ کالج (موجودہ لکھنؤ یونیورسٹی) میں زیرِ تعلیم رہے، پھر کانپور جا کر مولانا احمد حسن کانچوی کی نگرانی میں عربی ادب، معقولات اور منقولات کی تحصیل کی۔ سنہ 1909ء میں دہلی کے مدرسہ طبیہ (گلی قاسم جان) میں داخلہ لیا جہاں حکیم عبدالمجید خاں اور حکیم محمد اجمل خاں جیسے اکابر سے فنِ طب سیکھا۔ 1911ء میں طب کی تکمیل اور 1914ء میں طبیہ کالج لاہور سے “زبدۃ الحکماء” کی سند حاصل کی۔
حکیم اجمل خاں کے مشورے پر حکیم محمد کبیر الدین نے عربی طبی نصاب کو اردو میں منتقل کرنے کا کام اختیار کیا تاکہ طب کی تدریس زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر ہو سکے۔ اسی مقصد سے انھوں نے قرول باغ، دہلی میں دفترُالمسیح قائم کیا اور المسیح کے نام سے طبی مجلہ جاری کیا، جو طبِ یونانی کی ترویج کا مؤثر ذریعہ بنا۔ ان کے تراجم میں مفہوم کی صحت، اسلوب کی سلاست اور متقدمین کی روح کی پاسداری نمایاں ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے تراجم نے اردو اور طب کے رشتے کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
حکیم محمد کبیر الدین نے تقریباً 80 کتب کی تصنیف و تدوین کی، جن میں اہم تراجم جیسے ترجمہ موجز القانون، ترجمہ شرح اسباب و علامات، ترجمہ کلیاتِ قانون (مع عربی متن)، ترجمہ تعلیماتِ نفیسی، ترجمہ حمیاتِ قانون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ افادۂ کبیر (مجمل و مفصل)، کتاب التشخیص، کتاب الادویہ تکملہ، بیاض کبیر، منافع کبیر، رسالہ نبض، تشریح صغیر و کبیر، لغات کبیر، فرہنگِ طبی اور متعدد رسائل نے اردو طبی ادب کو معیار عطا کیا۔
انھوں نے جدید طب کی بعض اہم انگریزی کتب کے اردو تراجم میں بھی حصہ لیا۔ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے شعبۂ تالیف و ترجمہ میں Gray’s Anatomy کے اردو ترجمے میں ڈاکٹر اشرف الحق حیدرآبادی کے ساتھ ان کی شمولیت جدید میڈیکل سائنس کے اردو نصاب سازی میں سنگِ میل ہے۔ ان خدمات کے اعتراف میں نظامِ حیدرآباد نے انھیں “شہنشاہِ تصنیفات” کا خطاب دیا، اور حکومتِ ہند نے 2019ء میں روایتی طب میں ان کے ناقابلِ فراموش کارناموں پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
حکیم محمد کبیر الدین کی علمی میراث نے طبِ یونانی کو عصرِ حاضر سے جوڑا اور اردو کو طبی تعلیم کی مضبوط زبان بنا دیا۔ یہی ان کا پائیدار کارنامہ ہے۔
وفات: 9 جنوری 1976ء، بلّی ماران، دہلی میں ہوئی۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85_%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%DA%A9%D8%A8%DB%8C%D8%B1_%D8%A7%D9%84%D8%AF%DB%8C%D9%86
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
-
