Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hakeem Mohammad Saeed Dehlavi's Photo'

حکیم محمد سعید دہلوی

1920 - 1998

نامور طبیب، مصنف، ماہرِ تعلیم، سماجی کارکن اور ادبِ اطفال کے ممتاز ادیب

نامور طبیب، مصنف، ماہرِ تعلیم، سماجی کارکن اور ادبِ اطفال کے ممتاز ادیب

حکیم محمد سعید دہلوی کا تعارف

اصلی نام : محمد سعید

پیدائش : 09 Jan 1920 | دلی

وفات : 17 Oct 1998 | کراچی, سندھ

شناخت: نامور طبیب، مصنف، ماہرِ تعلیم، سابق گورنر سندھ اور بچوں کے محبوب ادیب

حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920ء کو دہلی میں ایک علمی و طبی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد کا تعلق کاشغر (موجودہ سنکیانگ، چین) سے تھا جو مغلیہ دور میں برصغیر آئے۔ آپ کے خاندان نے طبِ یونانی کی خدمت میں نمایاں مقام حاصل کیا اور ہمدرد وقف لیبارٹریز کی بنیاد بھی قبل از تقسیم رکھی۔

ابتدائی تعلیم کے دوران آپ نے عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔ بعد ازاں دہلی یونیورسٹی سے بی فارمیسی اور میڈیسنل کیمسٹری میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی، جبکہ 1945ء میں وہیں سے ماسٹرز بھی مکمل کیا۔ بعد میں 1952ء میں انقرہ یونیورسٹی سے فارمیسی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

قیامِ پاکستان کے بعد آپ ہجرت کر کے کراچی آ گئے اور یہاں ہمدرد لیبارٹریز کو ازسرِ نو قائم کیا۔ 1948ء میں آپ نے ہمدرد فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جو تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے بے شمار منصوبوں کا مرکز بنی۔

طب کے میدان میں آپ نے مشرقی (یونانی) اور مغربی طب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ آپ ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے عالمی سطح پر طبِ مشرقی کو تسلیم کروانے میں اہم کردار ادا کیا، حتیٰ کہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) میں بھی اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

تعلیم کے میدان میں آپ کا عظیم کارنامہ ہمدرد یونیورسٹی کا قیام ہے، جو مدینۃ الحکمت کے وسیع تعلیمی و تحقیقی شہر کا حصہ ہے۔ اس میں طب، انجینئرنگ، آئی ٹی، سوشل سائنسز، قانون اور دیگر شعبوں کے ادارے شامل ہیں، جبکہ بیت الحکمت پاکستان کی بڑی لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔

حکیم محمد سعیدؒ نے علمی و ادبی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ نے تقریباً 200 سے زائد کتابیں تصنیف یا مرتب کیں، جن میں طب، سائنس، مذہب، فلسفہ، تاریخ، اخلاقیات اور بچوں کا ادب شامل ہے۔

آپ نے متعدد جرائد و رسائل کی ادارت بھی کی، جن میں: ہمدرد میڈیکس، ہمدرد اسلامیکس، ہمدردِ صحت، ہمدرد نونہال (بچوں کے لیے)

انہوں نے دو اہم قومی فورمز بھی قائم کیے: ہمدرد شوریٰ (دانشوروں کے لیے)، نونہال اسمبلی (بچوں کی تربیت کے لیے)

آپ 1981ء میں ورلڈ کلچرل کونسل کے بانی اراکین میں شامل ہوئے۔

سیاسی میدان میں بھی آپ نے خدمات انجام دیں اور 19 جولائی 1993ء سے 23 جنوری 1994ء تک صوبہ سندھ کے گورنر رہے۔

آپ کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز (1966ء) اور بعد از وفات نشانِ امتیاز (2002ء) سے نوازا گیا، جبکہ آپ کی یومِ ولادت 9 جنوری کو پاکستان کا 'یومِ اطفال' قرار دیا گیا۔

وفات: 17 اکتوبر 1998ء کی ایک صبح کراچی کے علاقے آرام باغ میں اپنے مطب (دواخانہ) کے باہر وحشیانہ فائرنگ کا نشانہ بن کر انتقال کر گئے۔

 

Recitation

بولیے