- کتاب فہرست 180623
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1982
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1368 قصہ / داستان1599 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح594 صحافت200 زبان و ادب1570
خطوط727 طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4276 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6539افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2008نصابی کتاب424 ترجمہ4191-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1253
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1260
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت589
- نظم1205
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ75
- واسوخت24
حکیم سید عبدالحئی کا تعارف
اصلی نام : अब्दुल हई
پیدائش : 22 Dec 1869 | رائے بریلی, اتر پردیش
شناخت: برصغیر کے ممتاز عالم، مؤرخ، ادیب، محقق اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے فعال رکن
حکیم سید عبد الحئ حسنی کی ولادت 22 دسمبر 1869ء کو ضلع رائے بریلی کے گاؤں تکیہ کلاں میں ہوئی۔ آپ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں دینی و اخلاقی تربیت کا خاص اہتمام تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر اور ننیہال کے ماحول میں حاصل کی، بعد ازاں الہ آباد، فتح پور، بھوپال، لکھنؤ اور کانپور جیسے علمی مراکز میں ممتاز علما سے استفادہ کیا۔ حدیث، فقہ، ادب، تاریخ اور طب جیسے علوم میں مہارت حاصل کی اور مختلف مشائخ سے اجازتِ حدیث بھی حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے عملی زندگی میں تدریس، تصنیف اور ادارہ جاتی خدمات کو اپنا شعار بنایا۔ تحریک ندوۃ العلماء سے ابتدا ہی سے وابستہ رہے اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ابتدا میں مددگار ناظم کے طور پر خدمات انجام دیں، بعد ازاں 1915ء میں باقاعدہ ناظم مقرر ہوئے۔ ان کی نظامت کے دور میں دارالعلوم ندوۃ العلماء نے تعلیمی، علمی اور تنظیمی میدان میں قابلِ ذکر ترقی کی۔ مالی مفاد سے بے نیاز ہو کر خلوص کے ساتھ ادارے کی خدمت کرتے رہے اور ذاتی معاش کے لیے طبابت کو ذریعہ بنایا۔ عبد الحئ صاحب مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی (علی میاں ندوی) کے والد اور تذکرہ گل رعنا کے مصنف ہیں۔
عبد الحئ کی تصنیفی خدمات نہایت وقیع ہیں۔ انہوں نے تاریخ، سوانح، اسلامی تہذیب اور ادب پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں ’’نزہۃ الخاطر‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یاد ایام، تہذیب الاخلاق، الہند فی العہد الاسلامی، گل رعنا اور دیگر کتب علمی دنیا میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔ ان کی تحریر میں سلاست، شگفتگی اور فکری گہرائی پائی جاتی ہے، جو قاری کو متاثر کرتی ہے۔
وفات: ان کا انتقال 2 فروری 1923ء کو لکھنؤ میں ہوا۔ آپ کو آبائی گاؤں تکیہ کلاں (رائے بریلی) میں سپردِ خاک کیا گیا.
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Abdul_Hai_Hasani
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1982
-
