- کتاب فہرست 179374
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1602 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
حکیم سید عبدالحئی کا تعارف
اصلی نام : अब्दुल हई
پیدائش : 22 Dec 1869 | رائے بریلی, اتر پردیش
شناخت: برصغیر کے ممتاز عالم، مؤرخ، ادیب، محقق اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے فعال رکن
حکیم سید عبد الحئ حسنی کی ولادت 22 دسمبر 1869ء کو ضلع رائے بریلی کے گاؤں تکیہ کلاں میں ہوئی۔ آپ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں دینی و اخلاقی تربیت کا خاص اہتمام تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر اور ننیہال کے ماحول میں حاصل کی، بعد ازاں الہ آباد، فتح پور، بھوپال، لکھنؤ اور کانپور جیسے علمی مراکز میں ممتاز علما سے استفادہ کیا۔ حدیث، فقہ، ادب، تاریخ اور طب جیسے علوم میں مہارت حاصل کی اور مختلف مشائخ سے اجازتِ حدیث بھی حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے عملی زندگی میں تدریس، تصنیف اور ادارہ جاتی خدمات کو اپنا شعار بنایا۔ تحریک ندوۃ العلماء سے ابتدا ہی سے وابستہ رہے اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ابتدا میں مددگار ناظم کے طور پر خدمات انجام دیں، بعد ازاں 1915ء میں باقاعدہ ناظم مقرر ہوئے۔ ان کی نظامت کے دور میں دارالعلوم ندوۃ العلماء نے تعلیمی، علمی اور تنظیمی میدان میں قابلِ ذکر ترقی کی۔ مالی مفاد سے بے نیاز ہو کر خلوص کے ساتھ ادارے کی خدمت کرتے رہے اور ذاتی معاش کے لیے طبابت کو ذریعہ بنایا۔ عبد الحئ صاحب مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی (علی میاں ندوی) کے والد اور تذکرہ گل رعنا کے مصنف ہیں۔
عبد الحئ کی تصنیفی خدمات نہایت وقیع ہیں۔ انہوں نے تاریخ، سوانح، اسلامی تہذیب اور ادب پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں ’’نزہۃ الخاطر‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یاد ایام، تہذیب الاخلاق، الہند فی العہد الاسلامی، گل رعنا اور دیگر کتب علمی دنیا میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔ ان کی تحریر میں سلاست، شگفتگی اور فکری گہرائی پائی جاتی ہے، جو قاری کو متاثر کرتی ہے۔
وفات: ان کا انتقال 2 فروری 1923ء کو لکھنؤ میں ہوا۔ آپ کو آبائی گاؤں تکیہ کلاں (رائے بریلی) میں سپردِ خاک کیا گیا.
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Abdul_Hai_Hasani
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
