Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

حکیم سید عبدالحئی

1869 - 1923 | لکھنؤ, انڈیا

ممتاز عالم، مؤرخ، ادیب اور تذکرۂ گلِ رعنا کے مصنف

ممتاز عالم، مؤرخ، ادیب اور تذکرۂ گلِ رعنا کے مصنف

حکیم سید عبدالحئی کا تعارف

اصلی نام : अब्दुल हई

پیدائش : 22 Dec 1869 | رائے بریلی, اتر پردیش

وفات : 02 Feb 1923 | لکھنؤ, اتر پردیش

شناخت: برصغیر کے ممتاز عالم، مؤرخ، ادیب، محقق اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے فعال رکن

حکیم سید عبد الحئ حسنی کی ولادت 22 دسمبر 1869ء کو ضلع رائے بریلی کے گاؤں تکیہ کلاں میں ہوئی۔ آپ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں دینی و اخلاقی تربیت کا خاص اہتمام تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر اور ننیہال کے ماحول میں حاصل کی، بعد ازاں الہ آباد، فتح پور، بھوپال، لکھنؤ اور کانپور جیسے علمی مراکز میں ممتاز علما سے استفادہ کیا۔ حدیث، فقہ، ادب، تاریخ اور طب جیسے علوم میں مہارت حاصل کی اور مختلف مشائخ سے اجازتِ حدیث بھی حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے عملی زندگی میں تدریس، تصنیف اور ادارہ جاتی خدمات کو اپنا شعار بنایا۔ تحریک ندوۃ العلماء سے ابتدا ہی سے وابستہ رہے اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ابتدا میں مددگار ناظم کے طور پر خدمات انجام دیں، بعد ازاں 1915ء میں باقاعدہ ناظم مقرر ہوئے۔ ان کی نظامت کے دور میں دارالعلوم ندوۃ العلماء نے تعلیمی، علمی اور تنظیمی میدان میں قابلِ ذکر ترقی کی۔ مالی مفاد سے بے نیاز ہو کر خلوص کے ساتھ ادارے کی خدمت کرتے رہے اور ذاتی معاش کے لیے طبابت کو ذریعہ بنایا۔ عبد الحئ صاحب مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی (علی میاں ندوی) کے والد اور تذکرہ گل رعنا کے مصنف ہیں۔

عبد الحئ کی تصنیفی خدمات نہایت وقیع ہیں۔ انہوں نے تاریخ، سوانح، اسلامی تہذیب اور ادب پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں ’’نزہۃ الخاطر‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یاد ایام، تہذیب الاخلاق، الہند فی العہد الاسلامی، گل رعنا اور دیگر کتب علمی دنیا میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔ ان کی تحریر میں سلاست، شگفتگی اور فکری گہرائی پائی جاتی ہے، جو قاری کو متاثر کرتی ہے۔

وفات: ان کا انتقال 2 فروری 1923ء کو لکھنؤ میں ہوا۔ آپ کو آبائی گاؤں تکیہ کلاں (رائے بریلی) میں سپردِ خاک کیا گیا.

Recitation

بولیے