- کتاب فہرست 177103
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4299 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6600افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2037نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5833-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4850
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1192
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
حکیم سید عبدالحئی کا تعارف
اصلی نام : अब्दुल हई
پیدائش : 22 Dec 1869 | رائے بریلی, اتر پردیش
شناخت: برصغیر کے ممتاز عالم، مؤرخ، ادیب، محقق اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے فعال رکن
حکیم سید عبد الحئ حسنی کی ولادت 22 دسمبر 1869ء کو ضلع رائے بریلی کے گاؤں تکیہ کلاں میں ہوئی۔ آپ ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں دینی و اخلاقی تربیت کا خاص اہتمام تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر اور ننیہال کے ماحول میں حاصل کی، بعد ازاں الہ آباد، فتح پور، بھوپال، لکھنؤ اور کانپور جیسے علمی مراکز میں ممتاز علما سے استفادہ کیا۔ حدیث، فقہ، ادب، تاریخ اور طب جیسے علوم میں مہارت حاصل کی اور مختلف مشائخ سے اجازتِ حدیث بھی حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے عملی زندگی میں تدریس، تصنیف اور ادارہ جاتی خدمات کو اپنا شعار بنایا۔ تحریک ندوۃ العلماء سے ابتدا ہی سے وابستہ رہے اور اس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ابتدا میں مددگار ناظم کے طور پر خدمات انجام دیں، بعد ازاں 1915ء میں باقاعدہ ناظم مقرر ہوئے۔ ان کی نظامت کے دور میں دارالعلوم ندوۃ العلماء نے تعلیمی، علمی اور تنظیمی میدان میں قابلِ ذکر ترقی کی۔ مالی مفاد سے بے نیاز ہو کر خلوص کے ساتھ ادارے کی خدمت کرتے رہے اور ذاتی معاش کے لیے طبابت کو ذریعہ بنایا۔ عبد الحئ صاحب مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی (علی میاں ندوی) کے والد اور تذکرہ گل رعنا کے مصنف ہیں۔
عبد الحئ کی تصنیفی خدمات نہایت وقیع ہیں۔ انہوں نے تاریخ، سوانح، اسلامی تہذیب اور ادب پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں ’’نزہۃ الخاطر‘‘ کو خاص شہرت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ یاد ایام، تہذیب الاخلاق، الہند فی العہد الاسلامی، گل رعنا اور دیگر کتب علمی دنیا میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔ ان کی تحریر میں سلاست، شگفتگی اور فکری گہرائی پائی جاتی ہے، جو قاری کو متاثر کرتی ہے۔
وفات: ان کا انتقال 2 فروری 1923ء کو لکھنؤ میں ہوا۔ آپ کو آبائی گاؤں تکیہ کلاں (رائے بریلی) میں سپردِ خاک کیا گیا.
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Abdul_Hai_Hasani
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
