Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hakim Mohammad Akbar Arzani's Photo'

حکیم محمد اکبر ارزانی

- 1721 | دلی, انڈیا

اٹھارویں صدی کے نامور طبیب اور صوفی

اٹھارویں صدی کے نامور طبیب اور صوفی

حکیم محمد اکبر ارزانی کا تعارف

تخلص : 'ارزانی'

اصلی نام : محمد اکبر

شناخت: طبیب، صوفی معالج، مصنف (اٹھارویں صدی)

شاہ محمد ارزانی دہلوی، جن کا اصل نام محمد اکبر بن میر حاجی محمد مقیم ارزانی تھا، مغل ہندوستان کے اٹھارویں صدی کے ممتاز فارسی طبیب اور صوفی معالج تھے۔ آپ سترھویں صدی کے اواخر اور اٹھارویں صدی کے اوائل میں دہلی اور اطراف میں طبِ یونانی کے ایک معتبر نام کے طور پر جانے جاتے تھے۔

انہوں نے طب پر متعدد اہم تصانیف قلم بند کیں۔ ان کی مشہور ترین کتاب قرابادینِ قادری ہے، جو ایک ادویاتی مجموعہ (فارماکوپیا) ہے اور جسے انہوں نے سلسلۂ قادریہ کے بانی حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ کے نام سے منسوب کیا، کیونکہ ارزانی خود بھی اسی صوفی سلسلے سے وابستہ تھے۔

ارزانی نے مبتدی طلبہ کے لیے طب کی ایک سادہ اور مفید کتاب مفرّح القلوب تحریر کی۔ اسی طرح انہوں نے جغمینی کی قانونچہ پر شرح لکھی، جو دراصل ابنِ سینا کی شہرۂ آفاق تصنیف القانون فی الطب کا مختصر خلاصہ ہے۔

ان کی ایک اہم تصنیف طبِ اکبری (1700ء) ہے، جو برہان الدین نفیس بن عوض کرمانی کی عربی کتاب شرح الاسباب و العلامات کی توسیع شدہ فارسی شکل ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے حمل اور دودھ پلانے کے زمانے کی بیماریوں، نیز بچوں کے امراض پر بھی ایک مستقل فارسی رسالہ تحریر کیا، جبکہ مجرباتِ اکبری کے نام سے مرکب ادویات کے آزمودہ نسخوں کا مجموعہ مرتب کیا۔ شاہ محمد ارزانی دہلوی طب اور تصوف کے حسین امتزاج کی نمائندہ شخصیت تھے۔

وفات: شاہ محمد ارزانی دہلوی نے 1133ھ/1721ء میں وفات پائی۔

موضوعات

Recitation

بولیے