- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1601 صحت105 تاریخ3301طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1712 خطوط748
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4331 سیاسی355 مذہبیات4773 تحقیق و تنقید6628افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2041نصابی کتاب450 ترجمہ4261خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1286
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت587
- نظم1213
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
حمید اختر کا تعارف
قیام پاکستان کے بعد انھوں نے لاہور میں سکونت اختیار کی اور صحافت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ وہ سیدسجاد ظہیر، فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، ابن انشا، کرشن چند، سعادت حسن منٹو، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور عصمت چغتائی کے ساتھیوں میں شامل تھے۔ حمید اختر کا سلسلۂ نسب اجمیر شریف کے ایک صوفی بزرگ خواجہ قطب الدین بختیاری سے ملتا تھا۔ انھوں نے اپنے گھرانے کی روایات کے مطابق محض دس برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا۔ انھوں نے نہایت کم عمری سے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی بعد ازاں وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کی چلتی پھرتی تاریخ سمجھے جاتے تھے۔ 1950ء کی دہائی میں انھیں راولپنڈی سازش کیس میں بھی ملوث کیا گیا اور انھوں نے ایک سال تک قید تنہائی بھی برداشت کی۔ حمید اختر کا شمار پاکستان کے انتہائی سینئر اور قابل احترام صحافیوں میں کیا جاتا تھا۔انھوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ امروز سے کیا۔ 1970ء میں عبداللہ ملک اور آئی اے رحمن کی معیت میں روزنامہ آزاد جاری کیا۔ عمر کے آخری حصے میں وہ روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ تھے۔ حمید اختر پاکستان کی فلمی صنعت سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے۔ قیام پاکستان سے قبل انھوں نے چند فلموںمیں کام بھی کیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد انھوں نے دو فلمیں سکھ کا سپنا اور پرائی بیٹی بھی بنائی تھیں۔ انھوں نے ایک فلمی جریدہ ’’جلوہ‘‘ بھی جاری کیا مگر یہ جریدہ بھی زیادہ عرصے جاری نہ رہ سکا۔ حمید اختر کی تصانیف میں کال کوٹھری، احوال واقعی، احوال دوستاں، بے برگ و گیاہ، آشنائیاں کیا کیا اور روداد انجمن کے نام شامل ہیں۔ حمید اختر کی شخصیت پر احمد سلیم نے بھی ایک یادگار کتاب تصنیف کی ہے۔ حمید اختر پاکستان ٹیلی وژن کی نامور اداکارہ صبا حمید کے والد تھے۔ ان کی دو اور بیٹیاں ہما حمید اور لالہ رخ بھی پاکستان ٹیلی وژن کے ڈراموں میں اداکاری کا مظاہرہ کرتی رہی تھیں۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1990
-
