Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Haneef Najmi's Photo'

حنیف نجمی

1959 | چھتیس گڑھ, انڈیا

حنیف نجمی جدید اردو شاعری کی نمایاں آواز ہیں

حنیف نجمی جدید اردو شاعری کی نمایاں آواز ہیں

حنیف نجمی کے اشعار

79
Favorite

باعتبار

جواز کچھ نہیں ہوتا ہماری خوشیوں کا

اداس رہنے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

وہ اک جگہ نہ کہیں رہ سکا اور اس کے ساتھ

کرایہ دار تھے ہم بھی مکاں بدلتے رہے

اگر جہاں میں کوئی آئنا نہیں تیرا

تو پھر تجھی کو ترے رو بہ رو کروں گا میں

شاعری کیا ہے مری جاں تجھے معلوم نہیں

ایک تہمت ہے جو مجھ پر بھی لگا دی گئی ہے

وہ خفا ہیں تو رہیں ہم کو منانا بھی نہیں

ان کو آنا بھی نہیں ہم کو بلانا بھی نہیں

مری نظر میں کوئی شے نہیں ٹھہرتی ہے

تمہارا حسن مگر جم رہا ہے آنکھوں میں

بس میں جو کچھ تھا وہ میں نے کر دیا

اب وہ عزت دے کہ ذلت دے مجھے

بساط خاک پر بے حد قد آور لگ رہے تھے جو

بلندی پر پہنچ کر وہ بہت چھوٹے نظر آئے

ترے جمال کی دیکھی جو سادگی ہم نے

بنا لیا اسے اسلوب شاعری ہم نے

عجب قاتل ہو تم تھکتے نہیں ہو قتل کرنے سے

کبھی خنجر تمہارا خون سے بے دم نہیں ہوتا

بھلا وہ خاک سمجھیں گے خدا کیا ہے خودی کیا ہے

جو اب تک یہ نہیں سمجھے مقام آدمی کیا ہے

تری تلاش میں نکلا جو بوئے گل کی طرح

پلٹ کے پھر وہ کبھی اپنے گھر نہیں جاتا

کمی کچھ اپنے ہی ذوق طلب میں ہے ورنہ

دعا کا حرف کبھی بے اثر نہیں جاتا

ملی نہ ہم کو شہادت تو کیا یہ کیا کم ہے

کہ ساری عمر رہ کربلا پہ چلتے رہے

بند ہوں آنکھیں تو دنیا صاف آتی ہے نظر

ہم یونہی آنکھوں پہ پردہ تو نہ تھے ڈالے ہوئے

جب سے گھر والے زیادہ ہم کو سمجھانے لگے

بھول بیٹھے تھے جنہیں ہم وہ بھی یاد آنے لگے

زمانے سے میں ناقدری کا شکوہ کیا کروں نجمیؔ

خود اپنی ہی نظر سے عمر بھر اوجھل رہا ہوں میں

ترے غم نے عطا کی ہے عجب پاکیزگی مجھ کو

میں روتا ہوں تو آنکھوں سے مری زمزم نکلتا ہے

اس شہر میں کسی کو میسر نہ تھا سکوں

رونا کسی کو دل کا کسی کو انا کا تھا

ہے دیدہ ور تو ایک نظر میں پرکھ مجھے

لازم نہیں کسی کو کئی بار دیکھنا

مرے مولا یہ کیسا وسوسہ آیا مرے دل میں

اب اس کے سامنے جاتے ہوئے بھی ڈر رہا ہوں میں

آگ ایسی ہے کچھ اس میں کہ بجھانا ہے محال

برف ایسی ہے کہ پگھلا نہیں سکتا کوئی

اس میں جو کچھ ہے علاوہ حسن کے

چھانٹ دیتا ہے مرا تار نظر

تو پرانے پن پہ میرے اتنا افسردہ نہ ہو

آنے والے کل کو میں پھر سے نیا ہو جاؤں گا

مرے پیکر میں لاکھوں سورجوں کی آگ پنہاں ہے

غریق آب ہوں پھر بھی مسلسل جل رہا ہوں میں

تبصرہ کرتے رہے ہم ظلمتوں پر

کھو گیا سارا اثاثہ روشنی میں

شکست کر نہ سکا کوئی غزنوی اس کو

وہ ایک بت جو مرے دل کے سومنات میں ہے

نشہ وجود کا جب تک اتر نہیں جاتا

دلوں سے کھوٹ نگاہوں سے شر نہیں جاتا

یہ وصل کی خواہش بھی میاں بو الہوسی ہے

جس دل میں محبت ہو تمنا نہیں ہوتی

نقطہ نہ تھا لکیر نہ تھا دائرہ نہ تھا

وہ حرف تھا میں جس کو کسی نے لکھا نہ تھا

بزم میں آتے ہی اس کے بجھ گئیں آنکھیں تمام

سب کے سب دیدار کی حسرت لیے بیٹھے رہے

مرے قبیلے کا ہر شخص مجھ سے بد ظن ہے

مری خطا ہے بس اتنی کہ سوچتا ہوں میں

جب پہلی بار گاؤں سے وہ شہر کو گیا

حیرت سے اونچے اونچے بھون دیکھتا رہا

عشق میں جل جل کے کندن بن گیا ہوں سربسر

اب بھی کیا میرا خدا دوزخ میں ڈالے گا مجھے

یہ الگ بات کہ سایہ ہے سلامت اس کا

ورنہ دیوار تو چاہت کی گرا دی گئی ہے

الجھنا لفظوں سے شیوہ ہے کم نگاہوں کا

جو دیدہ ور ہیں وہ بین السطور دیکھتے ہیں

ہر حال میں خوش رہنا ہر روز غزل کہنا

ہم نے یہی جینے کی اک راہ نکالی ہے

تو میرے حق میں کوئی فیصلہ ابھی سے نہ کر

کہ لمحہ لمحہ میں خود کو نیا بناتا ہوں

سورج کو جانے کس کے تقدس کا ہے خیال

مغرب کی سمت جب بھی گیا سر کے بل گیا

کسی کا وصل تو جنت کا خوان ہے نجمیؔ

یہ من و سلویٰ ہمیشہ نہیں اترتا ہے

رکھتا تھا وہ بھی میری روش پر کڑی نگاہ

اور میں بھی اس کا چال چلن دیکھتا رہا

میں سادہ لوح کرتا بھی کیا تیرے شہر میں

چپ چاپ یار لوگوں کا فن دیکھتا رہا

کیجیے کیا ان سے اخلاق‌ و مروت کی امید

یہ ہیں سب کے سب نئی تہذیب کے پالے ہوئے

ہر شے کو زمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہے

کب آتا ہے دھرتی پہ گگن دیکھتے رہنا

کھل اٹھا میرے دل کا چمن بھی پس وصال

خطے ترے بدن کے بھی شاداب ہو گئے

ہے دھوپ بھی اس کے لیے تھوڑی سی ضروری

یہ نخل گھنی چھاؤں میں مرجھانے لگا ہے

کافور ہوئی جب سے مرے دل کی سیاہی

ہر چہرہ مجھے صاف نظر آنے لگا ہے

گلشن میں یہ بہار رکی ہی رہے گی کیا

یہ چاندنی بدن کی کھلی ہی رہے گی کیا

سفر ہو ختم تو شاید یہ فاصلہ مٹ جائے

ابھی تو میں ہوں زمیں پر وہ آسمان پہ ہے

Recitation

بولیے