حنیف نجمی کے اشعار
جواز کچھ نہیں ہوتا ہماری خوشیوں کا
اداس رہنے کا کوئی سبب نہیں ہوتا
وہ اک جگہ نہ کہیں رہ سکا اور اس کے ساتھ
کرایہ دار تھے ہم بھی مکاں بدلتے رہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اگر جہاں میں کوئی آئنا نہیں تیرا
تو پھر تجھی کو ترے رو بہ رو کروں گا میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
شاعری کیا ہے مری جاں تجھے معلوم نہیں
ایک تہمت ہے جو مجھ پر بھی لگا دی گئی ہے
وہ خفا ہیں تو رہیں ہم کو منانا بھی نہیں
ان کو آنا بھی نہیں ہم کو بلانا بھی نہیں
مری نظر میں کوئی شے نہیں ٹھہرتی ہے
تمہارا حسن مگر جم رہا ہے آنکھوں میں
بس میں جو کچھ تھا وہ میں نے کر دیا
اب وہ عزت دے کہ ذلت دے مجھے
بساط خاک پر بے حد قد آور لگ رہے تھے جو
بلندی پر پہنچ کر وہ بہت چھوٹے نظر آئے
ترے جمال کی دیکھی جو سادگی ہم نے
بنا لیا اسے اسلوب شاعری ہم نے
عجب قاتل ہو تم تھکتے نہیں ہو قتل کرنے سے
کبھی خنجر تمہارا خون سے بے دم نہیں ہوتا
بھلا وہ خاک سمجھیں گے خدا کیا ہے خودی کیا ہے
جو اب تک یہ نہیں سمجھے مقام آدمی کیا ہے
تری تلاش میں نکلا جو بوئے گل کی طرح
پلٹ کے پھر وہ کبھی اپنے گھر نہیں جاتا
کمی کچھ اپنے ہی ذوق طلب میں ہے ورنہ
دعا کا حرف کبھی بے اثر نہیں جاتا
ملی نہ ہم کو شہادت تو کیا یہ کیا کم ہے
کہ ساری عمر رہ کربلا پہ چلتے رہے
بند ہوں آنکھیں تو دنیا صاف آتی ہے نظر
ہم یونہی آنکھوں پہ پردہ تو نہ تھے ڈالے ہوئے
جب سے گھر والے زیادہ ہم کو سمجھانے لگے
بھول بیٹھے تھے جنہیں ہم وہ بھی یاد آنے لگے
زمانے سے میں ناقدری کا شکوہ کیا کروں نجمیؔ
خود اپنی ہی نظر سے عمر بھر اوجھل رہا ہوں میں
ترے غم نے عطا کی ہے عجب پاکیزگی مجھ کو
میں روتا ہوں تو آنکھوں سے مری زمزم نکلتا ہے
اس شہر میں کسی کو میسر نہ تھا سکوں
رونا کسی کو دل کا کسی کو انا کا تھا
ہے دیدہ ور تو ایک نظر میں پرکھ مجھے
لازم نہیں کسی کو کئی بار دیکھنا
مرے مولا یہ کیسا وسوسہ آیا مرے دل میں
اب اس کے سامنے جاتے ہوئے بھی ڈر رہا ہوں میں
آگ ایسی ہے کچھ اس میں کہ بجھانا ہے محال
برف ایسی ہے کہ پگھلا نہیں سکتا کوئی
تو پرانے پن پہ میرے اتنا افسردہ نہ ہو
آنے والے کل کو میں پھر سے نیا ہو جاؤں گا
مرے پیکر میں لاکھوں سورجوں کی آگ پنہاں ہے
غریق آب ہوں پھر بھی مسلسل جل رہا ہوں میں
تبصرہ کرتے رہے ہم ظلمتوں پر
کھو گیا سارا اثاثہ روشنی میں
شکست کر نہ سکا کوئی غزنوی اس کو
وہ ایک بت جو مرے دل کے سومنات میں ہے
نشہ وجود کا جب تک اتر نہیں جاتا
دلوں سے کھوٹ نگاہوں سے شر نہیں جاتا
یہ وصل کی خواہش بھی میاں بو الہوسی ہے
جس دل میں محبت ہو تمنا نہیں ہوتی
نقطہ نہ تھا لکیر نہ تھا دائرہ نہ تھا
وہ حرف تھا میں جس کو کسی نے لکھا نہ تھا
بزم میں آتے ہی اس کے بجھ گئیں آنکھیں تمام
سب کے سب دیدار کی حسرت لیے بیٹھے رہے
مرے قبیلے کا ہر شخص مجھ سے بد ظن ہے
مری خطا ہے بس اتنی کہ سوچتا ہوں میں
جب پہلی بار گاؤں سے وہ شہر کو گیا
حیرت سے اونچے اونچے بھون دیکھتا رہا
عشق میں جل جل کے کندن بن گیا ہوں سربسر
اب بھی کیا میرا خدا دوزخ میں ڈالے گا مجھے
یہ الگ بات کہ سایہ ہے سلامت اس کا
ورنہ دیوار تو چاہت کی گرا دی گئی ہے
الجھنا لفظوں سے شیوہ ہے کم نگاہوں کا
جو دیدہ ور ہیں وہ بین السطور دیکھتے ہیں
ہر حال میں خوش رہنا ہر روز غزل کہنا
ہم نے یہی جینے کی اک راہ نکالی ہے
تو میرے حق میں کوئی فیصلہ ابھی سے نہ کر
کہ لمحہ لمحہ میں خود کو نیا بناتا ہوں
سورج کو جانے کس کے تقدس کا ہے خیال
مغرب کی سمت جب بھی گیا سر کے بل گیا
کسی کا وصل تو جنت کا خوان ہے نجمیؔ
یہ من و سلویٰ ہمیشہ نہیں اترتا ہے
رکھتا تھا وہ بھی میری روش پر کڑی نگاہ
اور میں بھی اس کا چال چلن دیکھتا رہا
میں سادہ لوح کرتا بھی کیا تیرے شہر میں
چپ چاپ یار لوگوں کا فن دیکھتا رہا
کیجیے کیا ان سے اخلاق و مروت کی امید
یہ ہیں سب کے سب نئی تہذیب کے پالے ہوئے
ہر شے کو زمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہے
کب آتا ہے دھرتی پہ گگن دیکھتے رہنا
کھل اٹھا میرے دل کا چمن بھی پس وصال
خطے ترے بدن کے بھی شاداب ہو گئے
ہے دھوپ بھی اس کے لیے تھوڑی سی ضروری
یہ نخل گھنی چھاؤں میں مرجھانے لگا ہے
کافور ہوئی جب سے مرے دل کی سیاہی
ہر چہرہ مجھے صاف نظر آنے لگا ہے
گلشن میں یہ بہار رکی ہی رہے گی کیا
یہ چاندنی بدن کی کھلی ہی رہے گی کیا