- کتاب فہرست 178620
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ہرچرن چاولہ کا تعارف
اصل نام ہرچن داس ہے لیکن ادبی نام ہرچرن چاولہ اختیار ان کے والد کا نام کیول رام تھا۔ چاولہ 3 نومبر 1925ء کو داؤد خیل (ضلع میانوالی، پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن بھی یہیں ہے۔ موصوف نے پنجاب یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا۔ چاولہ مختلف جگہوں پر قیام پذیر ہوتے رہے۔ میانوالی سے ملتان، راؤلپنڈی، دہلی، ممبئی یہاں تک کہ فرینک فرٹ ہوتے ہوئے جرمنی پہنچ گئے اور آخر میں یہی مستقر ٹھہرا۔ ناروے میں ایک اہم لائبریری کے مشیر بنائے گئے۔ اسی عہدے سے وابستہ تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا۔
چاولہ بنیادی طور پر افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ ملک اور بیرون ملک کے مؤقر رسالوں میں ان کے افسانے شائع ہوتے رہے ہیں پھر انہوں نے ناول نگاری کی طرف توجہ کی تو کئی ناول لکھ ڈالے۔ اپنی زندگی کے کیف و کم کو ’’البم‘‘ نامی ایک کتاب میں درج کر ڈالا۔
موصوف دنیا کے ایک بڑے حصے میں سفر کرتے رہے، لہٰذا ان کی فکر کے آفاق میں مسلسل توسیع ہوتی رہی۔ جس کا عکس ان کے افسانوں اور ناولوں میں ملتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ چاولہ یوں تو کسی ایک ملک کے شہری ہوسکتے تھے لیکن ان کی شہرت ان کے وسیع تر تجربے اور مشاہدے کی بنا پر بین الاقوامی سطح تک آ گئی۔ میں نے یہ امور اس لئے قلمبند کئے کہ انہیں نکات کی عقبیٰ زمین میں ان کی تخلیقی کاوشوں کو سمجھا اور سمجھایا جاسکتا ہے۔ یہاں ٹھہر کر ان کی بعض کتابوں کا نام نقل کر رہا ہوں:
’’درندے‘‘ (ناول 1978ء)، ’’عکس آئینے کے‘‘(افسانے 1975ء)، ’’ریت سمندر اور جھاگ‘‘ (افسانے 1980ء)، ’’چراغ کے زخم‘‘ (ناول 1980ء)، ’’بھٹکتے ہوئے لوگ‘‘ (ناول1984ء)، ’’دل دماغ اور دنیا‘‘ (افسانے 1992ء)، ’’گریباں جھوٹ بولتا ہے‘‘ (افسانے 1996ء)، ’’دریا اور کنارے‘‘ (افسانے 1995ء)، ’’تم کو دیکھیں‘‘(سفر نامہ 1992ء)، ’’البم‘‘ (یادیں1990ء)۔
ہرچرن چاولہ 1948ء سے باضابطہ افسانہ لکھنے لگے تھے۔ لیکن ناروے میں قیام کے بعد ان کی رفتار تیز ہوگئی۔ یوں تو ان کے اکثر افسانے پسند کئے گئے لیکن ’’گھوڑے کا کرب‘‘ انتہائی فنکارانہ انداز میں پیش ہوا ہے۔ دراصل چاولہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آج بھی محنت تقریباً رائیگاں جاتی ہے، اتنا ہی نہیں اسی بنیاد پر تفریق بھی پیدا کی جاتی ہے۔ یہاں گھوڑا ایک علامت ہے جو محنت کا سمبل بن گیا ہے۔ ایسے لوگ جو ملازمتوں کی تلاش میں ملک سے باہر رہتے ہیں ان کے لئے یہ صورت اور بھی سنگین ہوجاتی ہے۔ اس طرح کے کئی کردار ایسے ہیں جو مجبوری کا عکس پیش کرتے ہیں۔ جیسے ’’آتے جاتے موسموں کا سچ‘‘، ’’دوسا‘‘وغیرہ۔ ان سب میں کوئی نہ کوئی فکری عنصر ابھارا گیا ہے۔ نئی نسل پر کیا کچھ گذر رہی ہے وہ ان افسانوں کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے۔ موصوف کا ایک مشہور افسانہ ہے ’’ریت سمندر اور جھاگ‘‘ یہ بھی اپنی نوعیت کا اہم افسانہ ہے اور اس کے کردار زندگی کی نیرنگی بھی ظاہر کرتے ہیں اور رشتے ناطوں کی کیفیت بھی، مادی حالات کا عکس بھی پیش کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے دوسرے افسانے جیسے ’’ڈھائی اکھشر‘‘، ’’قفس‘‘، ’’سانپوں کا جوڑا‘‘، ’’انگارا‘‘ وغیرہ اہم افسانے ہیں۔
دراصل ہرچرن چاولہ کے افسانوں میں دیہات اور شہر کی کئی طرح کی زندگیاں منعکس ہوگئی ہیں۔ ان کے افسانوی کردار سے بحث کرتے ہوئے مشہور شاعر مظہر امام لکھتے ہیں:۔
’’ہرچرن چاولہ نے 1948ء میں افسانہ نگاری شروع کردی تھی۔ ان کی افسانہ نگاری کی نصف صدی مکمل ہوچکی ہے۔ ان کے ابتدائی دور کے افسانے میں نے نہیں دیکھے اس لئے کچھ کہہ نہیں سکتا، ان پر ترقی پسندی کا کتنا اثر تھا۔ جدیدیت کی گہماگہمی کے زمانے میں شاذ ہی کسی ’جدید‘ رسالے میں دکھائی دئیے۔ اس لئے ان کی شناخت ذرا دیر سے قائم ہوئی۔ ایسے کئی اہم لکھنے والے تھے یا ہیں جن کی پہچان کسی تحریک یا رجحان کے حوالے سے نہیں۔ ہرچرن چاولہ بھی ان میں سے ایک ہیں اور یہ خوشی کی بات ہے کہ جو کچھ بھی وہ ہیں، اپنی تحریروں کے بل بوتے پر ہیں۔ کسی خارجی سہارے کی بنا پر نہیں۔‘‘
یوں تو چاولہ نے ناول بھی لکھے ہیں لیکن ان کے ناولوں کے موضوعات بھی وہی ہیں جو مختلف افسانوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ پھر بھی ایک بات جو ان کے ناولوں میں کلیدی حیثیت اختیار کرلیتی ہے وہ زمانے کا ہیجان ہے اور اس ہیجان میں امن اور سکون کی تلاش۔ مختلف کردار سے موصوف اسے پہلوؤں کو واضح کرتے رہے ہیں۔
ہرچرن چاولہ پر بحث ان کی خود نوشت ’’البم‘‘ کے تذکرے کے بغیر نامکمل رہے گی۔ یہ دراصل ان کی یادوں کی برات ہے جس میں بچپن کی معصومیت سے لے کر عشق اور جنگ کے مرحلے تک زیر بحث آئے ہیں۔ اس میں جہاں تہاں ان کی افسانہ نگاری اور دوسرے پہلوؤں کا بھی احاطہ ہے۔
ان کا انتقال 6 دسمبر 2001ء کو اوسلو، ناروے میں ہوگیا۔مأخذ : تاریخ ادب اردوموضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
