- کتاب فہرست 180681
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1653 صحت108 تاریخ3344طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6699افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
ہارون خاں شیروانی کا تعارف
اصلی نام : ہارون خاں
پیدائش : 30 Mar 1891 | علی گڑہ, اتر پردیش
وفات : 15 Sep 1980 | حیدر آباد, تلنگانہ
شناخت: ممتاز مورخ، ماہرِ تعلیم، پدما بھوشن یافتہ دانشور, ماہرِ سیاسیات اور دکنی تاریخ کے معتبر محقق
پروفیسر ہارون خان شیروانی 30 مارچ 1891ء کو دتاؤلی ضلع علی گڑھ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم محمدن اینگلو اورینٹل اسکول علی گڑھ، ہائی اسکول مراد آباد اور پیراڈائز ہائی اسکول لندن میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے بی۔اے (آنرز) کیا اور 1912ء میں بار ایٹ لا کی تکمیل کی۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے ان میں قیادت، تنظیم اور قومی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا, چنانچہ آکسفورڈ میں قیام کے دوران ایڈیسن کلب اور لندن انڈین ایسوسی ایشن جیسے اداروں کے صدر منتخب ہوئے۔
وطن واپسی کے بعد وہ سیاسی اور تعلیمی میدانوں میں سرگرم ہوئے۔ 1915ء میں مسلم یونیورسٹی فاؤنڈیشن کمیٹی کے رکن بنے اور اسی زمانے میں انڈین نشنل کانگریس سے وابستہ ہو کر مختلف کانگریسی اجلاسوں اور قومی تحریکوں میں شریک رہے۔ 1919ء میں عثمانیہ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے، جہاں سے ان کی مستقل علمی و تدریسی زندگی کا آغاز ہوا۔ 1929ء میں جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ تاریخ اور شعبۂ سیاسیات کے صدر مقرر ہوئے اور پھر 1945ء میں نظام کالج کے پرنسپل بنے۔ 1946ء سے 1948ء کے دوران دہلی کے مشہور اینگلو عربک کالج سے وابستہ رہے۔ 1948ء سے 1951ء تک دوبارہ جامعہ عثمانیہ میں شعبۂ سیاسیات کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
پروفیسر شیروانی کا علمی امتیاز خصوصاً دکن کی تاریخ پر ان کی گہری تحقیق ہے۔ انہوں نے بہمنی سلطنت، دکنی تہذیب، مسلم سیاسی فکر اور اسلامی نظامِ حکومت جیسے موضوعات پر نہایت اہم اور مستند تصانیف یادگار چھوڑیں۔ ان کی نمایاں کتب میں دکن کے بہمنی سلاطین، دکنی کلچر، مسلمانوں کے سیاسی افکار اور ان کا انتظامِ حکومت، سیاسیات کے اصول، مبادیاتِ سیاسیات، سید احمد خان اور ہندو مسلم اتحاد، قرآن کا نظریۂ سلطنت اور تاریخِ یونانِ قدیم (ترجمہ) شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی استناد، تحقیقی دیانت اور تاریخی بصیرت نمایاں نظر آتی ہے۔
علم و ادب کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے 1969ء میں انہیں پڈما بھوشن سے نوازا جبکہ جبکہ علی گڑھ یونیورسٹی نے 1976ء میں انہیں ڈی۔لٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ ان کے علمی مقام کے اعتراف میں مولانا آزاد نیشنل اردو، حیدرآباد نے ان کے نام سے 'ہارون خان شیروانی مرکز برائے مطالعاتِ دکن' قائم کیا جو دکنیات پر تحقیق کا اہم مرکز ہے۔
وفات: 15 ستمبر 1980ء کو حیدرآباد دکن میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Haroon_Khan_Sherwani
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1988
-
