- کتاب فہرست 179254
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
حضرت علی کا تعارف
حضرت علی ابن ابی طالبؑ (599ء – 661ء) اسلامی تاریخ کی ایک درخشاں، ہمہ جہت اور بے مثال شخصیت ہیں۔ وہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے چچا زاد بھائی، داماد، اور پہلے نوجوان مرد تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ حضرت علیؑ شیعہ مسلمانوں کے پہلے امام اور خلیفہ ہیں، جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافتِ راشدہ کے چوتھے خلیفہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے بچپن ہی سے حضور اکرم ﷺ کی سرپرستی میں تربیت پائی اور دین، حکمت، عدل، زہد، اور قیادت کے اعلیٰ مدارج حاصل کیے۔ انہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں نہ صرف عسکری میدانوں میں بہادری کے جوہر دکھائے بلکہ علم و حکمت کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ حضرت علیؑ کو اسلامی دنیا میں ’’باب العلم‘‘ (علم کا دروازہ) کہا جاتا ہے۔ ان کی علمی میراث نہ صرف دینیات بلکہ فلسفہ، فقہ، اخلاقیات، اور سیاست جیسے موضوعات پر محیط ہے۔ ان کے اقوال، خطوط، اور خطبات کو ’’نہج البلاغہ‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا گیا، جو عربی ادب اور اسلامی فکر کا شاہکار شمار ہوتا ہے۔ اس کتاب میں موجود ان کے کلام میں فصاحت، بلاغت، گہرائی، اور روحانیت کی جھلک نمایاں ہے۔
حضرت علیؑ عربی ادب کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی نثر فکری عمق اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے خطبات میں موضوعاتی تنوع، اظہار کی بلاغت، اور معانی کی تہ داری نظر آتی ہے۔ ان کے اقوالِ زرّیں دنیا بھر میں حکمت و دانائی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری بھی ادبی سرمایہ ہے، جس میں اخلاقی تعلیمات، دنیا کی بے ثباتی، اور معرفتِ الٰہی کی جھلک ملتی ہے۔ اگرچہ حضرت علیؑ کو زیادہ تر نثر نگاری اور خطابت سے یاد کیا جاتا ہے، مگر ان کے منسوب چند اشعار عربی کلاسیکی شاعری کا حصہ بن چکے ہیں۔
حضرت علیؑ نے ادب کو محض زبان کا کھیل نہیں سمجھا، بلکہ اسے فکر و فلسفہ اور روحانیت کا وسیلہ بنایا۔ ان کی نثر میں قرآنی اسلوب کی چھاپ، اور ان کی فکری ژرف نگاہی نے بعد کے صوفیانہ اور فلسفیانہ ادب کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
حضرت علیؑ کی شہادت 661ء میں مسجد کوفہ میں نمازِ فجر کے دوران ہوئی۔ ان کا مزار نجف اشرف (عراق) میں واقع ہے، جو آج بھی علم و روحانیت کے متلاشیوں کا مرکز ہے۔ حضرت علیؑ کی ذات میں ایک عظیم سپہ سالار، عادل حکمران، زاہد انسان، صاحبِ علم مفسر، اور فصیح و بلیغ ادیب کی خوبیاں یکجا تھیں۔ وہ تاریخِ اسلام کے وہ نایاب چراغ ہیں جن کی روشنی آج بھی فکر و عمل کی راہوں کو منور کرتی ہے۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
