- کتاب فہرست 189006
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
ڈرامہ1030 تعلیم392 مضامين و خاكه1550 قصہ / داستان1796 صحت110 تاریخ3628طنز و مزاح744 صحافت220 زبان و ادب1950 خطوط814
طرز زندگی29 طب1050 تحریکات298 ناول5021 سیاسی378 مذہبیات5048 تحقیق و تنقید7401افسانہ3012 خاکے/ قلمی چہرے286 سماجی مسائل121 تصوف2287نصابی کتاب554 ترجمہ4613خواتین کی تحریریں6290-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1476
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح210
- گیت67
- غزل1410
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1686
- کہہ مکرنی7
- کلیات687
- ماہیہ20
- مجموعہ5403
- مرثیہ403
- مثنوی892
- مسدس61
- نعت614
- نظم1322
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی300
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ71
- واسوخت29
حضرت علی کا تعارف
حضرت علی ابن ابی طالبؑ (599ء – 661ء) اسلامی تاریخ کی ایک درخشاں، ہمہ جہت اور بے مثال شخصیت ہیں۔ وہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے چچا زاد بھائی، داماد، اور پہلے نوجوان مرد تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ حضرت علیؑ شیعہ مسلمانوں کے پہلے امام اور خلیفہ ہیں، جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافتِ راشدہ کے چوتھے خلیفہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے بچپن ہی سے حضور اکرم ﷺ کی سرپرستی میں تربیت پائی اور دین، حکمت، عدل، زہد، اور قیادت کے اعلیٰ مدارج حاصل کیے۔ انہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں نہ صرف عسکری میدانوں میں بہادری کے جوہر دکھائے بلکہ علم و حکمت کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ حضرت علیؑ کو اسلامی دنیا میں ’’باب العلم‘‘ (علم کا دروازہ) کہا جاتا ہے۔ ان کی علمی میراث نہ صرف دینیات بلکہ فلسفہ، فقہ، اخلاقیات، اور سیاست جیسے موضوعات پر محیط ہے۔ ان کے اقوال، خطوط، اور خطبات کو ’’نہج البلاغہ‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا گیا، جو عربی ادب اور اسلامی فکر کا شاہکار شمار ہوتا ہے۔ اس کتاب میں موجود ان کے کلام میں فصاحت، بلاغت، گہرائی، اور روحانیت کی جھلک نمایاں ہے۔
حضرت علیؑ عربی ادب کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی نثر فکری عمق اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے خطبات میں موضوعاتی تنوع، اظہار کی بلاغت، اور معانی کی تہ داری نظر آتی ہے۔ ان کے اقوالِ زرّیں دنیا بھر میں حکمت و دانائی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری بھی ادبی سرمایہ ہے، جس میں اخلاقی تعلیمات، دنیا کی بے ثباتی، اور معرفتِ الٰہی کی جھلک ملتی ہے۔ اگرچہ حضرت علیؑ کو زیادہ تر نثر نگاری اور خطابت سے یاد کیا جاتا ہے، مگر ان کے منسوب چند اشعار عربی کلاسیکی شاعری کا حصہ بن چکے ہیں۔
حضرت علیؑ نے ادب کو محض زبان کا کھیل نہیں سمجھا، بلکہ اسے فکر و فلسفہ اور روحانیت کا وسیلہ بنایا۔ ان کی نثر میں قرآنی اسلوب کی چھاپ، اور ان کی فکری ژرف نگاہی نے بعد کے صوفیانہ اور فلسفیانہ ادب کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
حضرت علیؑ کی شہادت 661ء میں مسجد کوفہ میں نمازِ فجر کے دوران ہوئی۔ ان کا مزار نجف اشرف (عراق) میں واقع ہے، جو آج بھی علم و روحانیت کے متلاشیوں کا مرکز ہے۔ حضرت علیؑ کی ذات میں ایک عظیم سپہ سالار، عادل حکمران، زاہد انسان، صاحبِ علم مفسر، اور فصیح و بلیغ ادیب کی خوبیاں یکجا تھیں۔ وہ تاریخِ اسلام کے وہ نایاب چراغ ہیں جن کی روشنی آج بھی فکر و عمل کی راہوں کو منور کرتی ہے۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
-
