- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1597 صحت107 تاریخ3267طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1618 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
حضرت علی کا تعارف
حضرت علی ابن ابی طالبؑ (599ء – 661ء) اسلامی تاریخ کی ایک درخشاں، ہمہ جہت اور بے مثال شخصیت ہیں۔ وہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے چچا زاد بھائی، داماد، اور پہلے نوجوان مرد تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ حضرت علیؑ شیعہ مسلمانوں کے پہلے امام اور خلیفہ ہیں، جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک خلافتِ راشدہ کے چوتھے خلیفہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے بچپن ہی سے حضور اکرم ﷺ کی سرپرستی میں تربیت پائی اور دین، حکمت، عدل، زہد، اور قیادت کے اعلیٰ مدارج حاصل کیے۔ انہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں نہ صرف عسکری میدانوں میں بہادری کے جوہر دکھائے بلکہ علم و حکمت کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ حضرت علیؑ کو اسلامی دنیا میں ’’باب العلم‘‘ (علم کا دروازہ) کہا جاتا ہے۔ ان کی علمی میراث نہ صرف دینیات بلکہ فلسفہ، فقہ، اخلاقیات، اور سیاست جیسے موضوعات پر محیط ہے۔ ان کے اقوال، خطوط، اور خطبات کو ’’نہج البلاغہ‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا گیا، جو عربی ادب اور اسلامی فکر کا شاہکار شمار ہوتا ہے۔ اس کتاب میں موجود ان کے کلام میں فصاحت، بلاغت، گہرائی، اور روحانیت کی جھلک نمایاں ہے۔
حضرت علیؑ عربی ادب کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی نثر فکری عمق اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے خطبات میں موضوعاتی تنوع، اظہار کی بلاغت، اور معانی کی تہ داری نظر آتی ہے۔ ان کے اقوالِ زرّیں دنیا بھر میں حکمت و دانائی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری بھی ادبی سرمایہ ہے، جس میں اخلاقی تعلیمات، دنیا کی بے ثباتی، اور معرفتِ الٰہی کی جھلک ملتی ہے۔ اگرچہ حضرت علیؑ کو زیادہ تر نثر نگاری اور خطابت سے یاد کیا جاتا ہے، مگر ان کے منسوب چند اشعار عربی کلاسیکی شاعری کا حصہ بن چکے ہیں۔
حضرت علیؑ نے ادب کو محض زبان کا کھیل نہیں سمجھا، بلکہ اسے فکر و فلسفہ اور روحانیت کا وسیلہ بنایا۔ ان کی نثر میں قرآنی اسلوب کی چھاپ، اور ان کی فکری ژرف نگاہی نے بعد کے صوفیانہ اور فلسفیانہ ادب کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
حضرت علیؑ کی شہادت 661ء میں مسجد کوفہ میں نمازِ فجر کے دوران ہوئی۔ ان کا مزار نجف اشرف (عراق) میں واقع ہے، جو آج بھی علم و روحانیت کے متلاشیوں کا مرکز ہے۔ حضرت علیؑ کی ذات میں ایک عظیم سپہ سالار، عادل حکمران، زاہد انسان، صاحبِ علم مفسر، اور فصیح و بلیغ ادیب کی خوبیاں یکجا تھیں۔ وہ تاریخِ اسلام کے وہ نایاب چراغ ہیں جن کی روشنی آج بھی فکر و عمل کی راہوں کو منور کرتی ہے۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
