- کتاب فہرست 180334
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1564 صحت104 تاریخ3264طنز و مزاح595 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6483افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2005نصابی کتاب425 ترجمہ4200خواتین کی تحریریں5758-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4859
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ہما فلک کے افسانے
حسرت
اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی ہوا کی ایک سرد لہر نے ان کا استقبال کیا۔ اکا دکا لوگ آ جا رہے تھے اس لئے ستیشن والی تنہائی کا احساس وہاں نہیں تھا،ایک طرف چائے کا کھوکھا تھا، لڑکے نے دو کپ چائے لی اور ذرا پرے سٹریٹ لائٹ کے نیچے پڑے بینچ پر دونوں بیٹھ گئے۔ بینچ
اگر
’’سیمی ایک کپ چائے تو بنا دو۔ پلیز‘‘ ’’اس وقت؟ یہ کون سا وقت ہے چائے پینے کا ؟ رات کو نیند بھی نہیں آئےگی۔‘‘ سیمی جو کہ پوری طرح ناول میں گم تھی اسے یہ بے وقت کی راگنی بہت کھلی۔ ’’میرا ابھی موڈ ہے چائے پینے کا تو کیا اب میں صبح کا انتظار کروں؟‘‘ ’’افوہ۔۔۔
ایوارڈ
تالیوں کی گونج میں وہ سٹیج کی طرف بڑھی۔ آج اس کے لئے بہت بڑا دن تھا۔ اس کی خوشی کی انتہانہ تھی اور خوش ہوتی بھی کیوں نہیں آج وہ اپنی ایک نظم کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ کی حقدار قرار پائی تھی۔ یہ اسکا دیرینہ خواب تھا، جو آج پورا ہونے جا رہا
وقت سے پرے
اونچی اونچی عمارتوں کے درمیان چلتے ہوئے وہ خود کو بہت بونا سا محسوس کرتا۔ اس نے ہوش سنبھالتے ہی ان عمارتوں، ان راستوں کو دیکھا تھا ان کے درمیان لاتعداد بار گزرا اتنی بار کہ اسے لگنے لگا تھا جہاں جہاں اس کے قدم پڑے ہیں وہاں تو گڑھے بن جانے چاہئیں تھے۔
زنجیریں
وہ چلتا جا رہا تھا۔ سفر کہاں سے شروع ہوا، اسے یاد تھا کہاں ختم ہوگا وہ نہیں جانتا تھا۔ بچپن کی کچھ دھندلی یادیں تھیں۔ باپ کا سخت گیر رویہ اور منہ پر دوپٹہ رکھ کر سسکتی ہوئی ماں __جواسے جب الماریاں الٹا کر پیسے نکالتے دیکھتی تو چیل کی طرح جھپٹ پڑتی،
ہلدی والی
سردیوں کی تعطیلات کی وجہ سے کچھ مہمان میری طرف آ رہے تھے۔۔۔ مہمانوں کی تواضح میں کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے اس بات کا میں خاص خیال رکھتی تھی۔ اس مقصد کے لئے میں دو تین دن پہلے ہی تیاری شروع کر دیتی اور ہر معمولی سی بات کا بھی خیال رکھتی۔ میری اتنی محنت
تلاش
وہ بہت ہنستی تھی۔ بات بات پر کھلکھلا کر ہنستی۔ میری عادت ہے کہ میں کسی سے بہت جلد گھلتی ملتی نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے دن کا بڑا حصہ اس کے ساتھ گزرتا تھا۔ تو پہلے روز سے ہی اس کی خوش مزاجی نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ کچھ ہی دنوں میں اجنبیت
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
