Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Iffat Mohani's Photo'

عفت موہانی

1934 - 2005 | حیدر آباد, انڈیا

مقبول ناول نگار

مقبول ناول نگار

عفت موہانی کا تعارف

تخلص : 'عفت موہانی'

اصلی نام : سیدہ خورشید سلطانہ

پیدائش : 25 Jul 1934 | حیدر آباد, تلنگانہ

وفات : 16 Nov 2005 | حیدر آباد, تلنگانہ

شناخت: مقبول ناول نگار، افسانہ نگار اور معاشرتی موضوعات کی نمائندہ قلم کار

عفت موہانی (اصل نام: سیدہ خورشید سلطانہ) 25 جولائی 1934ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے بی۔اے، ایم۔اے اور بی۔ایڈ کی اسناد امتیازی کامیابی کے ساتھ حاصل کیں۔ بچپن ہی سے ان میں ادبی ذوق موجود تھا اور محض آٹھ برس کی عمر میں ان کی کہانیاں بچوں کے صفحے پر شائع ہونے لگیں۔

عفت موہانی کی تحریروں میں اخلاقی، سماجی، نفسیاتی اور معاشرتی مسائل نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کے ناولوں کا مرکزی موضوع عورت ہے، بالخصوص وہ عورت جو روایت، خاندان اور سماج کے دباؤ میں اپنی خواہشات اور فیصلوں سے محروم ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاں عورت محض مظلوم کردار نہیں بلکہ ایک پیچیدہ، حساس اور باوقار انسان کے طور پر سامنے آتی ہے۔

ان کا پہلا ناول ’’ستم کے سہارے‘‘ (1971ء) ہے، جو ماہنامہ حریم میں قسط وار شائع ہوا اور بعد ازاں کتابی صورت میں منظرِ عام پر آیا۔

عفت موہانی کے ناولوں میں طوائف، بیوی، ماں، سوتیلی ماں اور سماج کی ٹھکرائی ہوئی عورت جیسے مختلف نسوانی روپ پوری فن کاری کے ساتھ پیش ہوئے ہیں۔ وہ عورت کی آزادی کی حامی تھیں، مگر مغربی یا بے مہار آزاد خیالی کی قائل نہیں تھیں۔ ان کے نزدیک عورت کی آزادی اخلاق، شرافت اور وقار کے دائرے میں ہونی چاہیے۔

عفت موہانی نے 1971ء سے 1995ء کے دوران تقریباً 85 سے زائد ناول تحریر کیے، اور مجموعی طور پر ان کے ناولوں کی تعداد سو کے قریب بتائی جاتی ہے۔ ان کے زیادہ تر ناول نسیم بک ڈپو، لکھنو سے شائع ہوئے۔

وفات: عفت موہانی کا انتقال 16 نومبر 2005ء کو حیدرآباد میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے