Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ilyas Sitapuri's Photo'

الیاس سیتا پوری

1934 - 2003 | کراچی, پاکستان

تاریخی فکشن نگار

تاریخی فکشن نگار

الیاس سیتا پوری کا تعارف

تخلص : 'الیاس سیتا پوری'

اصلی نام : محمد الیاس خان

پیدائش : 30 Oct 1934 | سیتا پور, اتر پردیش

وفات : 01 Oct 2003 | کراچی, سندھ

رشتہ داروں : ضیاء تسنیم بلگرامی (اہلیہ)

شناخت: معروف تاریخی ناول نگار

الیاس سیتا پوری نامور تاریخی فکشن نگار تھے جنہوں نے اردو ڈائجسٹ ادب میں تاریخی کہانیوں کو غیر معمولی مقبولیت دی۔ وہ خصوصاً سبرنگ ڈائجسٹ اور سسپنس ڈائجسٹ کے لیے اپنی تاریخی داستانوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔

الیاس سیتا پوری کا اصل نام محمد الیاس خان تھا۔ وہ 30 اکتوبر 1934 کو ہندوستان کے شہر سیتاپور، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان یوسف زئی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو مغل بادشاہ شاہجہان کے دور میں سیتاپور آ کر آباد ہوا تھا۔ 1952 میں وہ پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں مقیم ہوگئے۔

انہوں نے ادبی سفر کا آغاز بچوں کی کہانیوں سے کیا۔ صرف 16 برس کی عمر میں اپنا پہلا ناول “شکر” لکھا۔ پاکستان آنے کے بعد ابتدا میں ادبی جدوجہد کا سامنا رہا اور مختلف اشاعتی اداروں میں کام کیا۔ 1970 میں ان کا تعارف سبرنگ ڈائجسٹ کے مدیر شکیل عادل زادہ سے ہوا، جس کے بعد ان کی پہلی تاریخی کہانی “خانِ اعظم کا تحفہ” جنوری 1971 میں شائع ہوئی۔ 1974 تک سبرنگ سے وابستہ رہے، پھر جنوری 1975 سے سسپنس ڈائجسٹ کے مستقل قلم کار بن گئے اور آخری وقت تک لکھتے رہے۔ ان کی کتابیں دہلی کے شمع بک ڈپو سے بھی شائع ہوئیں۔

وہ تاریخی حقائق کو افسانوی کرداروں اور جاندار منظر نگاری کے ساتھ اس طرح پیش کرتے کہ قاری خود کو ماضی کے دور میں چلتا پھرتا محسوس کرتا۔ انسانی نفسیات اور جذبات کی عکاسی ان کی تحریروں کا خاصہ تھی۔

ان کی اہلیہ ضیاء تسنیم بلگرامی خود بھی اسلامی سوانح لکھتی تھیں۔ ان کی پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ ان کی بیٹی زنوبیہ فنِ اداکاری اور صحافت سے وابستہ ہیں۔

ان کی مشہور تصانیف میں داستانِ حور، سکندرِ اعظم، چنگیز خان، تیمور لنگ، تاج محل، حرم سرا، بالا خانے کی دلہن، راگ کا بدن، آشنا پرست سمیت درجنوں تاریخی ناول شامل ہیں۔

وفات: 1 اکتوبر 2003 کو کراچی میں انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے