- کتاب فہرست 180347
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1360 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1680 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4264 سیاسی350 مذہبیات4763 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1578
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
الیاس سیتا پوری کا تعارف
تخلص : 'الیاس سیتا پوری'
اصلی نام : محمد الیاس خان
پیدائش : 30 Oct 1934 | سیتا پور, اتر پردیش
وفات : 01 Oct 2003 | کراچی, سندھ
رشتہ داروں : ضیاء تسنیم بلگرامی (اہلیہ)
شناخت: معروف تاریخی ناول نگار
الیاس سیتا پوری نامور تاریخی فکشن نگار تھے جنہوں نے اردو ڈائجسٹ ادب میں تاریخی کہانیوں کو غیر معمولی مقبولیت دی۔ وہ خصوصاً سبرنگ ڈائجسٹ اور سسپنس ڈائجسٹ کے لیے اپنی تاریخی داستانوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
الیاس سیتا پوری کا اصل نام محمد الیاس خان تھا۔ وہ 30 اکتوبر 1934 کو ہندوستان کے شہر سیتاپور، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان یوسف زئی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو مغل بادشاہ شاہجہان کے دور میں سیتاپور آ کر آباد ہوا تھا۔ 1952 میں وہ پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں مقیم ہوگئے۔
انہوں نے ادبی سفر کا آغاز بچوں کی کہانیوں سے کیا۔ صرف 16 برس کی عمر میں اپنا پہلا ناول “شکر” لکھا۔ پاکستان آنے کے بعد ابتدا میں ادبی جدوجہد کا سامنا رہا اور مختلف اشاعتی اداروں میں کام کیا۔ 1970 میں ان کا تعارف سبرنگ ڈائجسٹ کے مدیر شکیل عادل زادہ سے ہوا، جس کے بعد ان کی پہلی تاریخی کہانی “خانِ اعظم کا تحفہ” جنوری 1971 میں شائع ہوئی۔ 1974 تک سبرنگ سے وابستہ رہے، پھر جنوری 1975 سے سسپنس ڈائجسٹ کے مستقل قلم کار بن گئے اور آخری وقت تک لکھتے رہے۔ ان کی کتابیں دہلی کے شمع بک ڈپو سے بھی شائع ہوئیں۔
وہ تاریخی حقائق کو افسانوی کرداروں اور جاندار منظر نگاری کے ساتھ اس طرح پیش کرتے کہ قاری خود کو ماضی کے دور میں چلتا پھرتا محسوس کرتا۔ انسانی نفسیات اور جذبات کی عکاسی ان کی تحریروں کا خاصہ تھی۔
ان کی اہلیہ ضیاء تسنیم بلگرامی خود بھی اسلامی سوانح لکھتی تھیں۔ ان کی پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ ان کی بیٹی زنوبیہ فنِ اداکاری اور صحافت سے وابستہ ہیں۔
ان کی مشہور تصانیف میں داستانِ حور، سکندرِ اعظم، چنگیز خان، تیمور لنگ، تاج محل، حرم سرا، بالا خانے کی دلہن، راگ کا بدن، آشنا پرست سمیت درجنوں تاریخی ناول شامل ہیں۔
وفات: 1 اکتوبر 2003 کو کراچی میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Ilyas_Sitapuri
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
