- کتاب فہرست 180696
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3344طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4276 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6699افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
امام بخاری کا تعارف
شناخت: امام المحدثین، صحیح بخاری کے مؤلف اور علمِ حدیث کے سب سے جلیل القدر ائمہ میں شمار ہونے والے عظیم محدث
امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری 810ء (13 شوال 194ھ) کو بخارا میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک علمی اور دیندار خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد اسماعیل بن ابراہیم خود ممتاز محدث اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ کم عمری ہی میں والد کے انتقال کے بعد آپ کی تربیت والدہ نے کی، جن کی دینداری اور شب بیداری مشہور تھی۔
امام بخاری نے بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت اور حافظے کا مظاہرہ کیا اور کم عمری میں حدیث کے حفظ و درس کا آغاز کر دیا۔ بعد ازاں علمِ حدیث کے حصول کے لیے بخارا، نیشاپور، بغداد، مکہ، مدینہ، مصر، شام اور دیگر علمی مراکز کے طویل اسفار کیے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے علم حاصل کیا، جن میں امام احمد بن حنبل، علی بن المدینی، یحییٰ بن معین اور اسحاق بن راہویہ جیسے اکابر شامل ہیں۔
امام بخاری کا سب سے بڑا علمی کارنامہ الجامع الصحیح ہے، جو عام طور پر صحیح بخاری کے نام سے معروف ہے۔ یہ حدیثِ نبوی کی وہ مستند ترین کتاب مانی جاتی ہے جسے امتِ مسلمہ میں قرآنِ کریم کے بعد سب سے زیادہ صحیح اور معتبر مقام حاصل ہے۔ امام بخاری نے چھ لاکھ احادیث کے ذخیرے میں سے نہایت سخت معیار پر پرکھ کر اس کتاب کے لیے احادیث منتخب کیں۔ اس عظیم تصنیف کی تکمیل میں سولہ سال صرف ہوئے۔
آپ صرف محدث ہی نہیں بلکہ صاحبِ اجتہاد فقیہ بھی تھے۔ اگرچہ فقہی اعتبار سے آپ پر امام شافعی کے اثرات نمایاں ہیں، تاہم بہت سے مسائل میں آپ نے مستقل رائے اختیار کی۔ صحیح بخاری کے ابواب ان کے فقہی استنباط اور اجتہادی بصیرت کے آئینہ دار سمجھے جاتے ہیں۔
صحیح بخاری کے علاوہ آپ کی دیگر اہم تصانیف میں الادب المفرد، التاریخ الکبیر، التاریخ الاوسط، التاریخ الصغیر، خلق افعال العباد اور رفع الیدین شامل ہیں۔
وفات: 870ء (یکم شوال 256ھ) کو خرتنگ، قریب سمرقند میں انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار آج بھی اہلِ علم و عقیدت کے لیے مرجع ہے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_al-Bukhari
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
