- کتاب فہرست 180800
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
ڈرامہ919 تعلیم343 مضامين و خاكه1378 قصہ / داستان1588 صحت105 تاریخ3274طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1703 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4295 سیاسی354 مذہبیات4753 تحقیق و تنقید6592افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2036نصابی کتاب449 ترجمہ4246خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد53
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت582
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
امام بخاری کا تعارف
شناخت: امام المحدثین، صحیح بخاری کے مؤلف اور علمِ حدیث کے سب سے جلیل القدر ائمہ میں شمار ہونے والے عظیم محدث
امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری 810ء (13 شوال 194ھ) کو بخارا میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک علمی اور دیندار خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد اسماعیل بن ابراہیم خود ممتاز محدث اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ کم عمری ہی میں والد کے انتقال کے بعد آپ کی تربیت والدہ نے کی، جن کی دینداری اور شب بیداری مشہور تھی۔
امام بخاری نے بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت اور حافظے کا مظاہرہ کیا اور کم عمری میں حدیث کے حفظ و درس کا آغاز کر دیا۔ بعد ازاں علمِ حدیث کے حصول کے لیے بخارا، نیشاپور، بغداد، مکہ، مدینہ، مصر، شام اور دیگر علمی مراکز کے طویل اسفار کیے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے علم حاصل کیا، جن میں امام احمد بن حنبل، علی بن المدینی، یحییٰ بن معین اور اسحاق بن راہویہ جیسے اکابر شامل ہیں۔
امام بخاری کا سب سے بڑا علمی کارنامہ الجامع الصحیح ہے، جو عام طور پر صحیح بخاری کے نام سے معروف ہے۔ یہ حدیثِ نبوی کی وہ مستند ترین کتاب مانی جاتی ہے جسے امتِ مسلمہ میں قرآنِ کریم کے بعد سب سے زیادہ صحیح اور معتبر مقام حاصل ہے۔ امام بخاری نے چھ لاکھ احادیث کے ذخیرے میں سے نہایت سخت معیار پر پرکھ کر اس کتاب کے لیے احادیث منتخب کیں۔ اس عظیم تصنیف کی تکمیل میں سولہ سال صرف ہوئے۔
آپ صرف محدث ہی نہیں بلکہ صاحبِ اجتہاد فقیہ بھی تھے۔ اگرچہ فقہی اعتبار سے آپ پر امام شافعی کے اثرات نمایاں ہیں، تاہم بہت سے مسائل میں آپ نے مستقل رائے اختیار کی۔ صحیح بخاری کے ابواب ان کے فقہی استنباط اور اجتہادی بصیرت کے آئینہ دار سمجھے جاتے ہیں۔
صحیح بخاری کے علاوہ آپ کی دیگر اہم تصانیف میں الادب المفرد، التاریخ الکبیر، التاریخ الاوسط، التاریخ الصغیر، خلق افعال العباد اور رفع الیدین شامل ہیں۔
وفات: 870ء (یکم شوال 256ھ) کو خرتنگ، قریب سمرقند میں انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار آج بھی اہلِ علم و عقیدت کے لیے مرجع ہے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_al-Bukhari
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1984
-
