- کتاب فہرست 182658
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم347 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1608 صحت104 تاریخ3322طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1719 خطوط748
طرز زندگی30 طب985 تحریکات273 ناول4343 سیاسی354 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6635افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب453 ترجمہ4271خواتین کی تحریریں5820-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1293
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1270
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات582
- ماہیہ20
- مجموعہ4899
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت591
- نظم1218
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
امام بخاری کا تعارف
شناخت: امام المحدثین، صحیح بخاری کے مؤلف اور علمِ حدیث کے سب سے جلیل القدر ائمہ میں شمار ہونے والے عظیم محدث
امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری 810ء (13 شوال 194ھ) کو بخارا میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک علمی اور دیندار خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد اسماعیل بن ابراہیم خود ممتاز محدث اور امام مالک کے شاگرد تھے۔ کم عمری ہی میں والد کے انتقال کے بعد آپ کی تربیت والدہ نے کی، جن کی دینداری اور شب بیداری مشہور تھی۔
امام بخاری نے بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت اور حافظے کا مظاہرہ کیا اور کم عمری میں حدیث کے حفظ و درس کا آغاز کر دیا۔ بعد ازاں علمِ حدیث کے حصول کے لیے بخارا، نیشاپور، بغداد، مکہ، مدینہ، مصر، شام اور دیگر علمی مراکز کے طویل اسفار کیے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے علم حاصل کیا، جن میں امام احمد بن حنبل، علی بن المدینی، یحییٰ بن معین اور اسحاق بن راہویہ جیسے اکابر شامل ہیں۔
امام بخاری کا سب سے بڑا علمی کارنامہ الجامع الصحیح ہے، جو عام طور پر صحیح بخاری کے نام سے معروف ہے۔ یہ حدیثِ نبوی کی وہ مستند ترین کتاب مانی جاتی ہے جسے امتِ مسلمہ میں قرآنِ کریم کے بعد سب سے زیادہ صحیح اور معتبر مقام حاصل ہے۔ امام بخاری نے چھ لاکھ احادیث کے ذخیرے میں سے نہایت سخت معیار پر پرکھ کر اس کتاب کے لیے احادیث منتخب کیں۔ اس عظیم تصنیف کی تکمیل میں سولہ سال صرف ہوئے۔
آپ صرف محدث ہی نہیں بلکہ صاحبِ اجتہاد فقیہ بھی تھے۔ اگرچہ فقہی اعتبار سے آپ پر امام شافعی کے اثرات نمایاں ہیں، تاہم بہت سے مسائل میں آپ نے مستقل رائے اختیار کی۔ صحیح بخاری کے ابواب ان کے فقہی استنباط اور اجتہادی بصیرت کے آئینہ دار سمجھے جاتے ہیں۔
صحیح بخاری کے علاوہ آپ کی دیگر اہم تصانیف میں الادب المفرد، التاریخ الکبیر، التاریخ الاوسط، التاریخ الصغیر، خلق افعال العباد اور رفع الیدین شامل ہیں۔
وفات: 870ء (یکم شوال 256ھ) کو خرتنگ، قریب سمرقند میں انتقال فرمایا۔ آپ کا مزار آج بھی اہلِ علم و عقیدت کے لیے مرجع ہے۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_al-Bukhari
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
