امتیاز ساغر کا تعارف
ہیں گھر کی محافظ مری دہکی ہوئی آنکھیں
میں طاق میں رکھ آیا ہوں جلتی ہوئی آنکھیں
امتیاز احمد کا اصل نام امتیاز احمد خان تھا۔ ان کے والد کا نام محمد تابو خان تھا۔ امتیاز ساغر کی ولادت 11 جون 1949ء کو موضع امیرچک (مرچا)، دلدار نگر، اترپردیش میں ہوئی تھی۔ انھوں نے بی کام قائدِ اعظم کالج، ڈھاکا، بنگلہ دیش سے کیا کیونکہ 1957ء میں ہجرت کر کے وہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) شفٹ کر گئے تھے۔ دوسری ہجرت انھوں نے 1972ء میں کی اور بنگلہ دیش سے کراچی شفٹ کر گئے۔ کراچی میں ہی ان کی ملازمت یونائیٹیڈ بینک لمیٹیڈ، کراچی میں تھی۔ ان کی تین تصنیفات منظرِ عام پر آئیں۔ (1)صحرا کی ہوا(شعری مجموعہ)-1995، (2)کسی شام مجھ میں قیام کر (شعری مجموعہ)-2002ء، (3) نقشِ ہوا (نظموں کا مجموعہ)۔
اردو کے معروف ادیب، افسانہ نگار اور ممتاز شاعر شبنم رومانی کے مطابق ”تہذیبی اقدار سے گہری دلچسپی رکھنے والے گنتی کے چند نئے شاعروں میں امتیاز ساغر کا نام سرِ فہرست ہے۔ وہ نسلاً اور اصلاً پٹھان ہے اسی لیے اس کی شاعری میں بھی فیصلہ کن صداقت کا رنگ و آہنگ پایا جاتا ہے۔ وہ بنیادی طو پر شاعر ہے، سو نظم ہو یا غزل دونوں میدانوں میں کھلتے ہیں۔ اس کے مذاقِ شعری نے تغزل اور تفکر کے بین بین سفر کیا ہے اور وہ بہ یک وقت فرد و معاشرے کی داخلی اور خارجی کیفیات کا مبصر اور مصور ہے۔“
امتیاز ساغر کا انتقال 30 اگست 2017ء کو کراچی، پاکستان میں ہوا۔