Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Inayatullah Altamash's Photo'

عنایت اللہ التمش

1920 - 1999 | لاہور, پاکستان

مقبول تاریخی ناول نگار

مقبول تاریخی ناول نگار

عنایت اللہ التمش کا تعارف

تخلص : 'التمش'

اصلی نام : عنایت اللہ

پیدائش : 01 Nov 1920 | گوجر خان, پنجاب

وفات : 16 Nov 1999 | لاہور, پنجاب

شناخت: معروف تاریخی ناول نگار، جنگی وقائع نگار اور ماہنامہ 'حکایت' کے بانی مدیر

عنایت اللہ التمش یکم نومبر 1920ء کو گوجر خان، پوٹھوہار، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے ممتاز ادیب، صحافی، مدیر، افسانہ نگار، جنگی وقائع نگار اور تاریخی ناول نویس تھے، جنہوں نے اپنی تاریخی، جنگی اور سماجی تحریروں کے ذریعے اردو ادب میں منفرد مقام حاصل کیا۔

ابتدائی تعلیم گوجر خان میں حاصل کی اور 1936ء میں میٹرک کے بعد فوج میں بھرتی ہو گئے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران برما کے محاذ پر خدمات انجام دیں، جاپانیوں کے ہاتھوں جنگی قیدی بنے، پھر فرار ہو کر طویل عرصہ جنگلات اور ساحلی علاقوں میں سرگرداں رہے۔ بعد ازاں ملایا کی جنگِ آزادی میں بھی شریک ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وطن واپس آکر پاک فضائیہ سے وابستہ ہوئے۔

فوج سے سبکدوشی کے بعد صحافت اور ادب کو اپنا میدان بنایا۔ ابتدا میں 'سیارہ ڈائجسٹ' سے وابستہ رہے اور بعد میں اس کے مدیر بنے، تاہم اختلافات کے بعد انہوں نے ماہنامہ 'حکایت' کی بنیاد رکھی، جو بعد میں اردو کا نہایت مقبول ادبی و عوامی رسالہ ثابت ہوا۔

عنایت اللہ کو اصل شہرت پاک بھارت جنگ 1965ء اور 1971ء کے جنگی حالات پر مبنی اپنی چشم دید اور تجزیاتی تحریروں سے ملی۔ انہوں نے بطور جنگی وقائع نگار محاذِ جنگ پر جا کر سپاہیوں اور افسروں کی داستانیں قلم بند کیں۔ ان کی جنگی تصانیف 'بی آر بی بہتی رہے گی'، 'لاہور کی دہلیز پر' اور 'بدر سے باٹاپور تک' کو اس موضوع پر مقبول ترین کتب میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاریخی ناول نگاری میں بھی انہوں نے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ ان کے ناولوں میں تاریخ، مہم، جذبۂ حریت اور ملی شعور نمایاں عناصر کے طور پر موجود ہیں۔

عنایت اللہ نے قلمی ناموں کی ایک کہکشاں آباد کی، جس کے پیچھے ایک ہی ذہن کارفرما تھا۔ التمش، وقاص، احمد یار خان (جاسوسی کہانیاں)، صابر حسین راجپوت (شکاریات)، میم الف (نفسیات)۔

عنایت اللہ التمش نے تقریباً 100 کے قریب کتابیں لکھیں، جن میں سے 'داستان ایمان فروشوں کی' (صلیبی جنگوں کے پس منظر میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے عہد کی داستان) 'شمشیرِ بے نیام' (خالد بن ولید کی زندگی پر مبنی ناول) 'اور نیل بہتا رہا' (تاریخی ناول) اور 'حجاز کی آندھی' (تاریخی ناول) اپنے زمانے کی مقبول ترین کتابیں ہیں۔

وفات: 16 نومبر 1999ء کو انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے