- کتاب فہرست 178650
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب981 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6596افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1597
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4852
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عشرت لکھنوی کا تعارف
شناخت: اردو کے ممتاز شاعر، ماہرِ لغت و قواعد، اور تحفظِ اردو کے سرگرم رہنما
خواجہ محمد عبد الرؤف خان المعروف عشرت لکھنوی 19 جون 1868ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو زبان کے معروف شاعر، ادیب، ماہرِ لغت، محقق اور اردو کے تحفظ و فروغ کے لیے سرگرم رہنے والے اہم ادبی رہنما تھے۔ ان کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے صرف شاعری ہی نہیں کی بلکہ اردو زبان کی لسانی بنیادوں، قواعد، محاورات اور لغات کی تدوین میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
عشرت لکھنوی کا تعلق بلخ کے شاہی خاندان سے تھا۔ ان کے اجداد میں عبد الشکور خان دہلی سے فیض آباد آئے جہاں نواب شجاع الدولہ نے انہیں 'خان بہادر' کا خطاب اور الہ آباد کی قلعہ داری عطا کی۔ بعد ازاں یہ خاندان لکھنؤ منتقل ہو گیا۔ ان کے والد خواجہ محمد عبد الشکور نواب گنج (گونڈہ) کے تھانہ دار رہے تھے۔
ابتدائی تعلیم مولوی امید علی قدوائی سے حاصل کی، بعد ازاں اپنے ماموں مولوی مہدی حسن سے فارسی پڑھی اور کم عمری ہی میں فارسی زبان پر عبور حاصل کر لیا۔ عربی کی تعلیم مولوی فتح محمد لکھنوی اور مولوی فریاد حسین مراد آبادی سے حاصل کی۔ گھریلو ذمہ داریوں کے باعث رسمی تعلیم جلد منقطع ہوگئی، مگر ذاتی مطالعہ جاری رہا۔
شعر و سخن کا شوق پیدا ہوا تو انہوں نے شیخ محمد جان شاد سے اصلاح لی، جنہوں نے ان کی غیر معمولی استعداد دیکھ کر انہیں غزل گوئی کی اجازت دی۔ عشرت لکھنوی نے شاعری میں میر تقی میر کے سادہ، بامحاورہ اور پُرتاثیر اسلوب کو اپنا آئیڈیل بنایا اور فارسی آمیز پیچیدہ طرز سے اجتناب کیا۔ ان کے نزدیک اچھا شعر وہ تھا جو صاف، سلیس، معنویت سے بھرپور اور دل نشیں ہو۔
عشرت لکھنوی کی ادبی شخصیت محض شاعری تک محدود نہ تھی بلکہ وہ اردو لغت، قواعد اور محاورات کے ممتاز ماہر بھی تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے محاورات، افعال، مصادر، اسماء اور قواعد پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی نمایاں علمی و ادبی تصانیف میں اصلاحِ زبانِ اردو (متروک الفاظ اور درست محاورات پر مستند کتاب)، زبان دانی (قواعدِ صرف و نحو)، خم خانۂ عشرت (شعری مجموعہ)، لغاتِ اردو (متعدد جلدوں پر مشتمل لغت)، آبِ بقا (تذکرہ)، بیگموں کا دربار، ہندو شعرا، قواعدِ میر اور شاعری کی پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی اور پانچویں کتاب شامل ہیں؛ مؤخر الذکر سلسلہ پانچ حصوں پر مشتمل ہے جس میں فنِ شعر و شاعری کے اصول، فنی مباحث اور تکنیکی نکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
لکھنؤ میں اردو زبان کے تحفظ کے لیے قائم ہونے والی معروف ادبی تنظیم 'انجمن اصلاحِ سخن' کے وہ سیکریٹری رہے۔ اس پلیٹ فارم سے انہوں نے اردو زبان کے فروغ، اس کی صحتِ زبان اور محاوراتی معیار کے تحفظ کے لیے بھرپور کام کیا۔ اردو کے حق میں ان کے مضامین برصغیر کے متعدد اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے اور ان کی فکری کوششوں نے اردو کے فروغ کی تحریکوں کو تقویت دی۔
وفات: 9 جون 1940ء کو لکھنؤ میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D8%AA_%D9%84%DA%A9%DA%BE%D9%86%D9%88%DB%8C
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
