- کتاب فہرست 177592
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6602افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5833-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1599
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
جہاں آرا بیگم کا تعارف
جہاں آرا بیگم مغل بادشاہ شاہ جہاں اور ممتاز محل کی دختر اور اورنگ زیب کی بڑی بہن ہیں۔ جہاں آرا بیگم کی پیدائش 1614ء کو آگرہ میں ہوئی ۔ اورنگ زیب نے اسے “صاحباۃالزمانی“ کا لقب دیا تھا۔ جب ممتاز محل کی وفات 1631ء میں ہوئی تو اس وقت جہاں آرا کی عمر 17 سال کی تھی۔ اسے مغلیہ سلطنت کی شاہزادی کہا جانے لگا۔اپنے بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کے ساتھ اپنے شفیق والد محترم شاہ جہاں بادشاہ کی بھی دیکھ بھال اس نے اپنے سر لی۔ ممتاز محل نے اپنے 14ویں بچے کی تولید کے وقت انتقال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ممتاز محل کے نجی زروزیور کی قیمت اس دور میں ایک کروڑ روپئے تھی۔ شاہ جہاں نے اسے دو حصوں میں تقصیم کیا۔ ایک حصہ جہاں آرا کو اور دوسرا حصہ بچوں میں تقسیم کیا۔ شاہ جہاں اکثر اپنی بیٹی جہاں آرا سے رائے مشورے لیتا تھا۔ انتظامی امور میں اکثر جہاں آرا کا دخل بھی ہوا کرتا تھا۔ اپنی عزیز بیٹی کو شاہ جہاں صاحبات الزمانی، پادشاہ بیگم، بیگم صاحب جیسے القاب سے پکارا کرتا تھا۔ جہاں آرا کو اتنا اختیار بھی تھا کہ وہ اکثر قصر آگرہ سے باہر بھی جایا کرتی تھی۔ 1644ء میں جہاں آرا کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر ایک حادثہ ہوا جس میں جہاں آرا کے کپڑوں کو آگ لگ گئی اور وہ جھلس کر زخمی ہو گئیں۔ شاہ جہاں اس بات سے نہایت رنجیدہ ہوا اور انتظامی امور دوسروں کو سونپ کر اپنی بیٹی کی دیکھ بھال کرنے لگا۔ وہ اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کی زیارت پر بھی گیا۔ جب جہاں آرا ٹھیک ہوئیں توشاہ جہاں نے اسے قیمتی ہیرے جواہرات اور زیورات تحفے میں دیا اور سورت بندرگاہ سے آنے والی آمدنی کو بھی اس نے تحفے میں پیش کیا۔ جہاں آرا نے بعد میں اجمیر شریف کی زیارت بھی کی، جو اس کے جد امجد شہنشاہ اکبر کا طور تھا۔ جہاں آرا ملا بدخشی کی مرید تھی۔ انہوں نے اسے طریقہ قادریہ میں 1641ء میں مرید کیا۔ ملا بدخشی جہاں آرا سے اتنا متاثر تھے کہ اپنے بعد اس سلسلے کی ذمہ داری جہاں آرا کو سونپنا چاہا مگر صوفی طریقہ نے یہ اجازت نہ دی جس کی وجہ سے وہ چپ رہ گئے۔ جہاں آرا نے خواجہ معین الدین چشتی کی سوانح لکھی جس کا نام “مونس الارواح“ رکھا۔ اس طرح اس نے اپنے پیر و مرشد ملا بدخشی کی بھی سوانح لکھی جس کا نام “رسالہِ صاحِبیہ“ ہے۔ جہاں آرا کی تصنیف معین الدین چشتی کی سوانح اس دور کا ایک بڑا ادبی کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔ خواجہ بزرگ کے انتقال کے چار سو سال بعد اُن کی سوانح لکھنا ایک کمال تھا۔ جہاں آرا نے اجمیر شریف کی زیارت کے موقع پر خود کو فقیرہ او ایک صوفی خاتون کہا۔ جہاں آرا یہ کہا کرتی تھی کہ وہ خود اور اپنے بھائی دارا شکوہ دونوں ہی تیموری خاندان کے وہ افراد ہیں جنہوں نے صوفی طریقہ اپنایا ہے۔ جہاں آرا نے صوفی طریقوں کی پاسبانی کی۔ باالخصوص اس نےصوفی ادب کی ترتیب میں کافی دلچسپی لی۔ اس نے کلاسیکی ادب اور صوفی ادب کے ترجمات میں کافی دلچسپی لی۔ اس نے 1681ء میں دہلی میں وفات پائی۔ جہاں آرا کی تدفین خواجہ نظام الدین اولیا کی درگاہ کے قریب ہوئی۔ اس کے مزار پر کتبہ لکھا ہوا ہے جو ان کی سادہ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
