- کتاب فہرست 189004
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1557 قصہ / داستان1793 صحت110 تاریخ3629طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1977 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5053 سیاسی377 مذہبیات5059 تحقیق و تنقید7440افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2303نصابی کتاب564 ترجمہ4620خواتین کی تحریریں6303-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1413
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1682
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ21
- مجموعہ5426
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1327
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
جمشید کا تعارف
جمشید (پورا نام، محمد جمشید)
جائے پیدائش: نگینہ، بجنور، یوپی
سال پیدائش: 1958
تعلیم: ایم اے، الہ آباد یونیورسٹی (گولڈ میڈلسٹ)
ایک سال الہ آباد یونیورسٹی میں لیکچرار رہے اور پھر سول سروس میں،
ممبر انڈین ریلوے بورڈ اور حکومت ہند کے سکریٹری کے طور پر ریٹائرڈ،
فی الحال مرکزی انتظامی ٹریبونل کے رکن،
بنیادی طور پر جمشید انگریزی ادب کے طالب علم رہے ہیں۔ جدید اور کلاسیکی انگریزی شاعری سے گہری وابستگی۔ اردو میں فیض، فراق، ساحر، کیفی، حبیب جالب، منیر نیازی وغیرہ اور ہندی میں دشینت کمار، رام دھاری سنگھ دنکر وغیرہ ان کے زیر مطالعہ رہے ہیں۔
جمشید ایک شوقیہ شاعر و ادیب اور پیشے کے لحاظ سے سول سرونٹ ہیں۔ اپنے تجربات کی روشنی میں زندگی کی سچی حقیقتوں کو دیکھنے اور بیان کرنے کی کوششیں ان کی تخلیقات میں صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک طرح کی روانگی ہے جو انسانی جذبات کے اظہار میں حد درجہ معاون ہے۔ ہندوستانی عام بول چال کی زبان ان کی تخلیقات کا خاصہ ہے۔
جمشید کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی کتاب 'سیاہی' جو 2018 میں شائع ہوئی اور دوسری کتاب 'ہائیکو' 2022 میں۔
'سیاہی' نظموں، غزلوں، گیتوں اور ہائیکو کا مجموعہ ہے۔ 'سیاہی' میں شامل کلام موجودہ دور کے اہم مسائل کا حقیقی آئینہ دار ہے۔
دوسری کتاب 'ہائیکو' ہے۔ اس کتاب میں ایک ہزار ہائیکو ہیں، جو ایک ہزار احساسات اور سینکڑوں سوالات، جوابات، معاہدوں، امیدوں، اقدار اور انسانی سوچ کے فلسفوں کا اظہار ہیں۔ زندگی کا شاید ہی کوئی اہم پہلو ان سے اچھوتا رہا ہو۔
ہائیکو جاپانی طرز سخن سے مشابہ، چھوٹی بحرکی مختصر نظم جو صرف تین مصرعوں پرمشتمل ہوتی ہے۔ اس نظم میں ایک خیال مکمل کرنا ہوتا ہے جس میں ردیف و قافیے کی قید نہیں ہوتی۔ اس طرز سخن کو اردو اور ہندی میں زیادہ پذیرائی نہیں ملی، لیکن جب وقت بدلتا ہے تو اس کے ساتھ ہر چیز بدلتی ہے۔ انسانی فکر کے زاویئے بدلتے ہیں، خیالات اور رجحانات بدلتے ہیں۔ آج کا دور تیز رفتار سوشل میڈیا کا دور ہے، وقت کی تنگی ہر کوئی محسوس کرتا ہے، کچھ کہنے کے لیے چند الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں، اسی لیے یہ مختصر ظرز سخن آج کے دور سے بالکل ہم آہنگ ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2089
-
