- کتاب فہرست 177111
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1380 قصہ / داستان1582 صحت105 تاریخ3278طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1706 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی355 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6602افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5833-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات580
- ماہیہ20
- مجموعہ4854
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
جمشید کا تعارف
جمشید (پورا نام، محمد جمشید)
جائے پیدائش: نگینہ، بجنور، یوپی
سال پیدائش: 1958
تعلیم: ایم اے، الہ آباد یونیورسٹی (گولڈ میڈلسٹ)
ایک سال الہ آباد یونیورسٹی میں لیکچرار رہے اور پھر سول سروس میں،
ممبر انڈین ریلوے بورڈ اور حکومت ہند کے سکریٹری کے طور پر ریٹائرڈ،
فی الحال مرکزی انتظامی ٹریبونل کے رکن،
بنیادی طور پر جمشید انگریزی ادب کے طالب علم رہے ہیں۔ جدید اور کلاسیکی انگریزی شاعری سے گہری وابستگی۔ اردو میں فیض، فراق، ساحر، کیفی، حبیب جالب، منیر نیازی وغیرہ اور ہندی میں دشینت کمار، رام دھاری سنگھ دنکر وغیرہ ان کے زیر مطالعہ رہے ہیں۔
جمشید ایک شوقیہ شاعر و ادیب اور پیشے کے لحاظ سے سول سرونٹ ہیں۔ اپنے تجربات کی روشنی میں زندگی کی سچی حقیقتوں کو دیکھنے اور بیان کرنے کی کوششیں ان کی تخلیقات میں صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک طرح کی روانگی ہے جو انسانی جذبات کے اظہار میں حد درجہ معاون ہے۔ ہندوستانی عام بول چال کی زبان ان کی تخلیقات کا خاصہ ہے۔
جمشید کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی کتاب 'سیاہی' جو 2018 میں شائع ہوئی اور دوسری کتاب 'ہائیکو' 2022 میں۔
'سیاہی' نظموں، غزلوں، گیتوں اور ہائیکو کا مجموعہ ہے۔ 'سیاہی' میں شامل کلام موجودہ دور کے اہم مسائل کا حقیقی آئینہ دار ہے۔
دوسری کتاب 'ہائیکو' ہے۔ اس کتاب میں ایک ہزار ہائیکو ہیں، جو ایک ہزار احساسات اور سینکڑوں سوالات، جوابات، معاہدوں، امیدوں، اقدار اور انسانی سوچ کے فلسفوں کا اظہار ہیں۔ زندگی کا شاید ہی کوئی اہم پہلو ان سے اچھوتا رہا ہو۔
ہائیکو جاپانی طرز سخن سے مشابہ، چھوٹی بحرکی مختصر نظم جو صرف تین مصرعوں پرمشتمل ہوتی ہے۔ اس نظم میں ایک خیال مکمل کرنا ہوتا ہے جس میں ردیف و قافیے کی قید نہیں ہوتی۔ اس طرز سخن کو اردو اور ہندی میں زیادہ پذیرائی نہیں ملی، لیکن جب وقت بدلتا ہے تو اس کے ساتھ ہر چیز بدلتی ہے۔ انسانی فکر کے زاویئے بدلتے ہیں، خیالات اور رجحانات بدلتے ہیں۔ آج کا دور تیز رفتار سوشل میڈیا کا دور ہے، وقت کی تنگی ہر کوئی محسوس کرتا ہے، کچھ کہنے کے لیے چند الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں، اسی لیے یہ مختصر ظرز سخن آج کے دور سے بالکل ہم آہنگ ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
