- کتاب فہرست 180840
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1571 صحت104 تاریخ3289طنز و مزاح598 صحافت200 زبان و ادب1697 خطوط738
طرز زندگی30 طب973 تحریکات270 ناول4268 سیاسی351 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6527افسانہ2669 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب434 ترجمہ4221خواتین کی تحریریں5770-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1257
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1587
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
جمنا داس اختر کا تعارف
شناخت: صحافی، ناول نگار، مزدور رہنما اور پاک و ہند دوستی کے علمبردار
جمنا داس اختر 2 نومبر 1916ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بھگوان داس چھبر بھائی متی داس کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور سرکاری ملازم تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سناتن دھرم ہائی اسکول اور بعد ازاں ڈی اے وی کالج، راولپنڈی سے حاصل کی۔
ان کا صحافتی سفر 1931ء میں روزنامہ ’’بندے ماترم‘‘ (لاہور) کی راولپنڈی نمائندگی سے شروع ہوا۔ بعد ازاں وہ ’’سناتن دھرم پرچارک‘‘ (امرتسر)، ’’ارجن‘‘ (امرتسر)، ’’ویر بھارت‘‘ (لاہور)، ’’میلاپ‘‘ (لاہور)، ’’دیو بھارت‘‘ اور دیگر اہم اخبارات سے وابستہ رہے۔ 1946ء سے 1947ء تک وہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ ’’جے ہند‘‘ کے چیف ایڈیٹر رہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد دہلی منتقل ہوئے اور وہاں بھی ’’جے ہند‘‘ کی اشاعت جاری رکھی۔ انہوں نے ’’سویرا‘‘ اور روزنامہ ’’تیج‘‘ (دہلی) میں بھی خدمات انجام دیں اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت میں پارٹ ٹائم لیکچرار بھی رہے۔ ان کے مضامین اور کالم روزنامہ نوائے وقت، جنگ، ڈیلی نیوز اور میگ سمیت پاکستان کے متعدد اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔
1947ء کے فسادات کے دوران انہوں نے انسانی ہمدردی اور جرات کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ دہلی میں ہزاروں اغوا شدہ مسلم لڑکیوں کی بازیابی میں کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان کے دورے کے دوران لاہور، شیخوپورہ، لائل پور (فیصل آباد)، جھنگ اور بندر کوٹ سے ہندو اور سکھ لڑکیوں کو بازیاب کرایا۔ پاک و ہند دوستی کے فروغ کے لیے انہوں نے ’’انڈو پاک پریم سبھا‘‘ قائم کی اور سماجی خدمات کے تحت عصمت فروشی کے اڈوں سے تقریباً دو ہزار لڑکیوں کو رہائی دلانے میں بھی کامیاب رہے۔
صحافت کے ساتھ ساتھ وہ مزدور تحریک سے بھی وابستہ رہے۔ 1948ء سے 1968ء تک آل انڈیا پوسٹ مین یونین کے جنرل سیکریٹری رہے اور مختلف قومی فیڈریشنوں میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ 1968ء میں پنجاب کے گورنر نے انہیں سبارڈینیٹ سروسز سلیکشن بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا، مگر انہوں نے بدعنوانی کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی اور بورڈ کے خاتمے کی سفارش کر دی۔ بعد ازاں وہ پنجاب حکومت کی مختلف مشاورتی کمیٹیوں سے وابستہ رہے۔
جمنا داس اختر اردو، ہندی اور انگریزی کے ناول نگار بھی تھے۔ ان کی تصانیف میں تقریباً تین درجن ناول، سیاسی اور تاریخی کتابیں شامل ہیں۔ ان کے ناول ’’آنسو‘‘ کو چار زبانوں میں شائع ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، جبکہ ’’آگ‘‘ بھی ان کی معروف تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیاست پر انگریزی میں ان کی اہم کتابوں میں Political Conspiracies in Pakistan، Pak Espionage in India اور The Saga of Bangladesh شامل ہیں۔
قدیم تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے ان کی گہری دلچسپی تھی۔ اسی شوق کے تحت انہوں نے لندن، برمنگھم، پیرس، برلن، واشنگٹن اور بغداد کے عجائب گھروں اور کتب خانوں سے چار ہزار سال پرانے مخطوطات اور تاریخی دستاویزات کی نقول حاصل کیں۔ وہ امبیڈکر ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور آرکیالوجیکل سوسائٹی کے لائف ممبر بھی رہے۔
ان کی ادبی، صحافتی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں دہلی اردو اکادمی، پنجاب کے بھاشا وبھاگ اور میر اکادمی لکھنؤ سمیت مختلف اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا۔
وفات: جمنا داس اختر کا انتقال 2009ء میں دہلی میں ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
-
