- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
جرجی زیدان کا تعارف
پیدائش : 14 Dec 1861
وفات : 21 Jul 1914 | مصر
شناخت: تاریخی ناول نگار، مورخ، بلند پایہ صحافی، ماہرِ لسانیات اور عرب قوم پرستی کے اولین نظریہ سازوں میں شامل
جرجی زیدان 14 دسمبر 1861ء کو بیروت (لبنان) میں ایک متوسط عیسائی (آرتھوڈوکس) خاندان میں پیدا ہوئے۔ نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1881ء میں 'سیرین پروٹسٹنٹ کالج' (موجودہ امریکن یونیورسٹی آف بیروت) میں طب کے طالب علم بنے، تاہم ڈارون ازم سے متعلق ایک تنازع اور احتجاج کے نتیجے میں وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر قاہرہ منتقل ہو گئے، جو اس وقت عرب دانشوروں کا مرکز تھا۔ وہ "النہضہ" (عرب بیداری) کی تحریک کے ایک اہم ستون مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 1892ء میں مشہورِ زمانہ رسالہ "الہلال" جاری کیا، جس کا مقصد عام عرب آبادی کو ان کی اپنی تاریخ سے روشناس کرانا تھا۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے تاریخ، فلسفہ، لسانیات اور سماجیات جیسے موضوعات پر گراں قدر کام کیا اور دنیا کی کئی مشہور شخصیات بشمول چارلی چیپلن اور صدر روزویلٹ کے انٹرویوز کیے۔
ادبی میدان میں جرجی زیدان کی سب سے بڑی خدمت تاریخی ناول نگاری کا آغاز ہے۔ انہوں نے کل 23 تاریخی ناول لکھے جو اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار پر مبنی تھے۔ ان کے ناولوں کی خاص بات تاریخی صحت (Historical Accuracy) تھی، جس کے لیے وہ فٹ نوٹس اور مستند حوالہ جات کا استعمال کرتے تھے۔ ان کا مقصد محض کہانی سنانا نہیں بلکہ سادہ اور سہل زبان میں تاریخ کی تعلیم دینا تھا تاکہ مطالعہ صرف اشرافیہ تک محدود نہ رہے۔ ان کی کتاب "تاریخ التمدن الاسلامی" (History of Islamic Civilization) اسلامی تہذیب پر ایک تنقیدی اور سیکولر مطالعہ پیش کرتی ہے، جو اپنے وقت میں کافی متنازع بھی رہی۔ ان کی علمی شہرت کا عالم یہ تھا کہ ان کا رسالہ "الہلال" ایران، بھارت، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ تک پڑھا جاتا تھا۔
وہ انفرادی محنت اور خود اعتمادی کے قائل تھے اور سیموئیل اسمائلز کی کتاب 'Self-Help' سے بے حد متاثر تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ عرب دنیا کی ترقی کے لیے سیاسی آزادی سے پہلے اصلاحِ معاشرہ اور تعلیم لازمی ہے۔ اگرچہ 1910ء میں انہیں قاہرہ یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ کی پروفیسری کی پیشکش ہوئی، مگر قدامت پسند حلقوں کی مخالفت کی بنا پر وہ اس عہدے پر کام نہ کر سکے۔ تاہم، ان کی تحریروں نے طہٰ حسین اور نجیب محفوظ جیسے ادبی بڑے ناموں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
وفات: 21 جولائی 1914ء کو قاہرہ (مصر) میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Jurji_Zaydan
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
