- کتاب فہرست 182677
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم346 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1606 صحت105 تاریخ3310طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1719 خطوط748
طرز زندگی30 طب985 تحریکات273 ناول4333 سیاسی355 مذہبیات4785 تحقیق و تنقید6636افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل109 تصوف2043نصابی کتاب452 ترجمہ4267خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1290
- دوہا50
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4891
- مرثیہ387
- مثنوی750
- مسدس44
- نعت589
- نظم1218
- دیگر84
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
کہکشاں پروین کا تعارف
کہکشاں پروین کی ولادت مغربی بنگال کے پرولیا شہر میں 26 فروری 1958ء کو ہوئی، ان کے والد کا نام سید مسعودالدین ہے۔ سید مسعود الدین کے جد سید سعید ایران کے مقدس شہر مشہد سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے اور پرولیا کو اپنا مسکن بنایا تھا۔ کہکشاں پروین کی ابتدائی تعلیم پرولیا میں ہی ہوئی۔ بی اے اردو آنرس رانچی ویمنس کالج سے کیا۔ رانچی یونیورسٹی سے انھوں نے اردو میں ایم اے کیا۔ پروفیسر شان احمد صدیقی کی نگرانی میں تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے تحقیقی مقالے کا موضوع '”صالحہ عابد حسین بحیثیت ناول نگار“ تھا۔ انھوں نے پروفیسر وہاب اشرفی کی نگرانی میں ”منٹو اور بیدی کا تقابلی مطالعہ“ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر رانچی یونیورسٹی سے ہی ڈی لٹ کی سند حاصل کی۔ کہکشاں کی شادی معروف صحافی اور قلمکار سید اختر حسین آفتاب کے فرزند سید حسین فاطمی سے ہوئی۔ رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہونے سے پہلے وہ بوکارو مہیلا کالج اور ڈورنڈو کالج سے وابستہ تھیں۔ کہکشاں پروین 28 فروری2023 کو رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی سربراہ کے عہدے سے سبکدوش ہوئی تھیں۔
کہکشاں پرین کی تصنیفات کی تعداد اس طرح ہے۔ پانچ افسانوی مجموعے اس طرح ہیں۔ (1)ایک مٹھی دھوپ (1986)، (2)دھوپ کا سفر (1990)، (3)سرخ لکیریں (1998)، (4)پانی کا چاند (2009)، (5)مور کے پاؤں(2019)،
پانچ تنقیدی تصانیف اور ایک شعری مجموعہ اس طرح ہیں۔ (1)صالحہ عابد حسین بحیثیت ناول نگار (1991)، (2)منٹو اور واجدہ تبسم کے نسوانی کردار کا نفسیاتی تجزیہ (2022)، (3)شیشۂ افکار(2015)، (4)نظریۂ ادب (2016)، (5)کیا رشتہ ہے میرا (نظموں کا مجموعہ) 2010ء
معروف مضمون نگار محمد مکمل حسین کا قلم کہکشاں پروین سے متعلق اس طرح رقم طراز ہے۔
”کہکشاںپروین نے جہاں افسانہ نگاری اور تحقیق وتنقید میں اپنا مقام بلند کیا ہے وہیں نثری نظموں میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان کا اکلوتا شعری مجموعہ ’کیا رشتہ ہے میرا؟‘ کے نام سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی سے سال2010میں اردو اورہندی دونوں رسم الخط میں شائع ہوا ہے ۔ کتاب کا انتساب شاعرہ نے اپنے بھائی سید شکیل احمدکے نام معنون کیا ہے، جس کو موصوفہ نے اپنی مرحومہ امی کے خوابوں کا مرکز قراردیاہے۔پوری کتاب نثری نظموں پر مشتمل ہے۔ نظموں کے عنوانات کچھ اس طرح سے ہیں۔ کیارشتہ ہے میرا؟، بدھیا زندہ ہے، لمحوں کا کرب، خواب اک آئینہ، تلاش مسلسل، یادوں کی دھوپ، رہگزر، کسک۔ اس کے علاوہ د و صفحات پر اپنی باتیں کے عنوان سے پیش لفظ ہے۔ کہکشاں پروین نے شعری مجموعے میں اپنی شاعری کے حوالے سے لکھاہے:
’’میری شاعری میرے جذبات کے اظہار کا ایک ذریعۂ محض ہے۔ مجھے احساس ہے کہ شاعری کی زمین صاف چٹیل میدان کی طرح سیدھی اورہموار نہیں ہوتی ہے۔یہاں کچھ قیودہیں، کچھ بندزنجیریں ہیں جو قدموں کو تنگ کرتی ہیں۔ میرے الفاظ اورمیری شاعری (جو کہہ لیجے)میں آشیانے کاتنکا تنکا سمیٹ کر رکھنے کا ایک جذبہ ہے۔ خوشی اورغم کے تصادم میں پل پل زخمی ہوتی مسکراہٹوں کا بیان ہے۔‘‘
کہکشاں پروین کا انتقال 17 جون 2024 کو رانچی میں ہوا۔موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں90
ادب اطفال1990
-
