Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Kahkeshan Parveen's Photo'

کہکشاں پروین

1958 - 2024 | کولکاتا, انڈیا

اردو کی ممتاز افسانہ نگار، نقاد اور محقق ،افسانہ، تحقیق، تنقید اور نثری نظم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں

اردو کی ممتاز افسانہ نگار، نقاد اور محقق ،افسانہ، تحقیق، تنقید اور نثری نظم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں

کہکشاں پروین کا تعارف

اصلی نام : کہکشاں پروین

پیدائش : 26 Feb 1958 | مغربی بنگال

وفات : 17 Jun 2024 | رانچی, جھارکھنڈ

کہکشاں پروین کی ولادت مغربی بنگال کے پرولیا شہر میں 26 فروری 1958ء کو ہوئی، ان کے والد کا نام سید مسعودالدین ہے۔ سید مسعود الدین کے جد سید سعید ایران کے مقدس شہر مشہد سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے اور پرولیا کو اپنا مسکن بنایا تھا۔ کہکشاں پروین کی ابتدائی تعلیم پرولیا میں ہی ہوئی۔ بی اے اردو آنرس رانچی ویمنس کالج سے کیا۔ رانچی یونیورسٹی سے انھوں نے اردو میں ایم اے کیا۔ پروفیسر شان احمد صدیقی کی نگرانی میں تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے تحقیقی مقالے کا موضوع '”صالحہ عابد حسین بحیثیت ناول نگار“ تھا۔ انھوں نے پروفیسر وہاب اشرفی کی نگرانی میں ”منٹو اور بیدی کا تقابلی مطالعہ“ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر رانچی یونیورسٹی سے ہی ڈی لٹ کی سند حاصل کی۔ کہکشاں کی شادی معروف صحافی اور قلمکار سید اختر حسین آفتاب کے فرزند سید حسین فاطمی سے ہوئی۔ رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہونے سے پہلے وہ بوکارو مہیلا کالج اور ڈورنڈو کالج سے وابستہ تھیں۔ کہکشاں پروین 28 فروری2023 کو رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی سربراہ کے عہدے سے سبکدوش ہوئی تھیں۔ 

کہکشاں پرین کی تصنیفات کی تعداد اس طرح ہے۔ پانچ افسانوی مجموعے اس طرح ہیں۔ (1)ایک مٹھی دھوپ (1986)، (2)دھوپ کا سفر (1990)، (3)سرخ لکیریں (1998)، (4)پانی کا چاند (2009)، (5)مور کے پاؤں(2019)، 

پانچ تنقیدی تصانیف اور ایک شعری مجموعہ اس طرح ہیں۔ (1)صالحہ عابد حسین بحیثیت ناول نگار (1991)، (2)منٹو اور واجدہ تبسم کے نسوانی کردار کا نفسیاتی تجزیہ (2022)، (3)شیشۂ افکار(2015)، (4)نظریۂ ادب (2016)، (5)کیا رشتہ ہے میرا (نظموں کا مجموعہ) 2010ء

معروف مضمون نگار محمد مکمل حسین کا قلم کہکشاں پروین سے متعلق اس طرح رقم طراز ہے۔
”کہکشاںپروین نے جہاں افسانہ نگاری اور تحقیق وتنقید میں اپنا مقام بلند کیا ہے وہیں نثری نظموں میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان کا اکلوتا شعری مجموعہ ’کیا رشتہ ہے میرا؟‘ کے نام سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی سے سال2010میں اردو اورہندی دونوں رسم الخط میں شائع ہوا ہے ۔ کتاب کا انتساب شاعرہ نے اپنے بھائی سید شکیل احمدکے نام معنون کیا ہے، جس کو موصوفہ نے اپنی مرحومہ امی کے خوابوں کا مرکز قراردیاہے۔پوری کتاب نثری نظموں پر مشتمل ہے۔ نظموں کے عنوانات کچھ اس طرح سے ہیں۔ کیارشتہ ہے میرا؟، بدھیا زندہ ہے، لمحوں کا کرب، خواب اک آئینہ، تلاش مسلسل، یادوں کی دھوپ،  رہگزر، کسک۔ اس کے علاوہ د و صفحات پر اپنی باتیں کے عنوان سے پیش لفظ ہے۔ کہکشاں پروین نے شعری مجموعے میں اپنی شاعری کے حوالے سے لکھاہے:
’’میری شاعری میرے جذبات کے اظہار کا ایک ذریعۂ محض ہے۔ مجھے احساس ہے کہ شاعری کی زمین صاف چٹیل میدان کی طرح سیدھی اورہموار نہیں ہوتی ہے۔یہاں کچھ قیودہیں، کچھ بندزنجیریں ہیں جو قدموں کو تنگ کرتی ہیں۔ میرے الفاظ اورمیری شاعری (جو کہہ لیجے)میں آشیانے کاتنکا تنکا سمیٹ کر رکھنے کا ایک جذبہ ہے۔ خوشی اورغم کے تصادم میں پل پل زخمی ہوتی مسکراہٹوں کا بیان ہے۔‘‘
کہکشاں پروین کا انتقال 17 جون 2024 کو رانچی میں ہوا۔

Recitation

بولیے