Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Kalidas's Photo'

کالی داس

سنسکرت کے مہاکوی اور ڈرامہ نگار، 'ابھگیان شاکنتلم' جیسے آفاقی شاہکار کے خالق

سنسکرت کے مہاکوی اور ڈرامہ نگار، 'ابھگیان شاکنتلم' جیسے آفاقی شاہکار کے خالق

کالی داس کا تعارف

شناخت: سنسکرت کے عظیم شاعر، عالمی شہرت یافتہ ڈرامہ نگار اور کلاسیکی ہندوستانی ادب کے نمائندہ تخلیق کار

کالیداس قدیم ہندوستان کے اُن عظیم ترین ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں جنہیں سنسکرت ادب کا درخشاں ترین ستارہ سمجھا جاتا ہے۔ انہیں ہندوستانی ادب کا "شیکسپیئر" بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں میں ہندوستان کی دیومالائی کہانیوں، فلسفے اور تہذیب و تمدن کی عکاسی ملتی ہے۔

کالیداس عموماً گپت عہد کے ممتاز شاعر اور ڈرامہ نگار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں، اگرچہ ان کے زمانۂ حیات کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض اہلِ تحقیق انہیں پہلی صدی قبل مسیح سے لے کر پانچویں صدی عیسوی کے درمیان کا ادیب قرار دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں مستند تاریخی معلومات محدود ہیں، تاہم یہ طے ہے کہ وہ کلاسیکی ہندوستانی تہذیب کے سب سے مؤثر ادبی نمائندوں میں سے تھے۔

کالیداس کا تعلق اجین سے بتایا جاتا ہے کیونکہ ان کی تحریروں میں اجین کے لیے خاص محبت جھلکتی ہے۔ اس کے علاوہ اتراکھنڈ کا گاؤں 'کویلتھا' اور بہار کا ضلع 'مدھوبنی' بھی ان کے مسکن کے طور پر مشہور ہیں۔

روایت ہے کہ کالی داس ابتدائی زندگی میں نہایت ناخواندہ اور بے وقوف تھے۔ جس ڈال پر بیٹھتے تھے اسی کو کاٹتے تھے۔ ان کی شادی نہایت عالمہ شہزادی ودیوتما سے ہوئی۔ ودیوتما نے شرط رکھی تھی کہ جو اسے علم و بحث (شاسترارتھ) میں ہرائے گا وہی اس کا شوہر بنے گا۔ کچھ حاسد علماء نے کالی داس کا بھیس بدل کر اشاروں کی زبان میں شہزادی کو شکست دلوائی۔

شادی کے بعد جب شہزادی کو کالی داس کی ناخواندگی کا پتہ چلا تو اس نے انہیں گھر سے نکال دیا۔ کالی داس نے دیوی من سے کالی دیوی کی ارادھنا کی اور ان کے فیض سے عظیم عالم اور شاعر بن کر لوٹے۔

کالیداس نے ہندوستانی اساطیر، مذہبی روایات اور فلسفیانہ تصورات کو اپنی تخلیقات کی بنیاد بنایا اور انہیں غیر معمولی شعری جمالیات کے ساتھ پیش کیا۔ ان کی تحریروں میں ہندوستانی تہذیب، اخلاقی اقدار، فطرت، عشق، حسن اور روحانی تصورات کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ اسی وجہ سے متعدد ناقدین انہیں ہندوستان کی قومی تہذیبی روح کا ترجمان شاعر قرار دیتے ہیں۔

سنسکرت ڈراما نگاری میں ان کا مقام بے مثال ہے۔ ان کے تین مشہور ڈرامے ابھجنان شاکنتلم، وکرموروشیئم اور مالویکاگنمترم ہیں۔ ان میں ابھجنان شاکنتلم ان کی شہرۂ آفاق تخلیق ہے جسے ہندوستانی ادب کے عظیم ترین ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ اولین ہندوستانی ادبی تصانیف میں سے ہے جس کا یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ اس ڈرامے نے عالمی ادبی دنیا میں کالیداس کو غیر معمولی شہرت دلائی۔

شاعری کے میدان میں ان کے دو عظیم رزمیہ اور دو معروف کھندکاوِیہ خاص طور پر اہم ہیں۔ رگھوونش میں رگھو خاندان کے بادشاہوں کی داستان بیان کی گئی ہے، جبکہ کمار سمبھوم میں شیو اور پاروتی کی داستانِ محبت اور کارتکیہ کی پیدائش کا بیان ہے۔ میگھ دوت کو ان کی تخیلاتی قوت اور فطرت نگاری کا شاہکار مانا جاتا ہے، جس میں ایک یکش اپنے بادل کو قاصد بنا کر محبوبہ تک پیغام بھیجتا ہے۔ رتو سنہار میں مختلف موسموں کے مناظر نہایت دلکش انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

کالیداس کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی فطرت نگاری، لطیف تشبیہات اور دل آویز اسلوب ہے۔ سنسکرت تنقید میں ان کی تشبیہوں کو مثالی حیثیت حاصل ہے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ “اُپما کالیداسسیہ” یعنی تشبیہ کے باب میں کالیداس اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی زبان سادہ مگر پُراثر، شستہ مگر آراستہ، اور شعری صنعتوں سے مزین ہونے کے باوجود نہایت رواں ہے۔

کالیداس کا اثر صرف سنسکرت ادب تک محدود نہیں رہا بلکہ ہندوستانی ڈراما، شاعری، تھیٹر، موسیقی اور جدید ہندوستانی زبانوں کے ادب پر بھی ان کے اثرات گہرے ہیں۔ ان کی تخلیقات صدیوں سے دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوتی رہی ہیں اور آج بھی عالمی ادب کے کلاسیکی سرمائے میں شامل ہیں۔

اہم تصانیف: ابھجنان شاکنتلم، وکرموروشیئم، مالویکاگنمترم، رگھوونش، کمار سمبھوم، میگھ دوت، رتو سنہار۔

موضوعات

Recitation

بولیے